خلافت ِ عثمانیہ کی بنیاد
ایک ترک تھا اس کا نام تھا عثمان۔ نیک تھا ، جذبہ اچھا رکھتا تھا۔ اس کو مہمان نوازی کا بڑا شوق تھا۔ جب کہیں مسافر مل جاتا یہ اس کو لا کر کھانا کھلاتا، گھر ٹھہراتا، اگلے دن رخصت کردیتا۔ جو اس کے گائوں والے تھے وہ سب ایک ہی فیملی کے لوگ تھے، ایک ہی قبیلہ تھا۔ وہ اجنبی لوگوں کا اپنے گائوں میں آنا پسند نہیں کرتے تھے۔ انہوں نے اس کو کہا کہ تم اجنبی لوگوں کو نہ لایا کرو۔ آخر گائوں ہے، عورتیں ہیں، بچیاں ہیں ہم نہیں چاہتے کہ کوئی پرایا بندہ یہاں آئے۔ اس کو جب بھی کوئی مہمان ملتا یہ اس کو گھر لے آتا۔ گائوں والوں نے مل کر مشورہ کیا کہ اس کو منع کریں۔ انہوں نے منع کردیا۔ پھر اس کو مہمان مل گیا اور یہ اس کو لے آیا۔ اب گائوں والوں نے مشورہ کیا کہ اگر اب یہ گائوں میں کسی اجنبی کو لایا تو ہم اس کی پٹائی بھی کریں گے اور گائوں سے بھی نکال دیں گے۔ چنانچہ کچھ دنوں کے بعد یہ پھر مہمان کو لے کر آ گیا۔ گائوں والوں نے مل کر اس نوجوان کی پٹائی بھی کی اور اس کو انہوں نے کہا کہ تم گائوں سے نکل جائو ورنہ تمہیں جان سے ماردیں گے۔ اب یہ بیچارا بڑا پریشان کہ جائوں تو کہاں جائوں۔ پریشانی میں پھر اپنے یاد آتے ہیں۔
اس کے شیخ کوئی پانچ سات کلو میٹر کے فاصلے پر ایک دوسرے گائوں میں رہتے تھے۔ یہ اپنے شیخ کے پاس چلا گیا کہ حضرت! میرے ساتھ تو یہ معاملہ پیش آیا ہے۔ انہوں نے کہا اچھا ایسے ہے کہ تم رات کو آرام کرو۔ صبح اٹھ کر اس بارے میں کچھ سوچیں گے، تجویز کریں گے۔
چنانچہ یہ عثمان مہمان خانے میں سو گیا۔ تہجد میں اٹھا اس نے نماز پڑھی۔ اس کا معمول تھا کہ یہ تہجد پڑھنے کے بعد قرآن مجید کی تلاوت کرتا تھا۔ اس نے ادھر ادھر قرآن مجید ڈھونڈا تو اس کو پتہ چلا کہ رات کو جدھر یہ پائوں کرکے سویا ہوا تھا اس سمت میں الماری تھی وہاں قرآن پڑا ہوا تھا۔ اوہو! یہ بڑا پریشان ہوا کہ ساری رات اس کی طرف میرے پائوں تھے۔ میں تو بے ادبی کا مرتکب ہوا۔ چنانچہ اس نے قرآن مجید کو اٹھایا ، چوما، اس کو آنکھوں سے لگایا، سینے سے لگایا اور اللہ سے معافیاں مانگنے لگا۔
اللہ! یہ تیرا کلام ہے اور اس کی طرف پائوں کرکے سویا رہا ہے بے ادبی کا مرتکب ہوا اللہ! میرے گناہ کو معاف کردے۔ ادھر یہ رورو کے معافیاں مانگ رہا ہے اور ادھر ان کے شیخ کو خواب کی حالت میں زیارت ہوئی اور کہا گیا کہ عثمان کو کہو یہاں سے نکلے، ہم اس کو دنیا میں عزتیں عطا فرمائیں گے۔
اسی دوران شیخ کمرے میں آئے۔ انہوں نے دیکھا عثمان قرآن مجید کو ہاتھ میں پکڑے رو رہا ہے۔ پوچھا عثمان! کیا کر رہے ہو؟ کہنے لگا: حضرت! میں بے ادبی کا مرتکب ہوتا رہا، ساری رات قرآن کی جانب پائوں کرکے لیٹا رہا۔ مجھے پتہ نہیں تھا۔ اب پتہ چلا تو اللہ سے معافیاں مانگ رہا ہوں۔ انہوں نے کہا: عثمان! مجھے اشارہ ہوا ہے کہ تم یہاں سے فوراً چلے جائو تمہیں اللہ تعالیٰ عزتیں دیں گے۔
وہ نوجوان روئے۔ حضرت! گائوں والوں نے بھی دھکے دے کر نکال دیا۔ اب آپ بھی یہاں سے رخصت کر رہے ہیں۔ شیخ نے کہا: تم یہاں رک نہیں سکتے۔ مجھے اشارہ ہوا ہے، نکلو یہاں سے جائو۔ زبردستی بھیج دیا۔
عثمان جب باہرنکلا تو اس کو دس پندرہ نوجوان مل گئے وہ اپنی زندگیاں دین کی خاطر وقف کر چکے تھے اور چاہتے تھے کہ ہمارا کوئی امیر ہو اور ان میں سے کوئی بننے کو تیار نہیں تھا۔ انہوں نے فیصلہ یہ کیا تھا کہ اچھا کل صبح جوبندہ سب سے پہلے شہر سے باہرآئے گا وہ ہمارا امیر ہو گا۔ انہوں نے عثمان کو دیکھا توکہا: جناب! آپ ہمارے امیر اور ہم مامور آپ ہمیں جو دین کا کام دیں گے ہم کریں گے۔ عثمان نے کہا بہت اچھا میں تو پہلے ہی تیار ہوں۔ چلو ہم چلتے ہیں۔
چنانچہ انہوں نے ایک طرف کو جانا شروع کردیا، اب جس گائوں میں یہ لوگ رکتے دوسرے لوگ دیکھتے کہ دس پندرہ نوجوان ہیں، خوبصورت چہرے، تقویٰ نظر آتا ہے۔ نیکی نظر آتی ہے وہ پوچھتے کہاں جا رہے ہو؟ یہ کہتے بس زندگیاںدین کے لئے وقف کردی ہیں۔ ہم اللہ کے دین کے لئے جا رہے ہیں تو ہر گائوں سے پانچ، سات نوجوان ان کے ساتھ ہو جاتے
وہ تو ایک جماعت بن گئی، کئی سو بلکہ ہزاروں کی۔ انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ فلاں جگہ کافروں کی سرحد ہے اور وہاں سے مسلمانوں کو کئی دفعہ مشکلات پیش آتی ہیں ہم وہاں جاتے ہیں۔ ہم عیسائیوں کو (اگر وہ حملہ کریں گے تو پھر) مزا چکھائیں گے۔ چنانچہ انہوں نے جہاد کی نیت سے وہاں جانا شروع کردیا۔
اللہ کی شان کہ جب یہ وہاں سے ابھی کچھ دور چند کلو میٹر کے فاصلے پر تھے تو اس ملک کے جو مخبر تھے انہوں نے دیکھ لیا۔ انہوں نے جا کر بادشاہ کو اطلاع دی۔ جناب! ایک ہزار کے قریب نوجوان ہیں سب بڑے جذبے والے، سب جان دینے والے ہیں اور وہ آ رہے ہیں اور آ کے ہو سکتا ہے وہ حملہ ہی کردیں۔ آپ کی فوج ان کے سامنے نہیں ٹھہر سکے گی۔ اس لئے بہتر ہے کہ اس کا کوئی بندوبست کرلیں۔
عیسائی بادشاہ بوڑھا تھا وہ خود یہ نہیں چاہتا تھا کہ کوئی ایسا معاملہ ہو۔ اس نے پیغام بھیجا کہ آپ ہمارے ساتھ صلح کرلیں۔ اور اگر آپ چاہتے ہیں تو میں اپنی بیٹی آپ کو نکاح میں پیش کر دیتا ہوں۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ میں اس وعدے پہ سچا ہوں، پکا ہوں۔ آپ ہمارے ساتھ جنگ نہ کریں، ہم حملہ نہیں کرتے۔ مشورہ کیا گیا۔ نوجوانوں نے کہا کہ آپ اس کو قبول کر لیں۔ چنانچہ بادشاہ کی جو بیٹی تھی وہ مسلمان ہوئی اور عثمان کے نکاح میں آ گئی۔ اب عثمان نے وہاں زندگی گزارنی شروع کردی۔ اللہ کی شان کہ بادشاہ کی ایک ہی بیٹی تھی اور اولاد نہیں تھی۔ چند دنوں بعد جب بادشاہ مرا تو پیچھے کسی کو اس کا نائب بنانا تھا تو لوگوں کو اس کے داماد سے بہتر کوئی نہ ملا چنانچہ لوگوں نے عثمان کو بادشاہ بنادیا۔ عثمان کو جب بادشاہت ملی تو اس نے سوچا کہ میں تو اپنے گھر سے نکلا ہوا، دھتکارا ہوا بندہ تھا۔ مجھے میرے شیخ نے کہا تھا کہ تم نے قرآن کی عزت کی ہے اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے تجھے عزتیں دیں گے۔ لہٰذا آج مجھے اللہ نے یہ شاہی عطا فرمائی۔ میں جو کچھ بنا قرآن کے صدقے بنا۔ میں قرآن کے حکم لاگو کروں گا۔ شریعت کے حکم کو لاگو کروں گا۔ چنانچہ عثمان نے شریعت کے لاگو کرنے کا فیصلہ کر لیا حتیٰ کہ عدالت کے اندر پہلے قرآن کو لے جایا جاتا تھا اور لوگ ادب کی وجہ سے کھڑے ہوتے تھے پھر بیٹھتے تھے۔ پھر قرآن کے مطابق فیصلے ہوتے تھے۔ پہلے قرآن مجید کو اٹھا کر لے جاتے پھر مجلس برخاست ہوتی تھی۔ یہ قرآن مجید کے احکام جو لاگو ہوئے تو اس کا نام خلافت عثمانیہ بنا۔ جو کئی سو سال تک اللہ کے حکموں کے مطابق زندگیوں کے گزارنے کا سبب بن گیا۔ ایک نوجوان جو اللہ کے قرآن کا ادب کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو دنیا میں خلافت قائم کرنے کا سبب بنا دیتا ہے۔(ج 29ص173)
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

