ہر مسجد میں نائب امام کا ہونا کیوں ضروری ہے؟ (212)۔
ہر مسجد میں امام کے ساتھ ایک نائب امام یا کم از کم ایسا متبادل شخص ہونا بے حد ضروری ہے جو امام صاحب کی غیر موجودگی میں ذمہ داری سنبھال سکے۔ کیونکہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ جب کبھی امام صاحب کو کسی ناگزیر کام یا بشری تقاضے کی وجہ سے چھٹی کرنی پڑ جائے تو مسجد میں ایک افراتفری کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے، کیونکہ ایسا کوئی فرد مقرر نہیں ہوتا جسے باقاعدہ نائب یا متبادل سمجھا جائے۔
بعض جگہوں پر صورتِ حال اس قدر بگڑ جاتی ہے کہ امام صاحب کی ایک دن کی چھٹی بھی بڑی مصیبت بن جاتی ہے۔ ایک واقعہ میں نے دیکھا کہ امام صاحب نے جائز طور پر چند دن کی رخصت لی کیونکہ ایک مہینہ بیت چکا تھا اور گھر جانا ان کے لیے ضروری تھا۔ اگلے دن فجر کی نماز میں ایک حافظ صاحب موجود تھے، لیکن مسجد کے متولی صاحب کی ان سے کسی پرانی رنجش کے باعث انھوں نے انھیں آگے نہ بڑھایا۔ اس کے بجائے متولی صاحب نے ایک ایسے لڑکے کو امام بنا دیا جو پورا حافظ بھی نہ تھا اور حفظِ قرآن کے ابتدائی اسباق کبھی پڑھے تھے۔ وہ لڑکا گھبراہٹ میں اس قدر مشوش ہوا کہ رکوع سے اٹھتے وقت اللہ اکبر کہہ دیا۔ پھر کھڑا کھڑا سوچنے لگا کہ اب سمع اللہ کہنا ہے یا یونہی سجدے میں چلے جانا ہے۔ دوسری رکعت بھی اسی طرح مکمل ہوئی کہ پڑھنے والوں اور پڑھانے والوں کو کچھ پتہ نہیں تھا۔سلام پھرنے کے بعد مسجد میں عجیب سی فضا پھیل گئی۔ظہر کی نماز آئی تو متولی صاحب نے سوچا کہ سری نماز ہے، خود ہی پڑھا لیں گے، تاکہ کسی اور کو آگے کرنے سے ہونے والے تنازعات سے بچا جا سکے۔ لیکن مغرب کی نماز میں پھر مسئلہ بنا کیونکہ قریبی حافظ صاحب سے تو تنازعہ چل رہا تھا، لہٰذا دوسرے محلے سے ایک چھوٹا سا لڑکا بلایا گیا جو حفظ کے مرحلے میں تھا۔ اس نے مغرب اور عشاء کی نماز پڑھائیں مگر اگلے دن فجر کے وقت وہ پھر پہنچ نہ سکا۔ یوں دو تین دن تک ہر نماز میں الگ الگ امام بدلتے رہے۔
بعض مساجد والے خودامام صاحب پر یہ دباؤ ڈالتے ہیںکہ چھٹی سے پہلے وہ اپنا متبادل خود تلاش کریں۔ پھر امام صاحب کوکوئی شخص میسر نہیں آتا تو وہ چند جانے پہچانے افراد کو فون کرتے ہیں، جو نماز پڑھانا نہیں جانتے لیکن امام صاحب کے کہنے پر شرم و لحاظ میں قبول کرلیتے ہیں۔ایسے ناتجربہ کار لوگ نماز ایسے طریقے سے پڑھاتے ہیں کہ نہ پڑھانے والے کو سکون اور نہ ہی پڑھنے والے کو۔
اس لئے ضروری ہے کہ اس مسئلہ پر توجہ دی جائے۔ اگر نائب امام رکھنے کی مالی گنجائش نہیں تو کم از کم ایک ایسا فرد ضرور نامزد ہونا چاہیے جو باقاعدہ آگے بڑھنے کی تربیت رکھتا ہو اور جماعت کی امامت صحیح طور پر سنبھال سکے۔بعض مساجد میں مؤذن بھی امامت کی اہلیت رکھتے ہیں تو کسی حد تک گزارا چل جاتا ہے مگر ایسی مساجد جہاں مؤذن خود امام صاحب ہوتے ہیں تو وہاں امام کی چھٹی پر مسجد ایک لاوارث حالت میں داخل ہوجاتی ہے جو کہ انتظامیہ کے لئے فکر کا مقام ہےاگر مسجد بول نہیں سکتی تو اسکا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ آپ اُسکے ساتھ جو مرضی کریں۔
نمازیوں کو بھی انتظامیہ سے اصرار کرنا چاہیے کہ ایک مکمل امام کے ساتھ مستقل نائب امام ہوکیونکہ امام صاحب کے چھٹی کرنے سے جب مختلف امام سامنے آتے ہیں تو نمازیوں کے جذبات، کیفیات اوراحساسات بھی بدل جاتے ہیں۔ ہر نماز میں نیا امام ہوتو نتیجتاً نماز کا خشوع و خضوع بھی متاثر ہوتا ہے۔
لہٰذا ضروری ہے کہ انتظامیہ، امام اور عوام مل کر اس امر کو یقینی بنائیں کہ امام کے ساتھ دوسرا فرد متعین ہو۔ اس طرح نہ صرف ائمہ کرام کو سکونِ قلب ملے گا بلکہ نمازی بھی کسی بھی ہنگامی صورتحال میں تشویش اور افراتفری سے محفوظ رہیں گے۔
نوٹ : یہ ’’آج کی بات‘‘ ایک بہت ہی مفید سلسلہ ہے جس میں حذیفہ محمد اسحاق کی طرف سے مشاھدات،خیالات اور تجربات پر مبنی ایک تحریر ہوتی ہے ۔ یہ تحریر ہماری ویب سائٹ
Visit https://readngrow.online/ for FREE Knowledge and Islamic spiritual development.
پر مستقل شائع ہوتی ہے ۔ ہر تحریر کے عنوان کے آگے ایک نمبر نمایاں ہوتا ہے ۔ جس اسکی قسط کو ظاہر کرتا ہے کہ یہ کون سی قسط ہے ۔ پچھلی قسطیں بھی ہماری ویب سائٹ پر دستیاب ہیں ۔ اگر کوئی پیغام یا نصیحت یا تحریر آپکو پسند آتی ہے تو شئیر ضرور کریں ۔ شکریہ ۔
مزید اپڈیٹس کے لئے ہمارے واٹس ایپ چینل کو ضرور فالو کریں
https://whatsapp.com/channel/0029Vb0Aaif4o7qSPFms4g1M

