سستی قربانی کی تلاش
ملفوظاتِ حکیم الامت مجددالملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
فرمایا کہ بعض وسعت والے قربانی تو کرتے ہیں مگر بڑی کوشش اس کی ہوتی ہے کہ کوئی حصہ سستا مل جائے گو اس میں کچھ عیب بھی ہو مگر ایسا نہ ہو جو مانع جوازِ قربانی ہو اور وجہ اس کی دو ہیں۔ ایک بخل اور دوسرے یہ خیال غیر واقعی کہ قیمت بڑھنے سے یا مال کے عمدہ ہونے سے ثواب میں زیادتی نہ ہوگی بلکہ ایک حصہ میں جس قدر ثواب ہوتا ہے وہ قانون میں برابر ہوگا۔ اگر زیادہ بھی ہوئی تو ہم زیادتی کو کیا کریں گے؟ پس اتنا ہی کافی ہے کہ برأت ذمہ حاصل ہوجائے ۔ اس کی اصلاح یہ ہے کہ یہ خیال بالکل غلط ہے بلکہ جس قدر مال عمدہ ہوگا یا قیمت زیادہ ہوگی ثواب زائد ہوتا جائے گا۔ *لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون* (تم اس وقت تک نیکی حاصل نہیں کر سکتے جب تک اپنے محبوب اموال میں سے خرچ نہ کرو) اور *لا تیممو الخبيث منه تنفقون ولستم بأخذيه الا ان تغمضوا فيه* ( یعنی اللہ کی راہ میں خرچ کرتے وقت خراب مال دینے کا قصد نہ کرو کہ اس سے خرچ کرو اور جب کبھی لینے کا موقع ہو تو تم اسے لینے والے نہیں ہو الا یہ کہ چشم پوشی سے کام لو) اور حدیث *سمنوا ضحایاکم* (اپنے قربانی کے جانوروں کو فربہ کرو) اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قصہ ہے کہ ایک اونٹنی ذبح کی تھی جس کے تین سو دینار ان کو ملتے تھے۔ (رواہ فی التفسیر المظہری) یہ سب دلائل واضح ہیں اس دعویٰ کے لئے۔ اور یہ خیال کہ ہم زیادہ کو کیا کریں گے؟ صرف برأت ذمہ کافی ہے، اس کا محل وہاں ہوسکتا ہے جہاں صرف مؤاخذہ سے بچنا ہو اور اس حاکم سے کوئی خاص تعلق نہ ہو اور نہ خاص تعلق پیدا کرنا مقصود ہو۔ کیا حق تعالیٰ شانہ کے تعلقات کے وجود یا مطلوبیت حصول کا کسی کو انکار ہوسکتا ہے۔ اگر نہیں ہوسکتا تو اس خیال کی گنجائش کہاں رہی؟
نوٹ:- یہ ملفوظات ڈاکٹر فیصل صاحب (خلیفہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمتین بن حسین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ) نے انتخاب فرمائے ہیں۔ اور انکو حضرت مولانا محمد زبیر صاحب (فاضل جامعہ دارالعلوم الاسلام لاہور 2023) نے تحریر فرمایا ہے ۔
یہ ملفوظات آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔

