ہر شکایت صبر کے منافی نہیں
ملفوظاتِ حکیم الامت مجددالملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
ارشاد فرمایا کہ ایک بار حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بیماری میں جب کسی نے پوچھا کہ کیسی طبیعت ہے؟ فرمایا کہ اچھی نہیں۔ سائل نے کہا کیا آپ شکایت کرتے ہیں؟ فرمایا تو کیا میں خدا کے سامنے اپنی بہادری ظاہر کروں کہ وہ تو بیمار کریں اور میں کہوں کہ نہیں ، میں تو اچھا ہوں۔ اس سے معلوم ہوا کہ شکایت منافئ صبر وہ ہے جو خود مقصود ہو اور جو کسی حکمت سے ہو وہ عبدیت ہے۔ ان مقامات کو عارفین سمجھتے ہیں کہ اس وقت کیا مطلوب ہے اور دوسرے وقت کیا مطلوب۔
اسی ضمن میں فرمایا کہ مفتی الہٰی بخش رحمۃ اللہ علیہ ایک مرتبہ بیماری میں *اللہ اللہ* کر رہے تھے کہ ان کے بھائی آگئے۔ وہ بھی بڑے بزرگ تھے۔ انہوں نے فرمایا کہ بھائی جی آہ آہ کرو کیونکہ *اللہ اللہ* مظہر الوہیت ہے اور آہ آہ مظہر عبدیت ہے اور اس وقت وہ عبدیت کو دیکھنا چاہتے ہیں۔چنانچہ انہوں نے آہ آہ شروع کی اور بہت جلد صحت ہوگئی کیونکہ مقصود پورا ہو گیا تھا۔ اور یہ بھی کلیہ نہیں ہر حالت کا جدا مقتضا ہے جس کے لئے ضرورت ہے تحقیق کی یا کسی محقق کی تقلید کی۔ اللہ تعالیٰ کو عجز و نیاز اور تضرع و زاری بہت پسند ہے اور یہ بات آہ ہی میں ہے ، *اللہ اللہ* کرنے میں نہیں۔
اے خوشا چشمے کہ اوگریانِ اوست اے خوشا آن دل کہ او بریانِ اوست
نوٹ:- یہ ملفوظات ڈاکٹر فیصل صاحب (خلیفہ عبدالمتین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ) نے انتخاب فرمائے ہیں۔ اور انکو حضرت مولانا محمد زبیر صاحب (فاضل جامعہ دارالعلوم الاسلام لاہور 2023) نے تحریر فرمایا ہے ۔
یہ ملفوظات آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔

