قربانی عقل کی روشنی میں (معترضین کے اعتراضات اور ان کے جوابات)
قربانی حق تعالیٰ کی مرضی اور نظام قدرت کے مطابق ہے
ملفوظاتِ حکیم الامّت مجددالملّت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
خدا تعالیٰ کو ماننے والی قومیں خواہ وہ کوئی ہوں اس بات کی ہرگز قائل نہیں ہیں کہ خداتعالیٰ ظالم ہے بلکہ خدا تعالیٰ کو رحمن و رحیم مانتے ہیں،اب خدا تعالیٰ کا فعل دیکھو کہ ہوامیں باز (پرنده) شکرا، گدھ، چرغ وغیرہ شکاری جانور موجود ہیں اور وہ غریب پرندوں کا گوشت ہی کھاتے ہیں،گھاس اور عمدہ سے عمدہ میوے اور اس قسم کی کوئی چیز نہیں کھاتے۔ نیز دیکھو پانی میں کس قدر خونخوار جانور موجود ہیں، گھڑیال، اور بڑی مچھلیاں چھوٹے چھوٹے پانی میں رہنے والے جانوروں کو کھا جاتے ہیں بلکہ بعض مچھلیاں قطب شمالی سے قطب جنوبی تک شکار کے لئے جاتی ہیں، مکڑی مکھیوں کا شکار کرتی ہے، بندروں کو چیتا مار کر کھاتا ہے، جنگل میں شیر بھیڑئیے، تیندو کی جو غذا ہے وہ سب کو معلوم ہے، بلی کس طرح چوہوں کو پکڑ کر ہلاک کرتی ہے، اور دیکھو آگ میں پروانوں ( اڑنے والے کیڑوں) کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے۔
اب بتلاؤ کہ اس نظارہ عالم (اللہ تعالیٰ کے قدرتی نظام ) کود یکھ کر کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ ذبح کا قانون جو عام طور پر جاری ہے یہ کسی ظلم کی بنا پر ہے؟ ہرگز نہیں، پھر انسان پر جانوروں کے ذبح کرنے کے الزام کا کیا مطلب؟ انسان کے جسم میں جوئیں پڑ جاتے ہیں، یا کیڑے پڑ جاتے ہیں کیسے بےباکی سے انکی ہلاکت ( اور مارنے کی) کوشش کی جاتی ہے، کیا اس کا نام ظلم رکھا جاتا ہے؟ جب اسے ظلم نہیں کہتے کہ اعلیٰ کے خاطر ادنی کا قتل جائزہے تو جانور کے ذبح کرنے پر اعتراض کیوں ہو سکتا ہے۔
بلکہ غور کرو اور ملک الموت کو دیکھو کیسے کیسے انبیاء ورسولوں اور بادشاہوں بچے،غریب، امیر، سوداگر سب کو جان سے مار دیتے اور دنیا سے نکال دیتے ہیں، اگر ہم جانوروں کو عید الاضحٰی میں اس لئے ذبح نہ کریں کہ ہمارا ذبح کرنا رحم کے خلاف ہے تو کیا اللہ تعالیٰ ان کو ہمیشہ زندہ رکھے گا؟ اور ان پر حکم ہوگا کہ وہ نہ مریں؟ اس تمہید کے بعد گزارش ہے کہ اگر جانورں کو ذبح کرنا خلاف رحم ہوتا تواللہ تعالیٰ شکاری اور گوشت خور جانوروں کو پیدا نہ کرتا۔ نیز اگر ان کو ذبح نہ کیا جائے تو خود بیمار ہوکر مریں گے پس غور کرو کہ ان کےمرنے میں کیسی تکلیف ان کو لاحق ہوگی۔
قانون الٰہی میں ہم دیکھتے ہیں کہ ہر چیز بے حد بڑھنا چاہتی ہے اگر ہر ایک برگد کے بیج حفاظت سے رکھے جائیں تو دنیا میں برگد ہی برگد ہوں اور دوسری کوئی چیز نہ ہوں مگر دیکھو ہزار جانور اس کا پھل کھاتے ہیں اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس بڑھنے کو روکنا اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے اسی طرح اگر سارے گایوں کی پرورش کریں تو ایک وقت میں دنیا کی ساری زمین بھی ان کے چارے کے لئے کافی نہ ہوگی۔ آخر بھوک پیاس سے خودان کو مرنا پڑے گا جب یہ قدرت کا نظام موجود ہے تو ذبح کرنا اللہ تعالیٰ کی مرضی کے خلاف کیوں ہوگا۔
نوٹ:- یہ ملفوظات ڈاکٹر فیصل صاحب (خلیفہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمتین بن حسین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ) نے انتخاب فرمائے ہیں۔ اور انکو حضرت مولانا محمد زبیر صاحب (فاضل جامعہ دارالعلوم الاسلام لاہور 2023) نے تحریر فرمایا ہے ۔
یہ ملفوظات آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔

