حضرت جابر بن عبداللہ بن عمرو بن حرامؓ (311)۔
حضرت جابر بن عبد اللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی ساتھی اور ایک عظیم انصاری صحابی تھے۔ ان کا تعلق قبیلہ خزرج سے تھا اور ان کے والد حضرت عبد اللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہ غزوہ احد میں شہید ہوئے۔
ان کے حوالے سے روایات میں غزوہ بدر اور غزوہ احد کی مختلف تفصیلات ملتی ہیں۔ ایک روایت کے مطابق حضرت جابر رضی اللہ عنہ غزوہ بدر میں موجود تھے اور اپنے ساتھیوں کو پانی پہنچاتے تھے، جبکہ دوسری روایت میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ وہ نہ غزوہ بدر میں شریک ہو سکے اور نہ غزوہ احد میں، کیونکہ ان کے والد نے انہیں بہنوں کی دیکھ بھال کے لیے پیچھے رکھا تھا۔ جب حضرت جابر کے والد غزوہ احد میں شہید ہو گئے تو اس کے بعد حضرت جابر کسی بھی غزوہ سے پیچھے نہیں رہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلمکیساتھ تمام غزوات میں شریک ہوئے۔
حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے ساتھ “لیلۃ البعیر” کا واقعہ بہت مشہور ہے۔ اس واقعے میں حضرت جابر نے اپنا اونٹ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فروخت کیا تھا۔ واقعہ یوں ہے کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ ایک سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلمکے ساتھ تھے، انکا اونٹ بہت تھک چکا تھا اور چلنے کے قابل نہ تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلمنے حضرت جابر کے اونٹ کو دیکھا اور اپنی چھڑی سے اونٹ کو ٹھوکر لگائی اور دُعا فرمائی، جس کے بعد وہ اونٹ تیزی سے چلنے لگا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلمنے پھر حضرت جابر سے فرمایا: “تمہارا اونٹ اب کیسا ہے؟”۔
حضرت جابر نے کہا: “یا رسول اللہ!۔
۔آپ کی برکت سے اونٹ ٹھیک ہو گیا ہے۔”۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلمنے حضرت جابر سے اونٹ خریدنے کی خواہش ظاہر کی اور پوچھا:۔
۔”کیا تم یہ اُونٹ مجھے بیچ دو گے؟”۔
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ میرے پاس اس کے علاوہ کوئی اور سواری نہیں ہے، لیکن پھر بھی انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اونٹ فروخت کرنے کا ارادہ کرلیا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلممسلسل حضرت جابر کے لیے دعا کرتے رہے اور قیمت میں اضافہ کرتے رہے۔ حضرت جابر نے اونٹ کو ایک اوقیہ سونے کے بدلے بیچنے پر رضا مندی ظاہر کی، لیکن شرط یہ رکھی کہ وہ مدینہ تک اس اونٹ پر سوار رہیں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ شرط قبول فرمائی۔
جب وہ مدینہ پہنچے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ جابر کو اونٹ کی قیمت دے دیں اور اس میں کچھ اضافہ بھی کر دیں۔
حضرت جابر کو ان کی توقع سے زیادہ قیمت ملی اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلمنے وہ اونٹ بھی انہیں واپس کر دیا۔ حضرت جابر اس واقعے کو “لیلۃ البعیر” کے نام سے یاد کیاکرتے تھے اورکہتے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات ان کے لیے پچیس مرتبہ استغفار فرمایا تھا۔
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ ایک بڑے محدث اور صحابی تھے جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ 16 غزوات میں شرکت کی اور بے شمار احادیث روایت کیں۔ ان سے1540 احادیث مروی ہیں، جن میں سے 58 احادیث پر بخاری اور مسلم متفق ہیں۔
حضرت جابر کی وفات 94 سال کی عمر میں مدینہ میں 78 ہجری میں ہوئی اور ان کی نماز جنازہ مدینہ کے والی ابان بن عثمان نے پڑھائی۔
نوٹ : یہ ’’آج کی بات‘‘ ایک بہت ہی مفید سلسلہ ہے جس میں حذیفہ محمد اسحاق کی طرف سے مشاھدات،خیالات اور تجربات پر مبنی ایک تحریر ہوتی ہے ۔ یہ تحریر ہماری ویب سائٹ
Visit https://readngrow.online/ for FREE Knowledge and Islamic spiritual development.
پر مستقل شائع ہوتی ہے ۔ ہر تحریر کے عنوان کے آگے ایک نمبر نمایاں ہوتا ہے ۔ جس اسکی قسط کو ظاہر کرتا ہے کہ یہ کون سی قسط ہے ۔ پچھلی قسطیں بھی ہماری ویب سائٹ پر دستیاب ہیں ۔ اگر کوئی پیغام یا نصیحت یا تحریر آپکو پسند آتی ہے تو شئیر ضرور کریں ۔ شکریہ ۔
مزید اپڈیٹس کے لئے ہمارے واٹس ایپ چینل کو ضرور فالو کریں
https://whatsapp.com/channel/0029Vb0Aaif4o7qSPFms4g1M

