بندہ کی طلب اور اس کی مثال
بسلسلہ ملفوظات حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نور اللہ مرقدہ
ارشاد فرمایا کہ عادۃ اللہ یہی ہے کہ بدون طلب کے کچھ نہیں ہوتا ۔ اس طرف سے طلب ہو پھر اس طرف سے سب ہی کچھ ہوتا ہے ۔ اس پر میں ایک مثال دیا کرتا ہوں کہ بچے کو باپ پچاس قدم کے فاصلے پر کھڑا کرکے اس کی طرف ہاتھ پھیلاتا ہے ۔ اس بچہ نے ابھی کھڑا ہونا سیکھا ہے ، چل نہیں سکتا مگر باپ کے ہاتھ پھیلانے پروہ اس طرف آنے کے لیے حرکت کرتا ہے مگر گر جاتا ہے ۔ اب باپ دوڑ کر آغوش میں لے لیگا ۔ جو مسافت یہ بچہ سال بھر میں بھی قطع نہیں کر سکتا وہ باپ کی حرکت سے ایک منٹ میں طے ہو گئی ۔ خلاصہ یہ ہے کہ طلب شرط ہے ، پھر کام تو سب اسی طرف کے چاہنے سے ہوگا اور اگر طلب نہیں تو یہ فرماتے ہیں کہ
انلزمکموھاوانتم لھا کرھون
(ترجمہ: تو کیا ہم اس کو تم پر زبردستی مسلط کر دیں گے جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو)۔
(آداب ِ شیخ و مرید، صفحہ ۳۱۲)
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کے یہ ملفوظات شیخ و مرید کے باہمی ربط اور آداب سے متعلق ہیں ۔ خود بھی پڑھیں اور دوستوں سے بھی شئیر کریں ۔
مزید ملفوظات پڑھنے کے لئے ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
اپنے پاس محفوظ کرلیں ۔
اس طرح کے ملفوظات روزانہ اس واٹس ایپ چینل پر بھی بھیجے جاتے ہیں
https://whatsapp.com/channel/0029VaJtUph4yltKCrpkkV0r
چینل جوائن کریں

