چالیسویں وغیرہ کا کھانا محض دکھلاوے کے لیے کیا جاتا ہے
بسلسلہ ملفوظات حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نور اللہ مرقدہ
ارشاد فرمایا کہ چالیسویں کا کھانا فقط اسی واسطے ہوتا ہے کہ دیکھتے ہیں کہ فلاں نے کیا کیا کھلایا تھا؟ غمی میں یہ دیکھئے کہ زبان سے تو یہ کہا جاتا ہے کہ ثواب کے لیے کھانا کھلاتے ہیں مگر امتحان یہ ہے کہ اگر اس شخص سے خلوت میں یہ کہا جائے کہ قاعدہ یہ ہے کہ جس مصرف میں زیادہ ضرورت ہوتی ہے اس میں روپیہ دینے سے زیادہ ثواب ملتا ہے اور جن کی تم دعوت کرتے ہو ، یہ سب کھاتے پیتے غنی ہیں ۔ تم یہ دعوت کا روپیہ فلاں مدرسہ یا فلاں مسجد میں دے دویافلاں آبرو دار غریب آدمی کو چپکے سے دے دو اور اس کا ثواب میت کو بخش دو۔ تو اب دیکھئے کہ اس شخص کے دل پر کیا گزرتی ہے ؟ یہی کہے گا کہ سبحان اللہ ! روپیہ بھی خرچ ہوا اور کسی کو خبر بھی نہ ہوئی ۔ تو بتلائیے کہ یہ صاف ریاء ہے کہ نہیں ؟ معلوم ہوا کہ یہ سب دکھلاوے کے لیے کیا جاتا ہے ۔ جب یہ حال ہے تو ثواب کہاں سے ہوگا اور جب اس کو ثواب نہ ملا تو میّت کو کیا بخشے گا؟ کیونکہ ثواب پہنچانے کا خلاصہ یہ ہے کہ تم نے ایک نیک کام کیا اور جو ثواب اس کا تم کو ملا، وہ تم نے کسی دوسرے کو بخش دیا اور جب یہاں ہی صفر ہے تو وہاں کیا بخشو گے؟(بدعت کی حقیقت اور اس کے احکام و مسائل، صفحہ ۴۵)
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کے یہ ملفوظات بدعت کی حقیقت سے متعلق ہیں ۔ خود بھی پڑھیں اور دوستوں سے بھی شئیر کریں ۔
مزید ملفوظات پڑھنے کے لئے ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
اپنے پاس محفوظ کرلیں ۔
اس طرح کے ملفوظات روزانہ اس واٹس ایپ چینل پر بھی بھیجے جاتے ہیں
https://whatsapp.com/channel/0029VaJtUph4yltKCrpkkV0r
چینل جوائن کریں

