نسبت مع اللہ کی تحقیق
ملفوظاتِ حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
ارشاد فرمایا کہ نسبت کہتے ہیں عبد کے معبود کے ساتھ اور معبود کے عبد کے ساتھ تعلق کو یعنی معبود کی طرف سے رضا اور عبد کی طرف سے اطاعت، باقی دھیان بندھ جانا سو یہ تو مشق سے اور کفار کو بھی حاصل ہو سکتا ہے ( جو شخص ہر وقت یاد رکھے گا اس کو ہر وقت یاد رہنے لگے گی ) یہ نسبت نہیں ہے ، اور یہ نسبت ( یعنی تعلق درمیان عبدو معبود) معصیت سے سلب یا ضعیف ہوجاتی ہے۔ اور یہ جو مشہور ہے کہ فلاں نے فلاں شخص کی نسبت سلب کرلی وہاں یہ نسبت مراد نہیں ، اس کو کون سلب کرسکتا ہے بلکہ مراد اس سے ایک کیفیتِ نفسانی ہے۔ مثلاً نشاط جو پہلے عمل میں تھا وہ اب جاتا رہا اور یہ تصرف سے ممکن ہے لیکن خود ایسا تصرف جائز نہیں بلا عذرِ شرعی۔ پس اگر اس ذوق و شوق کے نہ رہنے سے عامل خود ہمت ہار دے اور اس سے اعمال میں کوتاہی کرنے لگے تو چونکہ نسبت کا بقاء اعمال ہی پر تھا تو پھر ان وسائط سے نسبت بھی باقی نہیں رہتی تو اس معنی میں اس تصرف کو (یعنی ذوق و شوق کے سلب کو )۔
نسبت کا سلب مجازاً کہہ سکتے ہیں ۔
نوٹ:- یہ ملفوظات ڈاکٹر فیصل صاحب (خلیفہ عبدالمتین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ) نے انتخاب فرمائے ہیں۔ اور انکو حضرت مولانا محمد زبیر صاحب (فاضل جامعہ دارالعلوم الاسلام لاہور 2023) نے تحریر فرمایا ہے ۔
یہ ملفوظات آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔

