بدعت خلافِ ضابطہ کا دوسرا نام ہے
بسلسلہ ملفوظات حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نور اللہ مرقدہ
بدعت کے بارے میںارشاد فرمایا کہ اگر کوئی شخص چار رکعت کی بجائے پانچ رکعت پڑھ لے تو وہ اس کی چار رکعت بھی نہ ہوں گی حالانکہ وہ کہہ سکتا ہے کہ میں نے کوئی برا کام نہیں کیا ، نماز ہی پڑھی ہے۔دراصل اس نے خلافِ ضابطہ کام کیا تو وہ چار رکعت بھی گئی گزری ہو گئیں۔ جیسے کوئی لفافہ پر ۸۰ پیسے کا ٹکٹ لگانے کی جگہ ایک روپے کے رسیدی ٹکٹ لگا دے تو وہ خط بیرنگ ہوجائے گا کیونکہ اس نے ان ٹکٹ کا استعمال بے محل اور خلافِ ضابطہ کیا۔ جیسے ایک شخص نے نقل کیا کہ حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ لا الٰہ الا اللہ کے ساتھ محمد رسول اللہ ﷺ کہنے سے روکتے ہیں۔بعد کو تحقیق ہواکہ اذان کے آخر میں مؤذن جو لا الٰہ الا اللہ کہتا ہے اس کے جواب میں بعض ناواقف محمد رسول اللہ ﷺ بھی کہہ دیتے ہیں حالانکہ حدیث شریف میں ہے کہ اذان کا جواب کلماتِ اذان ہی سے دیا جائے ، چنانچہ مؤذن اذان کے آخری کلمہ میں لا الٰہ الا اللہ کہتا ہے محمد رسول اللہ نہیں کہتا ، اس لیے اذان کا جواب بھی لا الٰہ الا اللہ کہہ کر ختم کرنا چاہیے۔(بدعت کی حقیقت اور اس کے احکام و مسائل، صفحہ ۵۱)
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کے یہ ملفوظات بدعت کی حقیقت سے متعلق ہیں ۔ خود بھی پڑھیں اور دوستوں سے بھی شئیر کریں ۔
مزید ملفوظات پڑھنے کے لئے ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
اپنے پاس محفوظ کرلیں ۔
اس طرح کے ملفوظات روزانہ اس واٹس ایپ چینل پر بھی بھیجے جاتے ہیں
https://whatsapp.com/channel/0029VaJtUph4yltKCrpkkV0r
چینل جوائن کریں

