اسلاف پر اعتماد سے عقائد کی حفاظت
عقیدہ کا لفظ عربی زبان کا ہے جوکہ عُقدہ سے مشتق ہے۔۔۔ عُقدہ اور عقد گرہ لگانے کو کہتے ہیں جو کسی ضروری بات کی طرف اشارہ کرتا ہے۔۔۔ ہمارے ہاں عَقد نکاح کا لفظ بولا جاتا ہے۔۔۔ اس کا معنی بھی یہی ہے کہ نکاح وہ مضبوط بندھن ہے جس کو ساری زندگی نبھانے کی غرض سے باندھا جاتا ہے۔۔۔ اسلام کے وہ نہایت ضروری نظریات جن پر اس کی عمارت کھڑی ہے ایسی نہایت ضروری باتوں کو جاننا اور ماننا عقیدہ کہلاتا ہے۔ عقیدہ و نظریہ کسی بھی مذہب کی وہ بنیاد اور اساس ہے جس پر وہ مذہب قائم ہے۔۔۔ اگر عقیدہ متزلزل یا مشکوک ہو جائے تو مذہب کی بنیادیں استوار نہیں رہتیں۔۔۔ اسلامی تعلیمات میں عقائد کی اہمیت تسلیم شدہ ہے۔۔۔ قرآن و سنت میں عقائد کی اصلاح و درستگی پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے۔۔۔ اعمال میں کمی و کوتاہی کا وہ نقصان نہیں جو عقیدہ کے کی خرابی سے ہوتا ہے۔
انسان کا عقیدہ جس قدر درست ہوگا اسی قدر اس کے اعمال بھی درست ہوں گے۔۔۔ عقائد کا درست ہونا کس قدر اہمیت کا حامل ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ کوئی شخص غلط عقیدہ کا ہو تو اس کے عقائد کی غلطی چھپی رہے ایسا ہو نہیں سکتا۔۔۔ بدعقیدہ شخص جس قدر بھی احتیاط کرلے اللہ تعالیٰ اس کے فساد عقیدہ کو ظاہر فرما دیتے ہیں اور اُمت اس کے بارے میں خبردار ہو جاتی ہے۔۔۔ نیز اللہ تعالیٰ انہی ارباب علم و فضل کا فیض جاری فرماتے ہیں جو عقائد و نظریات میں اہل السنۃ والجماعۃ کے عقائد پر کامل اطمینان اور یقین رکھتے ہیں اور خود کو ان عقائد کے تابع رکھتے ہیں۔۔۔
اگر کوئی شخص علم و معرفت میں کس قدر بلندی پر پہنچ جائے۔۔۔ خدانخواستہ اس کا عقیدہ خراب ہے تو اس قدر علم و معرفت کے باوجود نہ اس کے علم کا فیضان جاری ہوگا اور نہ لوگ اس سے استفادہ کرسکیں گے۔۔۔
حضرت مولانا حافظ ناصر الدین خاکوانی دامت برکاتہم نے اپنی ایک مجلس میں ذکر فرمایا کہ میں ایک مرتبہ اپنے ایک اُستاذ صاحب کے پاس گیا تو انہوں نے اپنے علاقہ کے ایک مزار کے بارے میں فرمایا کہ یہاں ایک بڑے صاحب علم دفن ہیں۔۔۔ یہ اس قدر صاحب کشف تھے کہ ان پر سابقہ انبیاء علیہم السلام کے صحیفے بذریعہ کشف ظاہر ہو جاتے تھے۔
انہوں نے بخاری شریف کے طرز پر 30 پاروں میں درُود شریف کے سینکڑوں کلمات پر مبنی کتاب لکھی تھی اور بتاتے تھے کہ فلاں صیغہ فلاں پیغمبر کے صحیفہ کا ہے اور فلاں صیغہ فلاں پیغمبر کے صیغہ کا ہے۔۔۔ اس قدر علم اور کشف کے باوجود ان کا فیض اس لیے جاری نہیں ہوا کہ وہ باقی تمام عقائد میں اہل سنت والجماعت کی اتباع کے باوجود محض ایک عقیدہ میں خرابی کا شکار تھے کہ وہ غیر صحابی کو بھی صحابی پر فضیلت دے دیتے تھے۔۔۔ حالانکہ صحابی کے درجے کو بڑا سے بڑے ولی، غوث و قطب بھی نہیں پہنچ سکتا۔
اندازہ فرمایئے کہ ہر ہر عقیدہ اپنی جگہ بڑی اہمیت کا حامل ہے۔۔۔
اہل سنت والجماعت ہونے کے ناطے ہمارے عقائد کیا ہوں۔۔۔ یہ ہمیں سیکھنے چاہئیں تاکہ ہم عقائد کی خرابی سے بچ سکیں کہ بے شک عقائد کی خرابی دین و دُنیا کا وہ نقصان ہے جس کی تلافی ممکن نہیں۔۔۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اہل سنت والجماعت کے عقائد کے مطابق اپنے نظریات اور اعمال کو درست کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔۔۔ آمین
