ریسرچ کی آڑ میں اَسلاف بیزاری
سرزمین پاکستان جن اہل علم و فضل کے انواروبرکات سے معمور ہے ۔۔۔ان میں ایک اہم دینی شخصیت مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ کی ہے۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے آپ سے جودینی خدمات لیں ۔۔۔ ان میں ’’معارف القرآن‘‘ کا حوالہ ہی کافی ہے ۔۔۔ ذیل میں آپ کی کتاب ’’مقام صحابہ‘‘ کے مقدمہ سے انتخاب دیا جارہا ہے جو عوام و خواص کے علاوہ جدید تعلیم یافتہ طبقہ کیلئے بھی نہایت اصلاح افروز ہے ۔۔۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دین کا صحیح فہم نصیب فرمائیں آمین
اس زمانے میں یورپ سے جو اچھی بُری چیزیں اسلامی ملکوں میں درآمد کر لی گئی ہیں اُن میں ہر چیز کی تحقیق و تنقید (ریسرچ) بھی ہے۔۔۔ تحقیق و تنقید فی نفسہ کوئی بُری چیز نہیں‘ خود قرآن کریم نے اس کی طرف دعوت دی ہے۔۔۔
سورئہ فرقان میں ’’عباد الرحمن‘‘ کے عنوان سے اللہ تعالیٰ کے صالح اور نیک بندوں کی جو صفات بیان فرمائی ہیں۔۔۔ ان میں سے ایک یہ بھی ہے:
’’وَالَّذِیْنَ اِذَا ذُکِّرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّھِمْ لَمْ یَخِرُّوْا عَلَیْھَا صُمًّا وَّعُمْیَانًا‘‘
یعنی اللہ کے یہ صالح اور نیک بندے آیات الٰہیہ پر اندھے بہروں کی طرح نہیں گر پڑتے۔۔۔ کہ بے تحقیق جس طرح اور جو چاہیں عمل کرنے لگیں۔۔۔ بلکہ خوب سمجھ بوجھ کر بصیرت کے ساتھ عمل کرتے ہیں۔۔۔
لیکن اسلام نے ہر چیز اور ہر کام کی کچھ حدود مقرر کی ہیں۔۔۔ ان کے دائرے میں رہ کر جو کام کیا جائے وہ مقبول ومفید سمجھا جاتا ہے۔۔۔ حدود و اصول کو توڑ کر جو کام کیا جائے وہ فساد قرار دیا جاتا ہے۔۔۔
تحقیق و تنقید میں سب سے پہلی بات تو اسلامی اُصول میں یہ پیش نظر رکھنی ہے۔۔۔ کہ اپنی توانائی اور وقت اُس چیز کی تحقیق پر صرف نہ کی جائے جس کا کوئی نفع دین یا دُنیا میں متوقع نہ ہو۔۔۔ خالی تحقیق برائے تحقیق اسلام میں ایک عبث اور فضول عمل ہے‘ جس سے پرہیز کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے بڑی تاکید فرمائی ہے۔۔۔ خصوصاً جبکہ کوئی ایسی تحقیق و تنقید ہو جس سے دُنیا میں فتنہ اور جھگڑے پیدا ہوں۔۔۔ یہ ایسی ہی تنقید ہوگی جیسے کوئی ’’لائق‘‘ بیٹا اس کی تحقیق اور ریسرچ میں لگ جائے کہ جس باپ کا بیٹا کہلاتا ہوں کیا واقعی میں اسی کا بیٹا ہوں؟
اور اس کے لیے والدہ محترمہ کی زندگی کے گوشوں پر ریسرچ و تحقیق کا زور خرچ کرے۔۔۔ دوسرے شخصیتوں پر جرم و تنقید کیلئے اسلام نے کچھ عادلانہ۔۔۔ حکیمانہ اصول اور حدود مقرر کیے ہیں ۔۔۔اور ان سے آزاد ہو کر جس کا جی چاہے۔۔۔ جو جی چاہے اور جس کے خلاف جی چاہے بولا یا لکھا کرے۔۔۔ اسکی اجازت نہیں دی۔۔۔
لیکن یورپ سے درآمد کی ہوئی ’’ریسرچ و تحقیق‘‘نام ہی بے قید اور آزاد تنقید کا ہے۔۔۔ ادب و احترام اور حدود کی رعایت اس میں ایک بے معنی چیز ہے۔۔۔افسوس ہے کہ اس زمانے کے بہت سے اہل قلم بھی اس نئے طرز تنقید سے متاثر ہوگئے۔۔۔
بغیر کسی دینی یا دنیوی ضرورت کے بڑی بڑی شخصیتوں کو آزاد جرح و تنقید کا ہدف بنا لینا ایک علمی خدمت اور محقق ہونے کی علامت سمجھی جانے لگی۔۔۔اَسلافِ اُمت اورآئمہ دین پر تو یہ مشقِ ستم بہت زمانے سے جاری تھی ۔۔۔اب بڑھتے بڑھتے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تک بھی پہنچ گئی۔۔۔ اپنے آپ کو اہل السنۃ و الجماعۃ کہنے والے بہت سے اہل قلم نے اپنی ریسرچ و تحقیق اور علمی توانائی کا بہترین مصرف ۔۔۔اسی کو قرار دے لیا ۔۔۔کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عظیم شخصیتوں پر جرح و تنقید کی مشق کی جاوے۔۔۔
بعض حضرات نے ایک طرف حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے بیٹے یزید کی تائید و حمایت کا نام لے کر حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور ان کی اولاد بلکہ پورے بنی ہاشم کو ہدف تنقید بنا ڈالا اور اُس میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ادب و احترام تو کیا ۔۔۔اِسلام کے عادلانہ اور حکیمانہ ضابطہ تنقید کی بھی ساری حدود و قیود کو توڑ ڈالا۔۔۔ اس کے بالمقابل دوسرے بعض حضرات نے قلم اٹھایا تو حضرت معاویہ اور عثمان غنی رضی اللہ عنہما اور ان کے ساتھیوں پر اِسی طرح کی جرح و تنقید سے کام لیا۔۔۔
نئی تعلیم پانے والے نوجوان جو علومِ دین اور آداب دِین سے ناواقف یورپ سے درآمد کی ہوئی نئی تہذیب کے دل دادہ ہیں۔۔۔ وہ اِن دونوں سے متاثر ہوئے اور اُن کے حلقوں میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر زبانِ طعن دراز ہونے لگی۔۔۔ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور امت مسلمہ کے درمیانی واسطہ ہیں۔۔۔ ان کو دنیا کے عام سیاسی لیڈروں کی صف میں دکھایا جانے لگا۔۔۔ جو اقتدار کی جنگ کرتے ہیں اور اپنے اپنے اقتدار کے لیے قوموں کو گمراہ اور تباہ کرتے ہیں۔۔۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر تبرا کرنے والا گمراہ فرقہ تو ایک خاص فرقے کی حیثیت سے جانا پہچانا جاتا ہے ۔۔۔عام مسلمان ان کی باتوں سے متاثر نہیں ہوتے۔۔۔ بلکہ نفرت کرتے ہیں۔۔۔ مگر اب یہ فتنہ خود اہل سنت و الجماعت کہلانے والے مسلمانوں میں پھوٹ پڑا۔۔۔اور یہ ظاہر ہے کہ خدانحواستہ اگر مسلمان ۔۔۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہی کے اعتماد کو کھو بیٹھے ۔۔۔تو پھر نہ قرآن پر اعتماد رہتا ہے ۔۔۔ نہ حدیث پر ۔۔۔ نہ دین اسلام کے کسی اصول پر ۔۔۔ اس کا نتیجہ کھلی بے دینی کے سوا کیا ہوسکتا ہے؟ (از مقدمہ کتاب مقام صحابہ ص ۸)
