کیا میں عیسیٰ ہوں؟
غالباً احمد جام رحمۃ اللہ علیہ کا قصہ ہے کہ ان کی خدمت میں ایک مردو عورت اپنے لڑکے کو لائے جو کہ اندھا تھا اور آکر عرض کیا۔۔۔ حضرت !ہمارا یہی ایک لڑکا ہے جو قسمت سے اندھا ہے ۔۔۔اس کو سوانکھا کردیجئے۔۔۔ آپ نے فرمایا ’’کیا میں عیسیٰ ہوں ۔۔۔جو اندھو ںکو سوانکھا کردوں ‘‘وہ بے چارے چپکے ہی لوٹ چلے تھوڑی ہی دور گئے تھے کہ آپ نے فرمایا ما کُنْیم ما کُنیم اور اُن کو واپس آنے کا حکم دیا۔۔۔ خدام نے اُن کو واپس بلایا۔۔۔ آپ نے لڑکے کی آنکھوں پر ہاتھ پھیرا اور دُعا کی وہ فوراً بینا ہوگیا۔۔۔ بعد میں خدام نے عرض کیا کہ حضرت یہ کیا بات تھی کہ آپ نے اوّل تو انکار کیا اور یہ فرمایا کہ کیا میں عیسیٰ ہوں اور بعد میں اتنا بڑا دعویٰ کیا کہ ما کُنیم ما کُنیم فرمایا کہ ماکُنِیم میں نے نہیں کہا تھا بات یہ ہے کہ جب میں نے یہ کہا کہ میں کیا عیسیٰ ہوں تو حق تعالیٰ نے عتاب فرمایا کہ سُبحان اللہ !کیا آپ عیسیٰ علیہ السلام کو مؤثر سمجھتے ہیں ۔۔۔۔بلکہ اُس وقت بھی ہم ہی کرتے تھے اور ہم اب بھی موجود ہیں۔۔۔۔
پس ما کُنیم ما کُنیم دراصل حق تعالیٰ کا کلام تھا جو بے ساختہ میری زبان سے نکل گیا(خطبات حکیم الامت ج ۲۴)
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

