عقل کی فضیلت اور سالک ومجذوب میں فرقِ مراتب
بسلسلہ ملفوظات حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نور اللہ مرقدہ
ارشاد فرمایا کہ عقل حق تعالیٰ کی ایک بڑی نعمت ہے مگر اس کے استعمال کے بھی کچھ حدود ہیں، حد سے تجاوز کرنے میں بجائے نعمت کے زحمت ہوجاتی ہے اور اس عقل ہی کی بدولت مجذوب سے سالک کا مرتبہ بڑا ہے ۔ میرے سامنے ایک مرید نے اپنے بدعتی جاہل پیر سے مسئلہ پوچھا تھا کہ مجذوب افضل ہے یا سالک؟ پیر نے جواب دیا کہ اس کا جواب اسی (بات) سے معلوم کرلو کہ شریعت نے شراب کو اس لیے حرام کر دیا ہے کہ وہ عقل کو زائل کرتی ہے سو اب عقل کے شرف کے اور سالک و مجذوب کے عاقل و غیر عاقل ہونے کو سوچ لو۔ بیچارے پیر تو بدعتی جاہل مگر بات کام کی کہی۔(آداب ِ شیخ و مرید، صفحہ ۳۱۴)
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کے یہ ملفوظات شیخ و مرید کے باہمی ربط اور آداب سے متعلق ہیں ۔ خود بھی پڑھیں اور دوستوں سے بھی شئیر کریں ۔
مزید ملفوظات پڑھنے کے لئے ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
اپنے پاس محفوظ کرلیں ۔
اس طرح کے ملفوظات روزانہ اس واٹس ایپ چینل پر بھی بھیجے جاتے ہیں
https://whatsapp.com/channel/0029VaJtUph4yltKCrpkkV0r
چینل جوائن کریں

