وقت سے کچھ پہلے اذان دینے کا نظریہ غلط ہے

وقت سے کچھ پہلے اذان دینے کا نظریہ غلط ہے

ارشاد فرمایا کہ بعض مقامات میں سحری سے متعلق ایک بے عنوانی یہ دیکھی جاتی ہے کہ فجر کی اذان وقت سے پہلے ہی کہہ دیتے ہیں تاکہ سحری کھانے والے سحری کھانا چھوڑ دیں مگر جن ائمہ کے نزدیک وقت سے پہلے فجر کی اذان کافی نہیں جیسے امام ابو حنیفہ ؒ وغیرہ ان کے نزدیک اس اذان کا اعادہ واجب ہے (کیونکہ وقت سے پہلے ہوئی ہے) اور اگر اعادہ نہیں کیا جاتا تو صبح کی نماز بغیر اذان کے ہوتی ہے۔ دوسرے اگر لوگوں کو (اس کا علم ہوگیا اور) اس کی عادت ہوگئی اور ظاہر ہے کہ مؤذن نہ ایسے دیانت دار نہ اوقات کے ایسے واقف کار ہیں تو اگر کسی روز غلطی سے خلافِ معمول صبحِ صادق کے بعد اذان ہوئی تو تمام لوگوں کے روزے اس اذان کے بھرسہ برباد ہوں گے ۔ اس لئے مصلحت یہ ہے کہ اذان ایسے وقت کہی جایا کرے کہ اس اذان کے اعتماد پرکوئی سحری نہ کھائے ۔ پھر خود ہی ہر شخص اپنے طور پر تحقیق کر کے اس پر عمل کرے گا۔(احکام رمضان ،صفحہ ۱۵۵)

حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کے ہزاروں قیمتی ملفوظات نایاب موتی ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online/
پر موجود ہیں ۔ خود بھی پڑھئے اور دوسروں کو بھی ترغیب دیجئے ۔ یہ اآپکے لئے صدقہ جاریہ ہوگا ۔

Most Viewed Posts

Latest Posts