مذاقِ عشق
ملفوظاتِ حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
ارشاد فر مایا کہ شیخ سعدی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک بزرگ کی حکایت لکھی ہے کہ ان کو ایک رات غیب سے آواز آئی کہ جو چاہے کر، یہاں کچھ قبول نہیں اور ایسے زور سے آواز آئی کہ ایک مرید نے بھی سن لیا مگر وہ بزرگ بدستور اپنا عمل پورا کرنے چلے۔ اگلے دن پھر لوٹا لےکر تہجد کو اٹھے۔ مرید نے کہا کہ ایسی بھی کیا بے عزتی ہے۔ جب وہ کچھ نہیں پوچھتے تو اِس محنت سے کیا نفع ؟ شیخ نے جواب دیا کہ بیٹا یہ تو صحیح ہے کہ وہ نہیں پوچھتے مگرتم یہ تو بتلاؤ کہ اور کہاں جاؤں۔ کیا اور کوئی دروازہ ہے جسے خدا کے دروازہ چھوڑ کر اختیار کرلوں اور جب کوئی دروازہ نہیں تو پھر چاہے وہ ماریں یا چھوڑیں ، میں تو انہیں کو لپٹا ریوں گا۔ اس پر دوبارہ آواز آئی
قبول است اگر چہ هنر نیستش
کہ جز ما پناه دگر نیستش
اس میں بھی ایک چرکہ لگا دیا کہ گو کسی قابل تو نہیں مگر رحم کر کے قبول کر لیتے ہیں ۔حضرت عاشق کا مذاق یہی ہوتا ہے۔ اگر اس کو یقین بھی ہو جائے کہ جہنم میں جاؤں گا ، جب بھی عمل سے باز نہیں آتا ۔ برابر طلب میںں بڑھتا رہتا ہے۔
نوٹ:- یہ ملفوظات ڈاکٹر فیصل صاحب (خلیفہ عبدالمتین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ) نے انتخاب فرمائے ہیں۔ اور انکو حضرت مولانا محمد زبیر صاحب (فاضل جامعہ دارالعلوم الاسلام لاہور 2023) نے تحریر فرمایا ہے ۔
یہ ملفوظات آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔

