اطاعت ِ خداوندی کا انعام

اطاعت ِ خداوندی کا انعام

حجاج بن یوسف کا ایک بھتیجا واسق اپنے علاقے کا گورنر تھا۔ نوجوان تھا، خوبصورت تھا، مگر عیاش تھا۔ اس کو بڑا مان تھا کہ میں حجاج بن یوسف کا بھتیجا ہوں اورگورنر ہوں۔ چنانچہ اس نے اپنے آدمیوں کو کہا ہوا تھا کہ کہیں اگر تمہیں بہت خوبصورت عورت کا پتہ چلے تو تم مجھے اطلاع دو! جہاں اسے پتہ چلتا تو وہ حیلے بہانے سے کسی نہ کسی طرح اس کے ساتھ برائی کا مرتکب ہوتا تھا۔ ایک غریب گھر کی نوجوان لڑکی جسے اللہ نے شکل کی حور پری بنایا ہوا تھا، اس کے بارے میں پتہ چلا تو اس نے اپنے پیغامات بھیجنے شروع کردیے۔ اس نے انکار کردیا اس نے اس کی طرف تحفے تحائف بھیجنے شروع کردیئے اب دو فتنے ہوتے ہیں، ایک جمال کا فتنہ، ایک مال کا فتنہ، مرد لوگ جمال کے فتنے میں زیادہ پھنستے ہیں اور عورتیں مال کے فتنے میں زیادہ پھنستی ہیں اس کے پاس دونوں فتنے تھے۔ ایک عرصہ تک وہ اسے خفیہ طور پر پیغام پہنچاتا رہا۔ وہ آگے سے جواب دیتی کہ اگر تم مجھ سے ملاقات چاہتے ہو تو میرے بھائیوں سے بات کرو اور مجھے اپنے نکاح میں لے لو۔ یہ کہتا تھا کہ نہیں، میں ویسے ہی تم سے چھپی آشنائی چاہتا ہوں، وہ انکار کرتی۔ اب سوچئے یہ کتنا بڑا مجاہدہ ہے اس بچی کے لئے کہ وقت کا گورنر ہے، خوبصورت ہے، مال کی بہتات ہے، پانی کی طرح وہ مال بہا رہا ہے مگر یہ بچی اپنی جگہ عزم کا پہاڑ ہے، انکار کردیا۔
جب اس نے دیکھا کہ اس نے تنگ کرنے کی انتہا کردی، اس نے اپنی والدہ کو بتایا، اس نے اپنے بیٹوں کو بتادیا۔ ان کویقین نہ آئے کہ علاقے کا اتنا بڑا حاکم اور گورنر اور یہ پیغام بھیجتا ہے۔ اس نے ثبوت کے طور پربھائیوں کو وہ تحفے تحائف بھی دکھائے، بھائیوں کو پھر بھی ابھی تردد رہا۔ ایک دن اس بچی نے کہا کہ اس نے پیغام بھیجا ہے کہ آج رات وہ ہمارے گھر آئے گا۔ کیونکہ بھائیوں نے سفر پر جانا تھا لہٰذا وہ سفر پر جانے کی بجائے وہ قریب کے گھر میں چھپ گئے۔ یہ صاحب اپنے پروگرام کے مطابق رات کو آئے اور اس گھر میں داخل ہو گئے۔ اتنے میں بھائی بھی آ گئے۔ انہوں نے جوش میں آکر، غیرت میں آ کر اس کو وہیں پر قتل کردیا۔ صبح ہوئی تو اس لاش کے ٹکڑے کرکے انہوں نے بوری میں ڈالا اور جا کر حجاج کے سامنے پیش کردیا۔ یہ آپ کے بھتیجے وقت کے گورنر صاحب ہیں۔ حجاج بن یوسف نے تفتیش کی۔ جس سواری پرگیا تھا اس کو کنٹرول کرنے والا جو غلام تھا اس کو بھی بلایا،جو لڑکی نے کہا وہی بھائیوں نے کہا، وہی اس کے نوکر نے کہا، اس کو تصدیق ہو گئی کہ واقعی یہ لوگ اپنی بات میں سچے ہیں۔ حجاج بن یوسف کو اتنا غصہ آیا کہ اس نے کہا کہ میں اس کو دفن کرنے کے لئے نہیں بھیجوں گا، اس کی لاش کے ٹکڑوں کو کتوں کے آگے ڈلوا دوں گا۔ وقت کے گورنر کی لاش کو اس نے کتوں کے آگے ڈلوا دیا اور پھر اس نے کہا کہ آج میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ اس نے مال کے ذریعے تمہیں اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کی کہ تم غریب بچی تھی، اس کی جتنی جائیداد ہے میں اس کی جائیداد ساری کی ساری اس لڑکی کے حوالے کرتا ہوں۔
اب دیکھئے اگر یہ لڑکی مال کے اوپر فریفتہ ہوکے عزت گنوا بیٹھتی جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنا لیتی اور مال وہی ملنا تھا جو نصیب میں آنا تھا۔ اب اگر یہ پکی رہی تو اللہ نے عزت بھی رکھ لی، جو مال نصیب میں آنا تھا وہ مال بھی قدموں میں ڈال دیا۔ لیکن حلال طریقے سے۔ تو بندہ ذہن میں سوچ لے کہ مجھے اللہ رب العزت کے حکم کو نہیں توڑنا چاہئے۔ اس کے لئے مجھے کتنا ہی مجاہدہ کیوں نہ کرنا پڑے۔(ج 27ص156)

اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

Most Viewed Posts

Latest Posts

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا ہم ایک دفعہ رشیا گئے ، ماسکو میں ایک نوجوان ملا، اس سے بات ہوئی تو اس نے کہا کہ کلمہ پڑھایئے، ہم نے کلمہ پڑھا دیا اور وہ مسلمان بن گیا۔ اس نے کہا کہ میں بائیس گھنٹے کی مسافت سے آیا ہوں، ہمارا ایک کلب ہے ’’ پریذیڈنٹ کلب‘‘ جس میں پینتالیس مرد...

read more

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more