صرف آسائشیں مہیا کردینا کافی نہیں ہوتا (312)۔

صرف آسائشیں مہیا کردینا کافی نہیں ہوتا (312)۔

بیمار ماں وہیل چیئر پر بیٹھی، اپنے وسیع و عریض محل جیسے گھر میں زندگی گزار رہی تھی۔ اس گھر میں ہر طرح کی آسائشیں موجود تھیں۔ بہترین ڈاکٹرحضرات، مہارت یافتہ باورچی، تربیت یافتہ خادم جو اُس بوڑھی عورت کا خوب خیال رکھتے تھے، اور زندگی کی ہر سہولت اُس کے سامنے دسترس میں تھی۔
لیکن اِس سب کے باوجود، صبح ہوتے ہی وہ بوڑھی ماں اپنی وہیل چیئر کو بڑی مشکل سے کمرے سے باہر لاتی اور اپنے بیٹے کو دفتر جاتے ہوئے حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتی تھی۔
وہ ماں، جو بیماری کی شدت سے دن بھر بستر پر بے سُدھ پڑی رہتی تھی، بیٹے کے جانے کا منظر دیکھ کر بےچین ہو جاتی۔ لیکن بیٹا اس بات کو سمجھ نہ پاتاتھا۔
اُس نے دوتین بار ماں کے پاس بیٹھنے کی کوشش کی مگر اُسکو دیکھتے ہی ماں عجیب طور پر ہڑبڑانا شروع کردیتی ۔ وہ جلدی سے نوکروں کو بلا کر کہہ دیتا کہ ماں کی دماغی حالت ٹھیک نہیں، اس کا خیال رکھنا، اور پھر اپنے کاروبار میں مصروف ہو جاتا۔
آخرکار بیٹے نے ایک بڑے نفسیاتی ڈاکٹر کو بلایا اور ماں کی حالت کا مشاہدہ کروایا۔ جب ڈاکٹر نے دیکھا کہ جیسے ہی بیٹا سیڑھیوں سے نیچے اُترتاہے تو ماں شدت سے اُس کی جانب دیکھنے لگتی اور بے قراری کا شکار ہو جاتی۔ تو ڈاکٹر نے بوڑھی عورت کے دل میں ایک گہرا درد محسوس کرلیا۔اُسکی آنکھوں میں آنسو آگئے۔اوراُس نے نرمی سےبوڑھی عورت کے بیٹے کو سمجھایا: “بیٹا! تمہاری ماں کو اِن آسائشوں، نوکروں، اور محل نما گھر کی ضرورت نہیں ہے۔ اُس کا دل صرف تمہارے ساتھ کچھ وقت گزارنے کی خواہش رکھتا ہے۔ وہ چاہتی ہے کہ تم اُسکے قریب بیٹھو، اُس سے بات کرو، اُسے اپنائیت کا احساس دلاؤ۔”
بیٹے نے سن کر افسوس کے ساتھ کہا:۔
“ڈاکٹر صاحب، میرا کاروبار بہت بڑا ہے، میرے پاس ان سب کے لیے وقت نہیں۔ میں نے ہر طرح کی آسائشیں مہیا کی ہیں وہ کافی ہیں۔”
مگر حقیقت یہ ہےکہ دوستو!!!۔
اکثر ہمارے اپنےلوگ ….چاہے وہ والدین ہوں، اولادہوں،بیوی ہو یا کوئی بھی عزیزہو۔ وہ دوائیوں یا مہنگے علاج سے زیادہ ہماری توجہ اور محبت کے محتاج ہوتے ہیں۔ اُنہیں بس اتنا چاہیے ہوتا ہے کہ ہم اُن کے ساتھ کچھ پل گزاریں، اُن کے پاس بیٹھ جائیں اور اُن سے باتیں کریں۔
اُنہیں یہ یقین دلائیں کہ ہم اُن کے ساتھ ہیں، ہم اُن کی فکر کرتے ہیںاور اُن کی زندگی ہمارے لئےبہت قیمتی ہے۔
یاد رکھیں، ہر بیماری دوائی سے نہیں ٹھیک ہوتی، بعض اوقات مریض کو توجہ، دھیان، اپنائیت کا احساس اور کسی اپنے کا قریب ہونا بھی ٹھیک کردیتا ہے۔ یہ اُسکو نئی زندگی دیتا ہے اور ایسا کرشمہ کردیتا ہے جو میڈیکل سائنس میں کوئی دوائی بھی نہیں کرسکتی۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو رشتوں کی قدر کرنے کی توفیق عطافرمائیں۔ یقیناً صلہ رحمی ہمارے اسلام کا اہم جزو ہے اور بہت ساری فضیلتوں کا حامل یہ عمل ہے

نوٹ : یہ ’’آج کی بات‘‘ ایک بہت ہی مفید سلسلہ ہے جس میں حذیفہ محمد اسحاق کی طرف سے مشاھدات،خیالات اور تجربات پر مبنی ایک تحریر ہوتی ہے ۔ یہ تحریر ہماری ویب سائٹ
Visit https://readngrow.online/ for FREE Knowledge and Islamic spiritual development.
پر مستقل شائع ہوتی ہے ۔ ہر تحریر کے عنوان کے آگے ایک نمبر نمایاں ہوتا ہے ۔ جس اسکی قسط کو ظاہر کرتا ہے کہ یہ کون سی قسط ہے ۔ پچھلی قسطیں بھی ہماری ویب سائٹ پر دستیاب ہیں ۔ اگر کوئی پیغام یا نصیحت یا تحریر آپکو پسند آتی ہے تو شئیر ضرور کریں ۔ شکریہ ۔
مزید اپڈیٹس کے لئے ہمارے واٹس ایپ چینل کو ضرور فالو کریں
https://whatsapp.com/channel/0029Vb0Aaif4o7qSPFms4g1M

Most Viewed Posts

Latest Posts

ظاہری حال سے شیطان دھوکا نہ دے پائے (326)۔

ظاہری حال سے شیطان دھوکا نہ دے پائے (326) دوکلرک ایک ہی دفتر میں کام کیا کرتے تھے ایک بہت زیادہ لالچی اور پیسوں کا پجاری تھا۔ غلط کام کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتاتھا۔ جہاں کہیں خیانت اور بددیانتی کا موقع ہوتا تو بڑی صفائی سے اُسکا صاف ستھرا...

read more

استاذ اور شاگرد کے درمیان تعلق مضبوط کیسے ہوگا؟ (325)۔

استاذ اور شاگرد کے درمیان تعلق مضبوط کیسے ہوگا؟ (325)۔ مدرسہ استاذ اور شاگرد کے تعلق کانام ہے۔جہاں پر کوئی استاذ بیٹھ گیا اور اس کے گرد چند طلبہ جمع ہوگئے تو وہ اک مدرسہ بن گیا۔مدرسہ کا اصلی جوہر کسی شاندار عمارت یا پرکشش بلڈنگ میں نہیں، بلکہ طالبعلم اور استاد کے...

read more

خلیفہ مجاز بھی حدودوقیود کے پابند ہوتے ہیں (324)۔

خلیفہ مجاز بھی حدودوقیود کے پابند ہوتے ہیں (324)۔ خانقاہی نظام میں خلافت دینا ایک اصطلاح ہے۔ جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ صاحب نسبت بزرگ اپنے معتمد کو نسبت جاری کردیتے ہیں کہ میرے پاس جتنے بھی بزرگوں سے خلافت اور اجازت ہے وہ میں تمہیں دیتا ہوں ۔یہ ایک بہت ہی عام اور مشہور...

read more