یوم تکبیر ۔ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے والا دن
پاکستان کے لئے 28 مئی 1998 کا ایک بہت ہی یادگار دن ہے ۔
اور آج 28 مئی 2025 کو پہلی مرتبہ پاکستان میں ایسا ہوا ہے کہ اس دن قومی سطح پر چھٹی کا اعلان کیا گیا ہے تاکہ سب لوگ اس دن کی خوشی کو محسوس کرسکیں اور یہ بات جان سکیں کہ یہ کتنی بڑی فتح کا دن تھا ۔
یوم تکبیر:۔
اس دن کو خاص طور پر یوم تکبیر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔ یہ وہ خوش نصیب دن ہے جب پاکستان نے چاغی بلوچستان کے مقام پر کامیابی کے ساتھ پانچ ایٹمی دھماکے کرکے خود کو نیو کلئیر پاور ثابت کیا ۔ یہ نہ صرف پاکستان کے لئے بلکہ پورے عالم اسلام کے لئے ایک فخر کا دن سمجھا جاتا ہے ۔ پوری امت مسلمہ میں تاحال پاکستان ہی وہ واحد ملک ہے جس کے پاس ایٹمی طاقت اور نیوکلئیر ہتھیار موجود ہیں ۔ نیز دنیا بھر میں پاکستان ساتویں نمبر پر ان ہتھیاروں کا مالک ایک طاقتور ملک ہے ۔
پاکستان ایک ناقابل تسخیر ملک ہے:۔
یہ ایک مضبوط دفاعی نظام کی علامت ہے کہ ہم لوگ زندہ قوم ہیں، پائندہ قوم ہیں اور اپنی حفاظت کرنا خوب جانتے ہیں جیسا کہ قائد اعظم رحمہ اللہ تعالیٰ نے کہا تھا کہ پاکستان کو اب دنیا کی کوئی طاقت مٹا نہیں سکتی ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمت ہے ۔
اور پھر اسلامی تعلیمات کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستانی قوم نے قرآن مجید کی سورۃ الانفال کی آیت نمبر 60 پر عمل کرتے ہوئے اپنے دفاعی سسٹم کو مضبوط کیا ہے ۔
دلچسپ واقعہ:۔
اور اس ایٹمی طاقت کے وجود میں آنے کا واقعہ بھی بہت زیادہ دلچسپ اور حیرت انگیز ہے ۔ خبروں کے مطابق پڑوسی ملک انڈیا (بھارت) نے گیارہ اور تیرہ مئی 1998 کو پوکھران میں پانچ ایٹمی دھماکے کئے جنہیں اپریشن شکتی کہا گیا ۔ یہ ایٹمی دھماکے کرنے کے بعد پورے خطہ میں ایک دھاک بیٹھ گئی کہ انڈیا کے پاس اب ایٹمی طاقت موجود ہے ۔ جو لوگ اسلام دشمن تھے اور مسلمانوں کی طاقت کو برداشت نہیں کرسکتے تھے اُن سب ممالک نے مل کر پاکستان پر دباؤ ڈالا کہ اب کوئی بھی جوابی کارروائی نہ کی جائے ۔ اور اس طاقت کا اثر قبول کرکے گھٹنے ٹیک دئیے جائیں ۔
مگر اُس وقت نواز شریف صاحب پاکستان کے وزیر اعظم تھے ۔ میاں محمد نواز شریف صاحب ایک دلیر، بہادر اور مخلص ہونے کے ساتھ ساتھ محب الوطن شخص بھی تھے ۔ اُنہوں نے فیصلہ کیا کہ ہم بھی اسکی جوابی کارروائی ضرور کریں گے اور پورے طور پر اعلانیہ کریں گے تاکہ اسکو ڈنکے کی چوٹ پر اینٹ کا جواب پتھر سے سمجھا جائے ۔ اُنہوں نے قائد اعظم محمد علی جناح کے مشن کو آگے بڑھاتے ہوئے پاکستان کو مزید مضبوط کرنے کا فیصلہ کیا ۔ اور کسی بھی دباؤ میں آنے کو قبول نہیں کیا ۔ پوری طاقت اور جرات کے ساتھ چند ہی دنوں بعد ایک زور دار جوابی کارروائی کا انعقاد کیا گیا ۔
اور آج کے روز یعنی 28 مئی کو پانچ کامیاب ایٹمی دھماکے کئے گئے جن کی گونج آج سالہا سال گزرنے کے بعد بھی سنی جارہی ہے ۔
الحمد للہ ! ۔
ثم الحمدللہ ! ۔
قومی ہیروز کی قدر کریں:۔
اس سارے مشن میں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن اور خان ریسرچ لیبارٹریز نے اہم ترین کردار ادا کیا یعنی خاص طور پر ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اس موقع پر اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر اس کارنامہ کو سرانجام دینے کا فیصلہ کیا تھا اور انہوں نے کردکھایا ۔
اسی وجہ سے اُنکو محسن پاکستان کا لقب دیا گیا اور آج تک قوم اُنکو اپنا ہیرو مانتی ہے ۔
اس موقع پر خاص طور پر جن لوگوں کا مرکزی کردار ہے اُن میں محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے علاوہ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کا نام بھی قابل ذکر ہے ۔ مگر افسوس کہ ہم لوگوں نے اپنے ان دونوں ہیروز کی قدر نہ کی ۔
یہ وہ ہیروز ہیں جنہوں ںے اس ملک کو ناقابل تسخیر بنا دیا ۔ انہی کی بدولت آج پوری امت مسلمہ پاکستان کو محبت کی نگاہ سے دیکھتی ہے ۔ پاکستان سے اپنی امیدیں وابستہ کرتی ہے اور حال ہی میں جس طرح پڑوسی ملک کے رافیل طیارے تباہ کرکے جس طرح منہ توڑ جواب دیا گیا ہے وہ پاکستان کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا کہ یہ ملک ناقابل تسخیر ہے ۔
ہم سب کو چاہئے کہ ہم ان حقائق کو سمجھیں اور اپنے ہیروز کی قدر کریں ۔
اپنے اس ملک سے محبت کریں اور اسکی برائیاں بیان نہ کریں بلکہ اسکی اچھائیوں کو خوب سے خوب پھیلائیں ۔
📢 Thank you for reading!
If you found this article informative and valuable, we encourage you to share it on WhatsApp, Facebook, and other social media platforms to spread the knowledge.
🌐 For more insightful, educational, and Islamic content, visit our official website:
👉 https://readngrow.online/
🕋 This FREE knowledge hub is proudly powered by Pakistan’s trusted online bookstore:
📚 www.kitabfarosh.com
📲 Stay connected. Stay informed. Share the goodness.

