سلطان محمود کی بت شکنی کی حکایت
ملفوظاتِ حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
ارشاد فرمایا کہ محمود بادشاہ نے جب ہندوستان کو فتح کیا اور سومنات کا مندر توڑا تو تمام بت توڑ ڈالے۔ جو بت سب سے بڑا تھا اس کو بھی توڑنا چاہا۔ پجاریوں نے بہت الحاح و زاری کی اور کہا کہ اس کے برابر ہم سے سونا لے لیا جائے اور اس کو نہ توڑا جائے محمود نے ارکانِ لشکر سے مشورہ کیا۔ سب نے کہا کہ ہم کو فتح ہو ہی چکی ، اب ایک بت کے چھوڑنے سے ہمارا کیا جاتا ہے۔ اس قدر (اس کے عوض) مال ملتا ہے لشکرِ اسلام کے کام آئے گا،چھوڑ دینا چاہئے۔ مجلس میں سپہ سالار مسعود غازی تھے۔ انہوں نے فرمایا کہ یہ بت فروشی ہے۔ اب تک بادشاہ بت شکن مشہور تھا، اب بت فروش کہلائے گا۔ محمود کے دل کو یہ بات لگ گئی مگر گونہ تردد باقی تھا۔دوپہر کو سویا تو خواب میں دیکھا کہ میدانِ حشر ہے اور ایک فرشتہ ان کو دوزخ کی طرف یہ کہہ کر کھینچتا ہے کہ یہ بت فروش ہے۔ دوسرے فرشتہ نے کہا کہ نہیں یہ بت شکن ہے، اس کو جنت میں لے جاؤ۔ اتنے میں آنکھ کھل گئی۔ فوراً حکم دیا کہ بت توڑ ڈالا جائے۔ اس کو جو توڑا تو تمام پیٹ میں جواہرات بھرے ہوئے نکلے۔ حق تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ بت فروشی سے بھی بچا اور جس مال کی طمع میں بت فروشی اختیار کرنا تھا اس سے زیادہ مال بھی مل گیا۔ یہ جنت اور دوزخ کی طرف کھینچا جانا اس تردد کی صورت دکھائی گئی جو محمود کے قلب میں تھا۔ خیال کرنے کی بات یہ ہے کہ بت کو چھوڑ دینا حقیقت میں بت فروشی نہ تھا لیکن صورةً بت فروشوں کی مشابہت تھی جس کا یہ نتیجہ ہوا۔
نوٹ:- یہ ملفوظات ڈاکٹر فیصل صاحب (خلیفہ عبدالمتین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ) نے انتخاب فرمائے ہیں۔ اور انکو حضرت مولانا محمد زبیر صاحب (فاضل جامعہ دارالعلوم الاسلام لاہور 2023) نے تحریر فرمایا ہے ۔
یہ ملفوظات آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔

