نکاح کے متعلق ہدایات و سنتیں
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے جوانوں کے گروہ! تم میں سے جو شخص مجامعت کے لوازمات (یعنی بیوی بچوں کا نفقہ اور مہر ادا کرنے) کی استطاعت رکھتا ہو اسے چاہیے کہ نکاح کرے کیونکہ نکاح کرنا نظر کو بہت چھپاتا ہے اور شرمگاہ کو بہت محفوظ رکھتا ہے اور جو شخص مجامعت کے لوازمات کی استطاعت نہ رکھتا ہو اسے چاہیے کہ وہ روزے رکھے کیونکہ یہ اس کے لیے خواہشاتِ نفسانی میں کمی کا باعث ہوگا۔ (بخاری)
۔(۱) فرض:… نکاح کرنا اسی صورت میں فرض ہو جاتا ہے جب کہ جنسی ہیجان اس درجہ غالب ہو کہ نکاح نہ کرنے کی صورت میں زنا میں مبتلا ہو جانے کا یقین ہو اور بیوی کے مہر اور نفقہ پر قدرت حاصل ہو اور بیوی کے ساتھ ظلم و زیادتی کا خوف نہ ہو۔(مظاہر حق)
۔(۲) واجب:… نکاح کرنا اس صورت میں واجب ہوتا ہے جب کہ جنسی ہیجان کا غلبہ ہو مگر اس درجہ تک نہ ہو کہ زنا میں مبتلا ہونے کا یقین ہو۔ نیز مہر و نفقہ کی ادائیگی کی قدرت رکھتا ہو اور بیوی پر ظلم کرنے کا خوف نہ ہو۔ اگر کسی شخص پر جنسی ہیجان کا غلبہ تو ہو مگر وہ مہر اور بیوی کے اخراجات کی طاقت نہیں رکھتا انتہائی غریب آدمی ہے تو ایسی صورت میں جب تک صاحب حیثیت نہ ہو اور نکاح نہ کرے تو گناہ گار نہیں ہوگا۔ ایسے شخص کے لیے حدیث بالا میں ارشاد ہے کہ وہ کثرت سے روزے رکھے کیونکہ اس سے شہوت کو سکون ہو جاتا ہے اور اگر مہر و نفقہ وغیرہ کی طاقت رکھنے والا شخص جنسی ہیجان کی صورت میں نکاح نہ کرے تو وہ گناہ گار ہوگا۔ (مظاہر حق)
۔(۳) سنت مؤکدہ:… اعتدال کی حالت میں نکاح کرنا سنت مؤکدہ ہے۔ یعنی جنسی ہیجان کا غلبہ تو نہ ہو لیکن بیوی کے ساتھ مباشرت و مجامعت کی طاقت رکھتا ہو اور مہر و نفقہ کی ادائیگی کی طاقت رکھتا ہو۔ لہٰذا اعتدال کی صورت میں نکاح نہ کرنے والا شخص گناہ گار ہوتا ہے جب کہ زنا سے بچنے اور افزائش نسل کی نیت کے ساتھ نکاح کرنے والا اجر و ثواب سے نوازا جاتا ہے۔ (مظاہر حق)
۔(۴) مکروہ:…نکاح کرنا اس صورت میں مکروہ ہے کہ بیوی پر ظلم و زیادتی کا خوف ہو۔
۔(۵) حرام:…نکاح کرنا اس صورت میں حرام ہے جب کسی شخص کو بیوی پر ظلم و زیادتی کرنے کا یقین کامل ہو کہ میں اپنی بدمزاجی کی سختی و تندہی کی وجہ سے بیوی کے ساتھ اچھا سلوک قطعاً نہیں کرسکتا۔
۔(۶) آیت مذکورہ کے خطاب سے اتنی بات تو باتفاق آئمہ ثابت ہے کہ نکاح کا مسنون اور بہتر طریقہ یہی ہے کہ اپنا نکاح کرنے کے لیے کوئی بھی مرد یا عورت بلاواسطہ خود اقدام اُٹھانے کے بجائے اپنے اولیاء کے توسط سے یہ کام انجام دے، اس میں دین و دُنیا کے مصالح اور فوائد ہیں، خصوصاً لڑکیوں کے معاملہ میں۔ لڑکیاں اپنے نکاح کا معاملہ خود طے کریں تو یہ ایک قسم کی بے حیائی بھی ہے اور اس میں فواحش کے راستے کھل جانے کا خطرہ بھی ہے۔ اس لیے بعض روایات حدیث میں عورتوں کو خود اپنا نکاح بلاواسطہ ولی کے کرنے سے روکا بھی گیا ہے۔ (معارف القرآن)
۔(۷) حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسلمانوں کو خطاب کرکے فرمایا کہ تم نکاح کرنے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرو تو اللہ تعالیٰ نے جو غناء عطا فرمانے کا حکم کیا ہے وہ پورا فرمائیں گے۔ پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مذکورہ آیت پڑھی: ’’ان یکونوا فقراء یغنھم اللّٰہ من فضلہٖ‘‘ تفسیر مظہری میں ہے، یہ یاد رہے کہ نکاح کرنے والے کو غنی اور مال عطا فرمانے کا وعدہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسی حال میں ہے جب کہ نکاح کرنے والے کی نیت اپنی عفت کی حفاظت اور سنت پر عمل ہو اور پھر اللہ تعالیٰ پر توکل و اعتماد ہو۔ (سورۃ النور:۳۲)
۔(۸) نکاح کا پیغام دینے سے پہلے ایک دوسرے کے حالات اور عادات و اطوار کی خوب اچھی طرح جستجو کرلی جائے تاکہ ایسا نہ ہو کہ بعد میں کوئی ایسی چیز معلوم ہو جو طبیعت و مزاج کے خلاف ہونے کی وجہ سے زوجین کے درمیان ناچاقی و کشیدگی کا باعث بن جائے۔ (مظاہر حق)
۔(۹) یہ مستحب ہے کہ عمر، عزت، حسب اور مال میں بیوی خاوند سے کم ہو اور اخلاق، عادات، خوش سلیقگی، آداب، حسن و جمال اور تقویٰ میں خاوند سے زیادہ ہو۔ (مظاہر حق)
۔(۱۰) نکاح کا اعلان کیا جائے اور نکاح کی مجلس اعلانیہ طور پر منعقد کی جائے جس میں دونوں طرف سے اعزہ و احباب نیز بعض علماء و صلحاء بھی شریک کیے جائیں۔ (مظاہر حق)
۔(۱۱) نکاح پڑھانے والا نیک بخت اور صالح ہو اور گواہ عادل و پرہیزگار ہو۔ (مظاہر حق)
۔(۱۲) اپنی منسوبہ کو نکاح سے پہلے دیکھ لینا مستحب ہے۔ اس بارہ میں فقہی مسئلہ یہ بھی ہے کہ بہتر اور مناسب یہی ہے کہ مرد اپنی منسوبہ کو دیکھنے کے بجائے کسی تجربہ کار اور معتمد علیہ عورت کو بھیج دے تاکہ وہ اس کی منسوبہ کو دیکھ کر مطلوبہ معلومات فراہم کردے۔ (مسند احمد)
۔(۱۳) شوال کے مہینہ میں نکاح کرنا مستحب ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے شوال کے مہینہ میں نکاح کیا اور پھر شوال ہی کے مہینہ میں مجھے رُخصت کراکے اپنے گھر لائے۔ اب حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات میں کون سی زوجہ مطہرہ مجھ سے زیادہ خوش نصیب تھیں۔ (صحیح مسلم)
۔(۱۴) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ’’أیم‘‘ (یعنی بیوہ بالغہ) کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک کہ اس کا حکم حاصل نہ کرلیا جائے۔ اسی طرح کنواری عورت (یعنی کنواری بالغہ) کا نکاح نہ کیا جائے جب تک کہ اس کی اجازت نہ لے لی جائے۔
۔(۱۵) نکاح ایجاب و قبول کے ذریعہ منعقد ہوتا ہے اور اس کے لیے یہ شرط ضروری ہے کہ ایجاب و قبول دونوں ماضی کے ساتھ ہونے چاہئیں جیسے عورت کا ولی مرد سے کہے کہ میں نے فلاں عورت جس کا نام یہ ہے کا نکاح تم سے کیا اور اس کے جواب میں مرد کہے کہ میں نے قبول کیا۔ البتہ گواہوں کے سامنے صرف یہ کہنے سے کہ ہم ’’بیوی خاوند‘‘ ہیں نکاح نہیں ہوتا۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل) لڑکی کا نکاح فارم پر صرف دستخط کردینا بھی کافی ہے اور لڑکا گواہوں کی موجودگی میں کہے: ’’قبول ہے‘‘ تو یہ نکاح صحیح ہے۔ (مسلم، کتاب النکاح)
۔(۱۶) جو شخص (قاضی) عقد کرانے بیٹھے تو اوّل خطبہ پڑھے کیونکہ عقد کرانے سے پہلے خطبہ پڑھنا سنت ہے۔ پھر اس کے بعد ایجاب و قبول کرانے میں ان باتوں کا جو ضروری ہیں خیال رکھے جن کا بیان اوپر ہوچکا۔
۔(۱۷) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی مرد نکاح کا پیغام اپنے کسی مسلمان بھائی کے پیغام پر نہ بھیجے تاآنکہ وہ اس سے نکاح کرلے یا اس کو ترک کردے۔ (ترمذی، کتاب النکاح)
وضاحت:…یہ ممانعت اس صورت میں ہے جب کہ ان دونوں کی شادی کا معاملہ تقریباً طے ہوچکا ہو اور صرف نکاح ہونا باقی رہ گیا ہو اور اگر کوئی شخص اس ممانعت کے باوجود کسی کی منسوبہ کے پاس نکاح کا پیغام بھیج دے اور پہلے شخص کی اجازت کے بغیر نکاح بھی کرلے تو یہ نکاح تو صحیح ہو جائے گا لیکن دوسرا شخص گناہ گار ہوگا۔ ہاں اگر پہلے شخص کی بات نہیں بنی، معاملہ ختم ہوچکا یا وہ کہہ دے کہ اس عورت سے میں نکاح نہیں کروں گا تم اپنا پیغام بھیج دو، اس صورت میں دوسرے کا نکاح کے لیے پیغام بھیجنا جائز ہوگا۔
۔(۱۸) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تمہارے پاس کوئی شخص نکاح کا پیغام بھیجے اور تم اس شخص کی دینداری و اخلاق سے مطمئن و خوش ہو تو اس سے نکاح کردو۔ اگر ایسا نہ کرو گے تو زمین پر فتنہ اور بڑا فساد ہوگا۔ (ترمذی، کتاب النکاح) … فائدہ:… یعنی ایسے شخص کے پیغام کو نظرانداز کرکے کسی صاحب ثروت شخص کے پیغام کے انتظار میں رہو گے تو اس کے نتیجہ میں بڑی برائیاں پھیلنے کا اندیشہ ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس وعید کو ذہن میں رکھیں، اگر ایسا نہ کرو گے تو زمین پر فتنہ و فساد ہوگا۔
نکاح کے موقع پر بعض وہ کام جو خلاف سنت ہیں
۔(۱۹) یہ مسلمانوں کی بدقسمتی ہے کہ نکاح جیسا پاکیزہ معاملہ بھی غیرمسلموں کی ناپاک رسموں اور غلط رواجوں سے محفوظ نہیں رہا۔ مثلاً باجوں اور مزامیر کا استعمال کرنا، مووی بنانا، ناچ گانے اور قوالی کا انتظام کرنا، سہرا باندھنا، گھر کی اسراف کی حد تک آرائش کرنا، دولہا کا مزارات پر جانا اور کچھ نقد رقم چڑھا کر پھر بارات میں شامل ہونا، آتش بازی کے ذریعہ مال ضائع کرنا، بارات میں مردوں کے سامنے عورتوں کا کھلے منہ آنا، دولہا کو ریشمی مسند پر بٹھانا، دولہا و دلہن کے درمیان محبت کے لیے کوئی ٹوٹکا وغیرہ کرنا، دولہا کا حریر یا زعفرانی رنگ کا یا ریشمی کپڑا پہننا، دولہا کا دلہن کے گرد سات چکر لگانا، اجنبی عورتوں کا دولہا کے پاس آنا اور اسے ہاتھ لگانا یا اس کے ناک کان پکڑنا یا بے حیائی کی باتیں کرنا، دولہا کا انگوٹھا دودھ کے ذریعہ عورت سے دھلوانا، عورتوں کا دولہا کو شکر کھلانا اور دودھ پلانا، مصری کی ڈلی دلہن کے بدن پر رکھ کر دولہا سے کہنا کہ اسے منہ سے اُٹھا لو اور خلوت میں جب دولہا اور دُلہن جمع ہوں تو عورتوں کا انہیں گھیرے رہنا۔ یہ سب چیزیں بدعت اور حرام ہیں جن کا شریعت و سنت سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ان سے اجتناب ضروری ہے۔ (مظاہر حق)
۔(۲۰) ٹیلی فون پر نکاح:…مجبوراً ٹیلی فون پر نکاح کرنا پڑ جائے تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ ٹیلی فون پر یا خط کے ذریعہ لڑکا (یا لڑکی جو بھی مجلس سے غائب ہے) اپنی طرف سے کسی کو وکیل بنا دے اور وہ وکیل اس کی طرف سے ایجاب و قبول کرلے۔ تب تو صحیح ہے، جاننا چاہیے کہ الگ الگ شہروں میں اور مختلف گواہوں سے جو یکجا نہ ہوں ایجاب و قبول نہیں ہوتا کیونکہ نکاح میں ایجاب و قبول ایک ہی مجلس میں ہونا چاہیے اور مزید یہ کہ دولہا اور دُلہن دونوں کے گواہ جو غائب ہو اس کا وکیل اور دوسرا فریق سب کے سب ایک ہی جگہ جمع ہونے چاہئیں۔
۔(۲۱) نکاح کے لیے دونوں کا مسلمان ہونا ضروری ہے۔ ہمارے زمانہ کے یہود و نصاریٰ برائے نام اہل کتاب ہیں۔ ان میں بکثرت وہ ہیں جو نہ کسی آسمانی کتاب کے قائل ہیں نہ مذہب کے، نہ اللہ رب العزت کے، ان پر اہل کتاب کا اطلاق نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا ان کے ذبیحہ اور عورتوں کا حکم اہل کتاب کا نہ ہوگا۔
ایک سے زائد نکاح کرنا سنت ہے
۔(۲۲) ایک مرد کے لیے متعدد بیویاں رکھنا اسلام سے پہلے بھی تقریباً دُنیا کے تمام مذاہب میں جائز سمجھا جاتا تھا اور اس کی فطری ضرورتوں سے آج بھی کوئی انکار نہیں کرسکتا۔
فرمانِ الٰہی ہے: ’’جو عورتیں تمہیں پسند ہوں (یعنی جو عورتیں تمہیں طبعی طور پر پسند ہوں اور تمہارے لیے شرعاً حلال بھی ہوں) ان سے نکاح کرسکتے ہو۔ دو دو، تین تین، چار چار اور اگر تم کو اس کا خوف ہو کہ عدل نہ کرسکو گے تو ایک ہی بیوی پر بس کرو یا جو کنیز شرعی اُصول کے مطابق تمہاری ملک ہو وہی سہی۔
ایک حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کے نکاح میں دو عورتیں ہوں اور وہ ان کے حقوق میں برابری نہ کرسکے تو وہ قیامت کے دن اس طرح اُٹھایا جائے گا کہ اس کا ایک پہلو گرا ہوا ہوگا۔ (مشکوٰۃ المصابیح) البتہ یہ مساوات ان اُمور میں ضروری نہیں جو انسان کے اختیار میں نہیں مثلاً قلب کا میلان کسی کی طرف زیادہ ہو جائے تو اس غیراختیاری معاملہ میں اس پر کوئی مواخذہ نہیں۔ بشرطیکہ اس میلان کا اثر اختیاری معاملات پر نہ پڑے۔
مسئلہ:…دوسری شادی کے لیے پہلی بیوی کی رضا مندی شرعاً شرط نہیں۔ لیکن پہلی بیوی کے برابر کے حقوق ادا کرنا شوہر کے لیے واجب ہے۔ اگر کوئی شخص پہلی بیوی سے قطع تعلق رکھے گا تو شرعاً مجرم ہوگا۔
میاں بیوی کے درمیان کشاکشی دور کرنے کیلئے ہدایات
۔(۲۳) میاں بیوی کے درمیان کشاکشی کا اندیشہ ہو تو حق تعالیٰ شانہ نے حکام اور دونوں خاندان کے لوگوں کو حکم فرمایا ہے کہ ان کے درمیان اصلاح کی کوشش کریں۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’اگر تم کو ان دونوں کے درمیان کشاکشی کا اندیشہ ہو تو تم لوگ ایک آدمی جو تصفیہ کرنے کی لیاقت رکھتا ہو۔‘‘ مرد کے خاندان سے اور ایک آدمی جو تصفیہ کرنے کی لیاقت رکھتا ہو، عورت کے خاندان سے بھیجو۔ اگر دونوں آدمیوں کو اصلاح منظور ہوگی تو اللہ تعالیٰ میاں بیوی میں اتفاق پیدا فرمائیں گے۔ بے شک اللہ تعالیٰ بڑے علم اور بڑے خبر والے ہیں۔ (سورۃ النساء:۳۵)
اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان ہدایات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
حق مہر اور ولیمہ سے متعلق ہدایات اور سنتیں
۔(۱) اگر نکاح کرتے وقت مہر کا ذکر نہ کیا جائے تو نکاح صحیح ہو جائے گا مگر شوہر پر مہرِ مثل واجب ہوگا۔ مہر مثل عورت کے اس مہر کو کہتے ہیں جو اس کے باپ کے خاندان کی ان عورتوں کا ہو جو اوصاف میں اس کے مثل ہو۔ مثلاً عمر، جمال، مال، شہر، دینداری، بکارت و کنوارہ پن، علم و ادب، اخلاق اور عادات وغیرہ۔(مظاہر حق)
۔(۲) مہر میں سے کچھ حصہ علی الفور دے دینا بہتر ہے۔ (مظاہر حق) … (۳) حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارہ میں منقول ہے فرمایا: ’’الا لا تغالوا صدقۃ النساء‘‘ … ترجمہ:…خبردار! عورتوں کا بھاری مہر نہ باندھو۔ (ابوداؤد، کتاب النکاح)
۔(۴) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُم المؤمنین اُم حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے علاوہ تمام ازواج مطہرات کا مہر پانچ سو درہم باندھا تھا۔ (مظاہر حق) … اُم المؤمنین اُم حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا مہر چار ہزار درہم تھا۔ بارہ کلو اور ۲۴۷ گرام چاندی کی بقدر ہوتے ہیں اور یہ مہر نجاشی رحمہ اللہ بادشاہ نے باندھا تھا اور نجاشی نے ہی یہ مہر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ادا کیا تھا۔
۔(۵)آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے علاوہ تمام صاحبزادیوں کا مہر پانچ سو درہم تھا۔ پانچ سو درہم کی مقدار ایک کلو ۵۳۰ گرام ہوتی ہے۔ حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا مہر چار سو مثقال تھا، چار سو مثقال ایک کلو ۷۵۰ گرام چاندی کے بقدر ہوتے ہیں۔ (مظاہر حق)
۔(۶) حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی زوجہ مطہرہ کا اتنا بڑا ولیمہ نہیں کیا جتنا بڑا ولیمہ حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے نکاح میں کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے نکاح میں ایک بکری کا ولیمہ کیا تھا اور لوگوں کا پیٹ گوشت اور روٹی سے بھر دیا تھا۔ (الصحیح للامام البخاری)
فائدہ:…اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایسا ولیمہ جس میں ایک بکری استعمال کی گئی ہو بڑے ولیمہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ (مظاہر حق)
۔(۷) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ برا کھانا اس ولیمہ کا کھانا ہے جس میں مال داروں کو بلایا جائے اور فقراء کو چھوڑ دیا جائے اور جس شخص نے دعوت کو (کوئی عذر نہ ہونے کے باوجود) قبول نہ کیا تو اس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔ (بخاری و مسلم)
۔(۸) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر دو اشخاص دعوت دیں تو اس کی دعوت قبول کرو جس کا دروازہ نزدیک ہو، اگر ان میں سے کوئی پہلے کہے تو اس کی دعوت قبول کرو جس نے پہلے کہا۔ (ابوداؤد، کتاب النکاح)
مہر کے متعلق چند ضروری مسائل
۔(۱) بعض لوگ نکاح کے موقع پر لمبے چوڑے مہر باندھ لیتے ہیں مگر ان کی ادائیگی کی نوبت نہیں آتی بلکہ بعض لوگ تو دینے کی نیت ہی نہیں رکھتے۔ ایسا کرنا سخت گناہ ہے۔ قرآن مجید میں جگہ جگہ اس کی تاکید آئی ہے۔ مثلاً ارشاد باری تعالیٰ ہے اور عورتوں کو ان کے مہر خوشی سے دے دو، قرآن مجید میں کم از کم چھ مرتبہ تاکید کی گئی ہے اور اس کو عورتوں کا یہ حق شرعی قرار دیا گیا ہے۔ لہٰذا جتنا مہر باندھ دیا گیا ہے اب اس کا دینا واجب ہے۔
۔(۲) بعض لوگوں کو یہ غلط فہمی ہوتی ہے کہ مہر کا تعلق جہیز سے ہے۔ چنانچہ مہر کو جہیز سے جوڑتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر ہم جہیز نہ لیں تو مہر بھی نہیں دیں گے یا بہت تھوڑا سا دیں گے حالانکہ مہر اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ ایک فرض اور عورت کا ایک شرعی حق ہے جب کہ جہیز کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے۔ کوئی عورت چاہے جہیز لائے یا نہ لائے مگر اس کا حق شرعی (مہر) دینا ضروری ہے۔ لہٰذا مہر عورت کا خاص حق ہے نہ تو عورت کا باپ لے سکتا ہے اور نہ اس کا شوہر یا کوئی اور۔(فقہ السنہ)
۔(۳) اگر کوئی شخص ایک بھاری مہر باندھے اور اس قسم کے رواج میں عادت ہو کہ اس کے عوض ایک بھاری جہیز متوقع ہوتا ہو مگر لڑکی جہیز میں کچھ بھی نہ لائے تو شوہر کو جہیز کا مطالبہ کرنے کا کوئی حق نہیں۔ (کتاب الفقہ) … لڑکی اپنے ماں باپ کے گھر سے جو کچھ بھی تحفے تحائف (بطور جہیز) لاتی ہے وہ سب اس کی اپنی ملکیت ہوتی ہے۔ اس کی اجازت کے بغیر شوہر کے گھر والے اسے استعمال نہیں کرسکتے۔ اگر طلاق ہو جائے تب بھی وہی ان سب چیزوں کی مالک ہوگی۔ یہ چیزیں کسی بھی طرح شوہر کو نہیں پہنچ سکتیں۔
(۴) نکاح کے موقع پر شوہر اپنی بیوی کو جو کچھ مال و زیور وغیرہ دیتا ہے، وہ سب کچھ بیوی کی ملکیت ہوتا ہے جس کو واپس لینا شرعاً ناجائز ہے۔ خواہ طلاق ہی کی نوبت کیوں نہ آگئی ہو۔ (۵) عورت جب نکاح کے بعد اپنے آپ کو شوہر کے حوالے کردیتی ہے تو شوہر پر بیوی کے لیے کھانے، کپڑے اور مکان کی فراہمی واجب ہو جاتی ہے۔ (ہدایہ اوّلین)
۔(۶) نکاح کے بعد عورت جب چاہے اپنا مہر طلب کرسکتی ہے۔ عدم ادائیگی کی صورت میں مرد کے خاص حقوق ادا کرنے سے انکار بھی کرسکتی ہے۔ عدم ادائیگی کی صورت میں اگر اپنے ہی گھر میں رُک جائے، دونوں صورتوں میں وہ نفقہ کی مستحق ہوگی۔ (ہدایہ) … (۷) اگر شوہر نے مہر ادا کردیا لیکن عورت پھر بھی اس کے گھر جانے سے انکار کردے تو اسے نفقہ نہیں ملے گا۔ (ہدایہ)
رازداری کی سنتیں
سنت-۱ : بیوی کے ساتھ مجامعت کرنا (مسلم‘ ابن ماجہ)
کیا آپ نے دیکھا اونٹ کِس طرح بیٹھتا ہے؟ اس کی عجیب نشست ہے۔ (از طحاوی)
سنت- ۲: بیوی کے ساتھ کھیل مذاق کرنا (ترمذی)
سنت- ۳:اگر ایک بار کے بعد دوبارہ ضرورت مجامعت کی ہو تو درمیان میں سب سے افضل بات تو غسل کر لینا ہے ورنہ وضو کافی ہے کم از کم استنجا ہی کر لیا جائے تو بڑی نفاست کی بات ہے (جمع الفوائد)
سنت- ۴:ہر مرتبہ غسل کرنا افضل ہے اور آخر میں ایک غسل بھی کافی ہے (مشکوٰۃ)
سنت- ۵:فراغت پر غسل کرنا تو دونوں پر ہی فرض ہو جاتا ہے لیکن اسی وقت غسل کر کے سونا افضل ہے (بخاری) غسل کو جی نہ چاہے تو باوضو ہو کر سوئے (مشکوٰۃ) یہ بھی نہ ہو سکے تو استنجا کر کے سو جائیں اور اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو تیمم کر کے سونا بھی حدیث شریف میں آیا ہے۔ اگر بغیر پانی کے استعمال کئے یوں ہی سورہیں تو ایسا بھی حدیث سے ثابت ہے (الحمد للہ ‘ اللہ تعالیٰ نے بہت آسانی فرما دی ہے) (جمع الفوائد) لیکن صبح صادق ہونے سے پہلے یہ ترتیب ہے‘ صبح صادق ہو جانے کے بعد غسل کرنے میں دیر نہ کرنا چاہئے غسل کا مسنون طریقہ وہی ہے جو پہلے ذکر کیا جا چکا ہے۔
سنت- ۶:غسل کر لینے کے بعد تولیہ سے بدن پوچھنا اور نہ پوچھنا دونوں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں لہذا دونوں طریقے ہی مسنون ہوئے (جمع الفوائد)
سنت- ۷:ایسی حالت میں جب غسل فرض ہو گیا ہو کھانا پینا ہو جیسے سحری کے وقت ) تو ہاتھ پہنچوں تک دھو لیں۔ کلی غرارہ کر کے کھائیں پئیں۔ (غسل بعد میں صبح صادق کے بعد کر لیں (جمع الفوائد) (تو ایسا بھی ہو سکتا ہے)
سنت- ۸:جب بیوی کو ماہواری کا خون آ رہا ہو تو اس سے صحبت کرنا حرام ہے) البتہ ناف سے لے کر گھٹنوں تک کپڑا بندھوا دیا جائے تو کپڑے کے اوپر سے اور باقی تمام بدن سے نفع اٹھانا جائز ہے۔ خواہ باقی بدن ننگا ہی ہو صرف ناف سے گھٹنوں تک بدن کے اندر ہاتھ نہ ڈالے (جمع الفوائد) اور ان ایام میں پاس بیٹھنا‘ ساتھ سونا‘ سب جائز ہے لیکن صحبت کرنا حرام ہے۔
سنت- ۹:مجامعت کرتے وقت یا غسل فرض ہو جانے کے بعد غسل کرنے سے پہلے مرد و عورت کو جو پسینہ آتا ہے وہ پسینہ پاک ہے۔ اس پسینے سے کپڑوں کے لگنے سے کپڑے ناپاک نہیں ہوتے۔ ان کپڑوں سے نماز درست ہے۔ البتہ منی ناپاک ہے اس کو دھو ڈالنا چاہئے (موطاء)
سنت- ۱۰:جن کپڑوں سے مجامعت کی ہے وہ کپڑے پاک ہی رہتے ہیں صرف اتنی جگہ ناپاک ہوتی ہے جتنی جگہ منی لگی ہے اتنی جگہ کو پاک کر کے ان کپڑوں سے نماز پڑھنا درست ہے خواہ کپڑا دھونے کے بعد گیلا ہی ہو (ابودائود)
ازدواجی زندگی سنت کے آئینہ میں یہ بھی سنت نبوی ہے
ازواج میں عدل
حضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے زانو سے ٹیک بھی لگالیتے اور اسی حالت میں قرآن کی تلاوت بھی فرماتے۔۔۔ ایسا بھی ہوتا کہ روزہ کی حالت میں تقبیل (بوسہ)فرمالیتے۔۔۔ یہ سب اپنی ازواج مطہرات کے ساتھ حسن سلوک اور لطف و کرم کا نتیجہ تھا۔۔۔ جب آپ سفر کا ارادہ فرماتے تو ازواج مطہرات کے درمیان قرعہ ڈالتے ۔۔۔جس کے نام کا قرعہ نکل آتا وہی ساتھ جاتیں
حُسنِ سلوک
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ تم میں سے بہتر وہ ہے ۔۔۔جو اپنے اہل خانہ کے ساتھ سب سے بہتر سلوک کرتا ہو۔۔۔ اور میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ تم سب سے بہتر سلوک کرتا ہوں۔۔۔
حق زوجیت
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے آخری اور پہلے حصہ میں ازواج مطہرات کے پاس جایا کرتے تھے۔۔۔ آپ غسل فرما کر سوتے اور کبھی وضو کرکے سو جاتے۔
اہل خانہ کی دلداری
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انصار کی لڑکیوں کو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس کھیلنے کو بلایا کرتے تھے ۔۔۔اور جائز اُمور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ ہو جاتے۔
کمال محبت کی ادائیں
جب عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پانی پیتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاتھ سے پیالہ لے کر وہیں اپنے لب مبارک لگالیتے ۔۔۔۔جہاں سے انہوں نے پیا تھا اور جب وہ ہڈی پر سے گوشت کھاتیں تو آپ وہ ہڈی جس پر گوشت ہوتالے کر وہاں لب مبارک لگاتے جہاں سے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کھایا تھا
بے تکلفی و محبت
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں اس طرح ہنستے بولتے بیٹھے رہتے تھے کہ معلوم ہی نہ ہوتا تھا کہ کوئی اولوالعزم نبی ہیں۔۔۔ لیکن جب کوئی دینی بات ہوتی یا نماز کا وقت آجاتا تو ایسا معلوم ہوتا کہ آپ وہ آدمی ہی نہیں ہیں۔
مسکراتے چہرے
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم گھر کے اندر تشریف لاتے تو نہایت خندہ پیشانی کے ساتھ مسکراتے ہوئے داخل ہوتے۔۔۔ (اسوۂ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم)
بیوی کا محبت والا نام رکھنا
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے اہل خانہ کے ساتھ بہت ہی محبت کیساتھ پیش آتے تھے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ میں تم میں سے اپنے اہل خانہ کیلئے سب سے بہتر ہوں‘‘۔
ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے گھر تشریف لائے اس وقت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پیالے میں پانی پی رہی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دور سے فرمایا‘ حمیرا! میرے لئے بھی کچھ پانی بچا دینا۔ ان کا نام توعائشہ تھا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو محبت کی وجہ سے حمیرا فرماتے تھے۔
اس حدیث مبارکہ سے پتہ چلتا ہے کہ ہر خاوند کو چاہئے کہ وہ اپنی بیوی کا محبت میں کوئی ایسا نام رکھے جو اسے بھی پسند ہو اور اسے بھی پسند ہو۔ ایسا نام محبت کی علامت ہوتا ہے اور جب اس نام سے بندہ اپنی بیوی کو پکارتا ہے تو بیوی قرب محسوس کرتی ہے یہ سنت ہے۔
اہلیہ کیساتھ دوڑنا
ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ دوڑ لگائی اور ایک دوسرے کے ساتھ دوڑے۔۔۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا دوڑ میں آگے ہوگئی ۔۔۔ پھر کچھ زمانہ کے بعد دوسری مرتبہ دوڑ ہوئی۔۔۔ تو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم آگے ہوگئی ۔
بیوی کا بچا ہوا پانی پینا
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب فرمایا کہ
حمیرا! میرے لئے بھی کچھ پانی بچا دینا تو سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کچھ پانی پیا اور کچھ پانی بچا دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس تشریف لے گئے اور انہوں نے پیالہ حاضر خدمت کردیا۔
کمال محبت و لطف کا برتائو کرنا
حدیث پاک میں آیا ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ پیالہ ہاتھ میں لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پانی پینے لگے تو آپ رک گئے اور سیدہ عائشہ صدیقہؓ سے پوچھا ’’حمیرا! تو نے کہاں سے لب لگا کر پانی پیا تھا؟ کس جگہ سے منہ لگا کر پانی پیا تھا؟ ’’انہوں نے نشاندہی کی کہ میں نے یہاں سے پانی پیا تھا۔ حدیث پاک میں آیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیالے کے رخ کو پھیرا اور اپنے مبارک لب اسی جگہ پر لگا کر پانی نوش فرمایا۔ خاوند اپنی بیوی کو ایسی محبت دے گا تو وہ کیوں کر گھر آباد نہیں کرے گی۔
اب سوچئے کہ رحمۃ للعالمین توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات مبارکہ ہے۔ آپ سید الاولین والآخرین ہیں۔ اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی اہلیہ کا بچا ہوا پانی پیا۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بچا ہوا پانی وہ پیتیں۔ مگر یہ سب کچھ محبت کی وجہ سے تھا۔
بیوی سے محبت کی باتیں سنئے
ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر تشریف فرما تھے۔ آپ نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا ’’حمیرا! تم مجھے مکھن اور چھوہارے ملا کر کھانے سے زیادہ محبوب ہو‘‘۔ وہ مسکرا کر کہنے لگیں ’’ اے اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے آپ مکھن اور شہد ملا کر کھانے سے زیادہ محبوب ہیں‘‘۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسکرا کر فرمایا ’’ حمیرا! تیرا جواب میرے جواب سے زیادہ بہتر ہے‘‘۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دل میں جتنی خشیت الٰہی تھی اس کا تو ہم اندازہ ہی نہیں لگا سکتے مگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنے اہل خانہ کی موانست‘ پیار اور محبت کا تعلق تھا۔ یہ چیز عین مطلوب ہے اور اللہ تعالیٰ بھی اس چیز کو پسند کرتے ہیں۔
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بھی گھر تشریف لاتے تھے تو ہمیشہ مسکراتے چہرے کے ساتھ تشریف لاتے تھے۔۔۔ اس حدیث پاک کے آئینہ میں ذرا ہم اپنے چہرے کو دیکھیں کہ جب ہم اپنے گھر آتے ہیں ۔۔۔تو تیوریاں چڑھی ہوتی ہیں۔
بیوی کوقصہ سنانا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے یہ قصہ بیان فرمایا کہ ایک مرتبہ گیارہ عورتیں یہ معاہدہ کرکے بیٹھیں کہ وہ اپنے اپنے شوہر کا پورا پورا حال سچ سچ بیان کر دیںکچھ چھپائیں نہیں۔۔۔۔حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی رحمہ اللہ اپنی کتاب شمائل ترمذی میں لکھتے ہیں :ان گیارہ عورتوں نے اپنے اپنے شوہروں کا جو حال بیان کیا وہ پڑھئے اور پھر حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کیساتھ مثالی محبت و الفت کو اپنے لئے مشعل راہ بنائیے
ایک عورت ان میں سے بولی کہ میرا شوہر ناکارہ دبلے اونٹ کے گوشت کی طرح ہے (گویا بالکل گوشت کا ایک ٹکڑا ہے جس میں زندگی باقی ہی نہیں رہی ۔۔۔اور گوشت بھی اونٹ کا جو زیادہ مرغوب بھی نہیں ہوتا ) اور گوشت بھی سخت دشوار گزار پہاڑ کی چوٹی پر رکھا ہو ۔۔۔۔کہ نہ پہاڑ کا راستہ سہل ہے۔۔۔ جس کی وجہ سے وہاں چڑھنا ممکن ہو اور نہ وہ گوشت ایسا ہے ۔۔۔کہ اس کی وجہ سے سو دقت اٹھا کر اس کے اتارنے کی کوشش کی ہی جائے۔۔۔۔ اور اس کو اختیارکیا ہی جائے۔۔۔
دوسری بولی (کہ میں اپنے شوہر کی بات کہوں تو کیا کہوں ؟ اس کے متعلق کچھ کہہ نہیں سکتی) مجھے یہ ڈر ہے کہ اگر اس کے عیوب شروع کروں تو پھر خاتمہ کا ذکر نہیں ۔۔۔اگر کہوں تو ظاہری اور باطنی عیوب سب ہی کہوں)
تیسری بولی کہ میرا شوہر لم ڈھینگ ہے ۔۔۔یعنی بہت زیادہ لمبے قد کا آدمی ہے ۔۔۔اگر میں کبھی کسی بات میں بول پڑوں تو فوراً طلاق۔۔۔۔ اگر چپ رہوں تو ادھر میں لٹکی رہوں۔۔۔
چوتھی نے کہا کہ میرا شوہر تہامہ کی رات کی طرح معتدل مزاج ہے ۔۔۔نہ گرم ہے ۔۔۔نہ ٹھنڈا ۔۔۔۔نہ اس سے کسی قسم کا خوف ہے ۔۔۔۔نہ ملال۔۔۔
پانچویں نے کہاکہ میرا شوہر جب گھر میں آتا ہے ۔۔۔۔تو چیتا بن جاتا ہے اورجب باہر جاتا ہے تو شیر بن جاتا ہے اور جو کچھ گھر میں ہوتا ہے ۔۔۔۔اسکی تحقیقات نہیں کرتا۔۔۔
چھٹی بولی کہ میرا شوہر اگر کھاتا ہے تو سب نمٹا دیتاہے اورجب پیتا ہے تو سب چڑھا جاتا ہے جب لیٹتا ہے تو اکیلا ہی کپڑے میں لپٹ جاتا ہے میری طرف ہاتھ بھی نہیں بڑھاتا جس سے میری پراگندگی معلوم ہوسکے۔۔۔
ساتویں کہنے لگی ۔۔۔۔کہ میرا شوہر محبت سے عاجز نامرد اور اتنا بے وقوف کہ بات بھی نہیں کرسکتا ۔۔۔ دنیا میں جو کوئی بیماری کسی میں ہوگی۔۔۔۔ وہ اس میں موجود ہے۔۔۔ اخلاق ایسے کہ میرا سر پھوڑ دے ۔۔۔۔یا بدن زخمی کردے یا دونوں ہی کر گزرے۔۔۔
آٹھویں نے کہا کہ میرا شوہر چھونے میںخرگوش کی طرح نرم اور خوشبو میں زعفران کی طرح مہکتا ہوا ہے۔۔۔
نویں نے کہا کہ میرا شوہر رفیع الشان بڑا مہمان نواز ۔۔۔۔اونچے مکان والا بڑی راکھ والا ہے۔۔۔ دراز قد والا ہے اسکا مکان مجلس اور دارالمشورہ کے قریب ہے۔۔۔
دسویں نے کہا کہ میرا شوہر مالک ہے ۔۔۔مالک کا کیال حال بیان کروں ؟ وہ ان سب سے جو اب تک کسی نے تعریف کی ہے یا ان سب تعریفوں سے جو میں بیان کروں گی بہت ہی زیادہ قابل تعریف ہے اس کے اونٹ بکثرت ہیں جو اکثر مکان کے قریب بٹھائے جاتے ہیں۔۔۔ چراگاہ میں چرنے کے لیے کم جاتے ہیں۔۔۔ وہ اونٹ جب باجہ کی آواز سنتے ہیں تو سمجھ لیتے ہیں کہ اب ہلاکت کا وقت آگیا۔۔۔
گیارہویں عورت ام زرعہ نے کہا میرا شوہر ابوزرع تھا۔۔۔ ابوزرع کی کیا تعریف کروں؟ زیوروں سے میرے کان جھکا دیئے۔۔۔ (اور کھلا کھلا) کر چربی سے میرے بازو پرُ کر دیئے مجھے ایسا خوش و خرم رکھتا تھا کہ میں خود پسندی اور عجب میں اپنے آپ کو بھلی لگنے لگی ۔۔۔مجھے اس نے ایک ایسے غریب گھرانہ میں پایا تھا جو بڑی تنگی کے ساتھ چند بکریوں پر گزر کرتے تھے اور وہاں سے ایسے خوشحال خاندان میں لے آیا تھا جن کے یہاں گھوڑے اونٹ کھیتی کے بیل اور کسان تھے۔۔۔ (یعنی ہر قسم کی ثروت موجود تھی اس سب کے علاوہ اس کی خوش خلقی کہ) میری کسی بات پر بھی مجھے برا نہیں کہتا تھا۔۔۔ میں دن چڑھے تک سوتی رہتی تو کوئی جگا نہیں سکتا تھا۔۔۔ کھانے پینے میں ایسی ہی وسعت کہ میں سیر ہو کر چھوڑ دیتی تھی (اورختم نہ ہوتا تھا) ابوزرع کی ماں ( میری خوش دامن) بھلا اس کی کیا تعریف کروں اس کے بڑے بڑے برتن ہمیشہ بھرپور رہتے تھے۔۔۔ اس کا مکان نہایت وسیع تھا۔۔۔ (یعنی مالدار بھی تھی اور عورتوں کی عادت کے موافق بخیل بھی نہیں تھی۔۔۔
اس لیے مکان کی وسعت کی کثرت مراد لی جاتی ہے ) ابوزرع کا بیٹا بھلا اس کا کیا کہنا وہ بھی نور علیٰ نور ایسا پتلا دبلا چھریرے بدن کا کہ اس کے سونے کا حصہ (یعنی پسلی وغیرہ) ستی ہوئی ٹہنی یا ستی ہوئی تلوار کی طرح سے باریک۔۔۔ بکری کے بچہ کا ایک دست اس کے پیٹ بھرنے کے لیے کافی (یعنی بہادر کہ سونے کے لمبے چوڑے انتظامات کی ضرورت نہ تھی۔۔۔ سپاہیانہ زندگی ذرا سی جگہ میں تھوڑا بہت لیٹ لیا اسی طرح کھانے میں بھی مختصر مگر بہادری کے مناسب گوشت کے دو چار ٹکڑے اس کی غذا تھی ۔۔۔ ابوزرع کی بیٹی بھلا اس کی کیا بات ماں کی تابعدار باپ کی فرمانبردار موٹی تازی سوکن کی جلن تھی (یعنی سوکن کو اس کے کمالات سے جلن پیدا ہو عرب میںمرد کے لیے چھریرا ہونا اور عورت کے لیے موٹی تازی ہونا ممدوح شمارکیا جاتا ہے)
ابوزرع کی باندی کا بھی کیا کمال بتائوں ہمارے گھرکی بات کبھی بھی باہر جا کر نہ کہتی تھی۔۔۔کھانے تک کی چیز بھی بے اجازت خرچ نہیں کرتی تھی۔۔۔ گھر میں کوڑا کباڑ نہیں ہونے دیتی تھی۔۔۔ مکان کو صاف شفاف رکھتی تھی ہماری یہ حالت تھی لطف سے دن گزر رہے تھے کہ ایک دن صبح کے وقت ۔۔۔۔جبکہ دودھ کے برتن بلوئے جارہے تھے۔۔۔ ابوزرع گھر سے نکلا۔۔۔ راستہ میں ایک عورت پڑی ہوئی ملی ۔۔۔جس کی کمر کے نیچے چیتے جیسے دو بچے اناروں سے کھیل رہے تھے۔۔۔ ( چیتے کے ساتھ تشبیہ کھیل کود میں ہے اور اناروں سے یا تو حقیقۃً انار مراد ہیں کہ ان کو لڑھکا کر کھیل رہے تھے۔۔۔ یا دو اناروں سے اس عورت کے دونوں پستان مراد ہیں) پس وہ کچھ ایسی پسند آئی کہ مجھے طلاق دے دی۔۔۔ اور اس سے نکاح کرلیا ( طلاق اس لیے دی کہ سوکن ہونے کی وجہ سے اس کو رنج نہ ہو اور اس کی وجہ سے مجھے طلاق دے دینے سے اس کے دل میں ابوزرع کی وقعت ہوجائے) ایک روایت میں ہے۔۔۔۔ اس سے نکاح کرلیا نکاح کے بعد وہ مجھے طلاق دینے پر اصرار کرتی رہی آخر مجھے طلاق دے دی۔۔۔ اس کے بعد میں نے ایک اورسردارشریف آدمی سے نکاح کرلیا۔۔۔ جو شہسوار ہے اور سپہ گر ہے۔۔۔ اس نے مجھے بڑی نعمتیں دیں اورہر قسم کے جانور اونٹ گائے بکری وغیرہ وغیرہ ہر چیز میں سے ایک ایک جوڑا مجھے دیا اوریہ بھی کہا کہ اُم زرع خود بھی کھا۔۔۔۔ اور اپنے میکہ میں جو چاہے بھیج دے ۔۔۔۔لیکن بات یہ ہے کہ اگر میں اس کی ساری عطائوں کو جمع کروں۔۔۔ تو تب بھی ابوزرع کی چھوٹی سے چھوٹی عطا کے برابر نہیں ہوسکتی۔۔۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ قصہ سنا کر مجھے سے یہ ارشاد فرمایا کہ میں بھی تیرے لیے ایسا ہی ہوں جیسا کہ ابوزرع ام زرع کے واسطے۔۔۔
فائدہ: طبرانی کی روایت میں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس پر فرمایا کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم ! ابوزرع کی کیا حقیقت۔۔۔ میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے لیے اس سے بہت زیادہ بڑھ کر ہیں۔۔۔ حق تعالیٰ جل شانہ ہر مسلمان مردو عورت کو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا اتباع نصیب فرمائے ہم سب مسلمان بہنوں کو خاوند کی فرمانبرداری کرنے اور خود کو اس کے مزاج میں ڈھالنے کی توفیق و ہمت نصیب فرمائیں آمین۔۔۔( شمائل ترمذی)
حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات کا مہر اور نکاح
حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا مہر پانچ سو درہم یا اس قیمت کے اونٹ تھے جو ابو طالب نے اپنے ذمہ رکھے تھے (سیرۃ ابن ہشام ج ۲ ص ۴۲۴)
حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا مہر کوئی برتنے کی چیز تھی جو دس درہم کی تھی (جمع الفوائد ج ۱ ص ۲۱۹)
حضرت جویریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا مہر چار سو درہم تھا (سیرت ابن ہشام ج ۱ ص ۴۲۵)
اور حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا مہر چار سو دینار تھا جو حبشہ کے بادشاہ نے اپنے ذمہ رکھے تھے (زاد المعادج ۱ ص ۲۷) اور حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا مہر چار سو درہم تھا (ابن ہشام ج ۲ ص ۲۴۳)
حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے نکاح ہوا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ولیمہ کیا تو اس میں جو کا کھانا تھا (فتح الباری ج ۹ ص ۲۰۷) اور حضرت زینب بنت حجش کے ولیمہ میں ایک بکری ذبح ہوئی تھی اور لوگوں کو گوشت روٹی کھلایا گیا (مشکوٰۃ ص ۲۷۸) اور حضرت صفیہؓ کی دفعہ صحابہؓ کرام کے پاس خیبر سے واپسی پر راستے میں سفر ہی میں جو کچھ موجود تھا سب جمع کر لیا گیا اور اکٹھے ہو کر کھا لیا یہی ولیمہ تھا (مشکوٰۃ ص ۲۷۸)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ولیمہ ‘ وہ خود فرماتی ہیں نہ اونٹ ذبح ہوا نہ بکری‘ بلکہ سعد بن عبادہؓ کے گھر سے ایک پیالہ دودھ آیا تھا‘ بس وہی ولیمہ تھا (خمیس ج ۱ ص ۳۵۸)
معلوم ہوا کہ بروقت جو میسر ہوا حبائو اقرباء کو شکرانے میں کھانا کھلادیا جائے نہ قرض لینے کی حاجت نہ فخریہ دعوت کرنے کی حاجت آسانی کے ساتھ جو ہو جائے یہی ولیمہ مسنونہ ہے۔
اور مہر زیادہ مقرر کرنے کی رسم بھی خلاف سنت ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے خبردار مہر زیادہ مت مقرر کرو اس لئے کہ اگر یہ کوئی عزت کی چیز ہوتی دنیا میں اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک تقویٰ کی بات ہوتی تو تمہارے پیغمبر اس کے زیادہ مستحق تھے۔ مجھ کو معلوم نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بی بی سے نکاح کیا ہو یا کسی صاحبزادی کا نکاح کیا ہو تو بارہ اوقیہ سے زیادہ اور بعض روایات میں ساڑھے بارہ اوقیہ سے زیادہ مہر مقرر کیا ہو ۔ (مشکوٰۃ ص ۳۷۰)
ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے تو بارہ اوقیہ ۴۸۰ درہم ہوئے اور نصف اوقیہ بیس درہم ہوئے تو ساڑھے بارہ اوقیہ ۵۰۰ درہم ہوتے ہیں اور ۱۰ درہم سات مثقال چاندی ہوتے ہیں تو ۵۰۰ درہم ۳۵۰ مثقال چاندی ہوئے اور ایک مثقال ساڑھے چار ماشہ کا ہوتا ہے تو ۲۵۰ مثقال ۵۷۵ ماشہ چاندی ہوئے جس کے ۱۳۱ تولہ ۳ ماشہ چاندی ہوتی ہے اس وقت کے لحاظ سے اتنی چاندی کی قیمت لگا لیں اس سے زیادہ مہر گو جائز ہے مگر خلاف سنت اور مکروہ ہے۔ مستحب یہی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سا مہر ٹھہرائے بلکہ ہر شخص کی حیثیت دیکھ کر اس کے موافق مقرر کریں اور تفاخر سے زیادہ مقرر کرنا گو جائز ہے مگر گناہ ہوتا ہے۔
حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی خاتون جنت بی بی فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کا نکاح کس طرح کیا؟
جب حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی عمر ساڑھے پندرہ سال کی ہو گئی اور سن بلوغت کو پہنچ گئیں تو پہلے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس دولت عظمیٰ کے شرف کی درخواست کی مگر آپ نے کم عمر ہونے کا عذر فرما دیا‘ پھر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہ ان کی عمر اس وقت اکیس سال کی تھی۔ شرماتے ہوئے خود ہی حاضر خدمت ہو کر حضورؐ سے زبانی عرض کیا۔ آپؐ پر حکم الٰہی آیا اور آپؐ نے ان کی عرض کو قبول کر لیا۔ حضورؐ نے ارشاد فرمایا اے انسؓ جائو ابوبکرؓ و عمرؓ و عثمانؓ و طلحہؓ و زبیرؓ اور ایک جماعت انصار رضی اللہ عنہم اجمعین کو بلا لائو یہ سب لوگ حاضر ہو گئے اور آپؐ نے خطبہ پڑھ کر نکاح کر دیا اور چار سو مثقال چاندی مہر مقرر ہوا۔ پھر آپؐ نے ایک طباق میں خرما لے کر حاضرین کو پہنچا دئیے‘ پھر حضورؐ نے حضرت ام ایمنؓ کے ہمراہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر بھیج دیا۔ پھر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے گھر تشریف لائے اور حضرت فاطمہؓ سے پانی منگایا وہ ایک لکڑی کے پیالہ میں پانی لائیں۔ حضورؐ نے اپنی کلی اس میں ڈال دی اور حضرت فاطمہؓ سے فرمایا ادھر منہ کرو اور ان کے سینہ مبارک اور سر مبارک پر تھوڑا پانی چھڑکا اور دعا کی الٰہی ان دونوں کی اولاد کو شیطان مردود سے آپ کی پناہ دیتا ہوں۔ پھر فرمایا ادھر پیٹھ کرو اور آپؐ نے ان کے شانوں کے درمیان پانی چھڑکا اور پھر وہی دعا کی پھر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پانی منگایا اور یہی عمل ان کے ساتھ بھی کیا مگر پیٹھ کی طرف پانی نہیں چھڑکا۔ پھر ارشاد فرمایا بسم اللہ‘ کی برکت کے ساتھ اپنے گھر میں رہو اور ایک روایت میں ہے کہ نکاح کے دن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بعد نماز عشاء حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لائے اور برتن میں پانی لے کر اس میں اپنا لعاب مبارک ڈالا اور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ اور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ پڑھ کر دعا کی ۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو آگے پیچھے پینے کا حکم فرمایا اور کہا کہ اس سے وضو کرو پھر دونوں کے لئے طہارت اور آپس میں محبت سے رہنے کی اور اولاد میں برکت ہونے کی اور خوش نصیبی کی دعا دی اور فرمایا جائو آرام کرو دونہالی میں السی کی چھال بھری تھی اور چار گدے دوبازوبند چاندی کے ایک کملی ایک تکیہ ‘ ایک پیالہ‘ ایک چکی اور ایک پانی کا مشکیزہ اور بعض روایتوں میں ایک پلنگ بھی آیا ہے۔ ان کو یہ جہیز میں عطا کیا۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھر کے کام کو اس طرح تقسیم فرمایا کہ باہر کا کام حضرت علیؓ کے ذمہ اور گھر کا کام حضرت فاطمہؓ کے ذمہ کیا۔ پھر حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے ولیمہ کیا جس میں یہ سامان تھا چند صاع جو کی پکی ہوئی روٹی اور کچھ کھجوریں کچھ مالیدہ تھا وہ کھلا دیا۔ (تاریخ خمیس ج ۱ ص۳۶۲)
لیجئے۔ دو جہان کے سردار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی جو تمام عورتوں کی جنت میں سردار ہوں گی شادی ہوگئی کیا ہی سیدھا سادہ سنت کا طریقہ ہے۔
اس سے چند فوائد حاصل ہوئے
اس سے معلوم ہوا کہ منگنی کے یہ تمام بکھیڑے جن کا آج کل رواج ہو رہا ہے لغو اور سنت کے خلاف ہیں۔ زبانی پیغام خود یا کسی کے ذریعہ پہنچانا اور زبانی جواب ملنا کافی ہے اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اس عمر کو پہنچنے کے بعد بلاوجہ توقف کرنا اچھا نہیں ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ دولہا ‘ دلہن کی عمر میں جوڑ کا لحاظ رکھنا بھی مناسب ہے اور بہتر یہ ہے کہ دولہا عمر میں کچھ زیادہ ہو اور یہ بھی معلوم ہوا کہ نکاح کی مجلس میں اپنے خاص لوگوں کو بلوانے میں کوئی مضائقہ نہیں اور اس میں حکمت یہ ہے کہ نکاح کا سب کو علم ہو جائے مگر اس جمع کرنے میں کوئی اہتمام نہ ہو بلکہ وقت پر بلا تکلف قریب نزدیک کے دو چار آدمی ہو جائیں کافی ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ باپ چھپ کر بیٹھ جاتا ہے نکاح کی اجازت دیتے ہوئے شرماتا ہے یہ اچھا نہیں بلکہ عالم ہو تو خود نکاح پڑھنا بہتر ہے اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ لمبا چوڑا مہر باندھنا بھی خلاف شریعت ہے۔ ہاں مہر فاطمی باعث برکت ہے اگر وسعت نہ ہو تو اس سے بھی کم باندھ لے اور دیکھ رہے ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دو جہان کے سردار کی بیٹی کی الوداعی کیسے ہوئی نہ دھوم دھام نہ سواری نہ کنبہ برادری کا کھانا‘ کتنا سادہ سادہ کم خرچ سنت طریقہ تعلیم دے گئے ہیں۔ ہم کو لازم ہے کہ اپنے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کریں اور اپنی عزت کو حضورؐ کی عزت سے بڑھ کر نہ سمجھیں اور یہ بھی معلوم ہوا کہ نئی دلہن اتنی شرم کرے کہ ایک طرف کو بیٹھ جائے اور نماز بھی نہ پڑھے کام کے ہاتھ نہ لگائے یہ کوئی اچھی بات نہیں ہے اور مناسب ہے کہ نکاح کے بعد گھر داماد کے قریب ہو تو پانی چھڑکنے کا مسنون عمل اختیار کیا جائے اور جب نکاح ہو گیا تو اب خاوند سے پردہ کھول دینا چاہئے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ جہیز میں تین باتوں کا خیال رکھو اول گنجائش سے زیادہ اکٹھا کرنے کی فکر نہ کرو دوسری جن چیزوں کی ان کو ضرورت ہوگی وہ دینا چاہئے تیسرے اعلان و اظہار نہ ہونا چاہئے کیونکہ یہ تو اپنی اولاد کے ساتھ احسان و سلوک ہے اس میں دکھلانے کی کیا بات ہے اور عورتوں کو گھر کے کاروبار کو سنبھال لینا چاہئے ۔ عار کرنا اور ناک منہ چڑھانا باعث فساد ہوتا ہے اور یہ بھی معلوم ہوگیا کہ لڑکی کا ولیمہ نہیں ہوتا نہ نکاح کی دعوت ہوتی ہے ہاں لڑکے والے ولیمہ کی دعوت کریں یہ مسنون ہے بلکہ بلاتکلف بلا تفاخر اختصار کے ساتھ جو میسر ہو اپنے خاص لوگوں کو کھلا دیں بس یہی ولیمہ ہے۔
سنت والی زندگی اپنانے کے لئے ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر مطلوبہ کیٹگری میں دیکھئے ۔ اور مختلف اسلامی مواد سے باخبر رہنے کے لئے ویب سائٹ کا آفیشل واٹس ایپ چینل بھی فالو کریں ۔ جس کا لنک یہ ہے :۔
https://whatsapp.com/channel/0029Vb0Aaif4o7qSPFms4g1M
