سچ بولنے سے متعلق سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم
قرآن حکیم اور احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں مؤمنین کی جو صفات بیان کی گئی ہیں۔ ان میں ایک اہم صفت راست گفتاری یعنی سچ بولنا ہے۔ بندۂ مؤمن کسی بھی حالت میں صدق و راستی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتا۔ اگرچہ سچ بولنے کے نتیجے میں اس کو کتنی ہی تکلیف اُٹھانی پڑے۔ (یہاں تک کہ اس کی جان بھی چلی جائے)
سچ بولنے کا حکم قرآن میں
قرآن پاک میں مؤمنوں کو ہر حال میں سچ بولنے اور جھوٹ سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے۔ خواہ یہ سچ (راست گفتاری) ان کی اپنی یا نزدیکی رشتہ داروں ہی کے خلاف کیوں نہ ہو۔ سورۃ النساء میں ارشاد ہے: ’’یٰآیھا الّذین اٰمنوا کونوا قوامین بالقسط شہداء للّٰہ ولو علٰی انفسکم أوِالْوالدین والاقربین‘‘ (آیت:۱۲۵)
۔’’یعنی اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، انصاف پر قائم رہو اور اللہ واسطے کے گواہ بنو، خواہ تمہاری یہ (سچی) گواہی تمہاری اپنی ذات یا تمہارے والدین یا تمہارے نزدیکی رشتے داروں ہی کے خلاف ہو۔‘‘۔
سورۃ بقرہ میں فرمایا گیا ہے: ’’لاتلبسوا الحق بالباطل وتکتموا الحق وانتم تعلمون‘‘ (آیت:۴۲)… ’’یعنی سچ میں جھوٹ نہ ملاؤ اور نہ سچ کو جان بوجھ کر چھپاؤ۔‘‘۔
سورۃ توبہ میں حکم دیا گیا ہے: ’’یٰآیھا الذین اٰمنوا اتقوا اللّٰہ وکونوا مع الصّٰدقین‘‘ (آیۃ:۱۱۹)…’’یعنی اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہو جاؤ۔‘‘
بے شک سچے لوگ ایک جماعت ہوتے ہیں اور مسلمان صرف سچوں ہی کی جماعت میں شامل ہوسکتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض اوقات سچ بولنا تلوار کی دھار پر چلنے کے مترادف ہوتا ہے اور سچے آدمی کو بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن سچے لوگ کسی مشکل اور خطرے سے نہیں ڈرتے اور راست گفتاری یا حق گوئی کا فریضہ ادا کرکے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ جل شانہ نے ان سے اجر عظیم کا وعدہ کررکھا ہے۔ جیساکہ سورۃ احزاب میں ارشاد باری تعالیٰ ہوا ہے: ’’یٰآیھا الذین اٰمنوا اتقوا اللّٰہ وقولوا قولا سدیداً۔ یصلح لکم اعمالکم ویغفر لکم ذنوبکم‘‘ (آیۃ:۷۰)
۔’’یعنی اے ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو اور بات وہ کہو جو ٹھیک (سچی اور حقیقت پر مبنی) ہو۔ اس سے اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال درست کردے گا اور تمہارے قصوروں سے درگزر فرما دے گا۔‘‘۔
سچ بولنا سنت بھی، ایمان کا حصہ بھی
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی راست گفتاری کی بے انتہا تاکید فرمائی ہے اور اس کو ایمان کا حصہ قرار دیا ہے، صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اے لوگو! سچ بولنے کو اپنے اوپر لازم کرلو اور ہمیشہ سچ بولو کیوں کہ سچ بولنا نیکی کی راہ پر ڈال دیتا ہے اور نیکی بہشت میں پہنچا دیتی ہے اور جب کوئی آدمی ہمیشہ کے لیے سچائی کو اختیار کرلیتا ہے اور ہر حال میں سچ بولتا ہے تو اللہ کے پاس وہ صدیق یعنی سچا لکھا جاتا ہے اور جھوٹ بولنے سے بچو کیوں کہ جھوٹ بولنے کی عادت آدمی کو بدی کی راہ پر ڈال دیتی ہے اور یہ بدی اس کو دوزخ میں پہنچا دیتی ہے۔ جب آدمی جھوٹ بولنے کا عادی ہو جاتا ہے اور ۔ہمیشہ جھوٹ بولتا ہے وہ اللہ کے پاس بڑے جھوٹوں (کذابین) میں لکھا جاتا ہے۔‘‘۔
چھ چیزوں پر جنت کا وعدہ
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم میرے لیے چھ چیزوں کی ضمانت دے دو، میں تمہارے لیے جنت کی ضمانت بنتا ہوں۔ اوّل یہ کہ جب بات کرو تو سچی کرو۔ دوسرا وعدہ کرو تو پورا کرو۔ تیسرا کوئی امانت رکھے تو اسے ادا کرو، چوتھے اپنی شرم گاہ کی حفاظت کرو، پانچویں اپنی نگاہ کو پست رکھو، چھٹے اپنے ہاتھوں کو تجاوز سے روکو۔ فقیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہی چیزوں میں تمام خیرات اور بھلائیاں سمودی ہیں۔ چنانچہ سچی بات میں کلمہ توحید بھی شامل ہے اور دوسری تمام سچی باتیں بھی۔
کہنے والا حقیقتاً سچی بات ہی کہے اور لوگوں سے بھی جو بات کرے تو بھی سچی ہی کرے۔ دوسرے یہ کہ ایفائے عہد میں وہ عہد بھی ہے جو اللہ تعالیٰ اور بندوں کے درمیان ہے اور وہ بھی باہم بندوں میں ہوتے ہیں۔ اللہ والا عہد یہ ہے کہ مرتے دم تک ایمان پر ثابت قدم رہے اور بندے والا وعدہ جو باہم وعدے کرتے ہیں وہ بھی پورے کرے۔ تیسرے امانت میں بھی دو صورتیں ہیں ایک وہ جو اللہ تعالیٰ اور بندے کے مابین ہے دوسری وہ جو بندوں کے درمیان ہوتی ہے۔ پہلی قسم کی امانت وہ فرائض ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر فرض کیا ہے، یہ بندے کے پاس اللہ کی امانت ہے۔ اس پر لازم ہے کہ وہ اس امانت کو اس کے وقت پر ادا کرے۔ دوسری قسم کی وہ امانتیں جو بندے باہم ایک دوسرے کے پاس اپنے مال کی یا کسی راز وغیرہ کی رکھتے ہیں تو یہاں بھی لازم ہے کہ انسان اپنی امانت کا پورا پورا حق ادا کرے۔ چوتھی چیز شرم گاہ کی حفاظت ہے جس کی ایک صورت تو یہ ہے کہ اسے حرام اور شبہ کے محل سے بچا کر رکھے۔ دوسری یہ کہ اسے چھپا کر رکھے کہ کسی کی نظر نہ پڑے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ دیکھنے والوں پر اور جس کی طرف دیکھا جاتا ہے دونوں پر لعنت فرماتے ہیں۔
لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ استنجاء وغیرہ کے وقت خوب احتیاط سے کام لے تاکہ کوئی اس کی طرف نہ دیکھ سکے۔ پانچویں نگاہ پست رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کے پردہ کے بدن کی طرف نہ دیکھے اور جس عورت کی طرف دیکھنا حلال نہیں اس کے حسن و جمال سے بھی اپنی نگاہ ہٹا کر رکھے، ایسے ہی دُنیا کی طرف بھی للچائی ہوئی نگاہ سے نہ دیکھے۔ جیساکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اور ہرگز ان چیزوں کی طرف آنکھ اُٹھا کر نہ دیکھے جن سے ہم نے کفار کے مختلف گروہوں کو ان کی آزمائش کے لیے متمتع کررکھا ہے کہ وہ زندگی کی رونق ہے۔‘‘…چھٹی چیز ہاتھ روکنے کا مطلب یہ ہے کہ حرام مال سے اور ہر ناجائز کام کی طرف سے اپنا ہاتھ پیچھے ہٹائے۔
جھوٹ نفاق کی علامت ہے
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ زمانہ نبوت میں کوئی شخص ایک کلمہ بولتا تو اس کی وجہ سے منافق کرار پاتا اور آج میں دن میں دس مرتبہ ایسے کلمے تم لوگوں کی زبانی سنتا ہوں۔ یعنی آدمی جھوٹ بولتا ہے تو یہ اس کی نفاق کی علامت ہے۔ مسلمان کو لازم ہے کہ اپنے کو نفاق کی علامت سے محفوظ رکھے کیونکہ انسان جب جھوٹ کا عادی ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے ہاں منافق لکھ دیا جاتا ہے اور اس پر اپنا گناہ بھی جو اس کے پیچھے لگے اس کا گناہ بھی لازم ہوتا ہے۔(از تنبیہ الغافلین)
مؤمن کبھی جھوٹا نہیں ہوتا
صفوان بن سلیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: ’’یا رسول اللہ! کیا مؤمن بزدل بھی ہوسکتا ہے؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہاں! ہوسکتا ہے۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: ’’اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم)! کیا مؤمن بخیل بھی ہوسکتا ہے؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہاں! ہوسکتا ہے۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: ’’یا رسول اللہ! مؤمن کبھی جھوٹا ہوسکتا ہے؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’نہیں!…‘‘(مشکوۃ شریف)
اس حدیث پاک کی روشنی میں ہمیں اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ جھوٹ اور ایمان کبھی اکٹھے نہیں ہوسکتے۔ جھوٹ بولنا نہ صرف اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا مؤجب ہے بلکہ یہ دُنیا میں (جھوٹ بولنے والے) آدمی کو بدنام اور ذلیل کردیتا ہے اور لوگ اس کو ناقابل اعتبار سمجھ کر حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔
جھوٹ سے رزق کم ہونا
ایک حدیث میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشا بھی اُمت تک پہنچایا ہے کہ جھوٹ بولنے سے آدمی کا رزق گھٹ جاتا ہے۔ (بحوالہ صحیح بخاری و مسلم)
بغیر تحقیق کے بات کرنا بھی جھوٹ ہے
بعض لوگ جو کچھ کسی سے سنتے ہیں بغیر تحقیق کیے (کہ جو بات سنی ہے وہ صحیح ہے یا غلط؟) اسے دوسروں کے سامنے بیان کردیتے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: ’’ایسا طرز عمل آدمی کو جھوٹا بنانے کے لیے کافی ہے۔‘‘ ( صحیح مسلم)
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا ہے کہ : ’’جابر حاکم (سلطان) کے سامنے کلمہ حق (یعنی سچی بات) کہنا جہاد (کا درجہ رکھتا) ہے۔‘‘۔
اگر ہم اپنی تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ ہمارے بزرگ حق سے کبھی گریز نہیں کرتے تھے اور سچ کی خاطر اپنی جان کی پروا بھی نہیں کرتے تھے۔ یہاں ہم صرف دو مثالیں ہی پیش کرنے پر اکتفا کرتے ہیں:۔
حق اور سچ پر استقامت کا واقعہ
امام مالک (رحمۃ اللہ علیہ) نے ایک مسئلے میں قرآن و حدیث کے مطابق فتویٰ دیا، حاکمان وقت کو یہ فتویٰ پسند نہ آیا۔ انہوں نے امام صاحب (رحمۃ اللہ علیہ) پر بڑا زور ڈالا کہ وہ فتویٰ بدل دیں (یعنی ان کی مرضی کے مطابق) فتویٰ دیں مگر امام صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے صاف انکار کردیا۔ اس پر حکومت نے ان پر بڑی سختیاں کیں یہاں تک کہ ان کے مونڈھے اکھڑوا ڈالے لیکن امام صاحب رحمہ اللہ اپنے مبنی برحق مؤقف پر قائم رہے اور کسی بھی صورت میں اس کو بدلنے پر تیار نہ ہوئے۔
دوسرا واقعہ
حضرت امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے حاکمانِ وقت کی یہ بات ماننے سے انکار کردیا کہ قرآن پاک مخلوق ہے اس کے برعکس انہوں نے کہا کہ قرآن اللہ کا لافانی کلام ہے اور یہ فانی مخلوق کی طرح نہیں ہے۔ اس اعلان کی پاداش میں حاکمان وقت نے ان کو گرفتار کرلیا، پھر ان کے پاؤں میں بیڑی ڈال کر ان کو بازار میں پھرایا اور اتنے کوڑے مارے کہ اگر کسی ہاتھی کو پڑتے تو وہ چیخ مار کر بھاگ جاتا لیکن امام صاحب رحمہ اللہ نے تمام اذیتیں نہایت صبر و استقامت سے جھیلیں لیکن اپنے اعلان سے ایک انچ پیچھے نہ ہٹے۔
تیسرا واقعہ
حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی رحمہ اللہ نے جلال الدین اکبر بادشاہ کے خود ساختہ دین الٰہی کے خلاف آواز بلند کی، جہانگیر کو سجدہ کرنے سے انکار کیا اور انسان کے آگے سجدہ کو اسلام کی رو سے ناجائز ہونے کا اعلان کیا۔ جہانگیر نے ان کو قلعہ گوالیار میں قید کردیا مگر وہ بادشاہ کے ناجائز احکام کے خلاف اپنے مؤقف پر قائم رہے۔ آخر بادشاہ راہِ راست پر آگیا اور اپنے خلاف شریعت احکام منسوخ کردیئے۔ فی الحقیقت سچائی اور راست گفتاری ایک شمع نور ہے وہ جس دل میں فروزاں ہوتی ہے وہ کبھی جھوٹ نہیں بولتا بلکہ ایسی بات بھی زبان سے نہیں نکالتا جس میں جھوٹ کی ذرا سی آمیزش بھی ہو۔ اگر کسی سے عہد و پیمان یا وعدہ کرتا ہے تو اس کو ہر حال میں پورا کرتا ہے یہ بھی سچائی ہی کی ایک شاخ ہے جبکہ جھوٹا وعدہ کرنا بداخلاقی اور گناہ کی بات ہے۔ جھوٹ بول کر کوئی دنیوی فائدہ حاصل کرنا نہ صرف شرعاً گناہ ہے بلکہ اخلاقی جرم بھی ہے۔
جھوٹ کی وجہ سے فرشتوں کا دور ہونا
ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد روایت ہے کہ ’’جب کوئی جھوٹ بولتا ہے تو اس کی بدبو سے فرشتے اس سے میل بھر(یا کوس بھر) دور چلے جاتے ہیں۔‘‘ ( جامع ترمذی)
تاریخ عالم پر جب ہم نگاہ ڈالتے ہیں اور تاریخ کے ہر گوشے پر غوروفکر کرتے ہیں تو ایک بات جو ہمیں بہت صاف ، روشن اور واضح دکھائی دیتی ہے وہ یہ ہے کہ ہر وہ واقعہ ہر وہ حادثہ اور ہر وہ تاریخی حقیقت کہ جسے تمام دُنیا کے صلحاء نے اور دُنیا کے صاحبان فضل و کمال نے اور اہل فکر و نظر نے انسان و انسانیت کے لیے اچھا کہا ہے اور خیر قرار دیا ہے ، اس کی بنیاد میں صدق یعنی سچائی کارفرما رہی ہے۔ دوسرے لفظوں میں ہم یہ کہتے ہیں کہ کوئی اچھا کام اور کوئی نیک اقدام سچائی اور صدق سے خالی نہیں ہوسکتا، اگر ہم غور کریں اور دل کی تمام سچائی کے ساتھ فکر کریں تو ہمارے دین اسلام کی بنا صدق اور سچائی پر ہے۔
سچ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوۂ حسنہ
سرکاردوعالم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فاران کی چوٹی پر ببانگ دہل یہ سوال کیا کہ لوگو! اگر میں تم سے کوئی بات کہوں تو کیا تم اس کی تصدیق کرو گے؟ لوگوں نے بلا توقف اور بلاتامل جواب دیا کہ ہم نے تمہیں ہمیشہ سچ بولتے سنا، صدق مقال پایا، تم جو بھی کہو گے ہم اس کو سچ مانیں گے کیوں کہ ہم نے تمہیں کبھی جھوٹ بولتے نہیں پایا، یہ وہ تاریخ ساز دعویٰ ہے کہ جو سرکارِ کائنات، ہادیٔ برحق جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں سے کیا تھا کہ جو وحی پر یقین نہیں رکھتے تھے۔
ہمارے رسول و رہنما اور ہمارے قائد حقیقی فخر موجودات صلی اللہ علیہ وسلم کے کردار کا سب سے اہم پہلو یہی ہے کہ وہ صادق تھے، سچے تھے، امین تھے اور کلمہ حق ہی ان کی زبان مبارک سے ادا ہوا ہے۔ اس بلندی کردار نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بلند مرتبے تک پہنچایا کہ انہوں نے اللہ کے پیغام کو انسانوں کے دلوں میں اُتار دیا اور دین اسلام کی روشنی سے اس کرۂ ارض کے ہر ہر گوشے کو منور کردیا اور صدق اور سچائی کی یہ روشنی آج بھی رہنما ہے اور قیامت تک انسان اس روشنی میں آگے بڑھتا رہے گا اور یہ حقیقت اور یہ سچائی ہمیشہ ثابت ہوکر رہ گی کہ اگر کوئی دین کامل ہے تو وہ اسلام ہے اور اللہ کے نزدیک اگر کوئی دین ہے تو وہ صرف اسلام ہے۔ ’’ان الدین عنداللّٰہ الاسلام‘‘ (سورۃ آل عمران)
سچائی کا تعلق دل اور زبان سے ہے
بے شک صدق اور سچائی کا تعلق انسان کے دل اور اس کی زبان سے ہے، دل اور زبان جب ہم آہنگ ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے مطابق ہوتے ہیں تو صدق جنم لیتا ہے اور سچائی معرض وجود میں آتی ہے، اگر دل اور زبان ہم آہنگ نہ ہوں اور ایک دوسرے کے مطابق نہ ہوں تو سچائی پیدا نہیں ہوسکتی۔
مولانا شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمہ اللہ نے کتب سیر کے حوالے سے ایک واقعہ درج کیا ہے۔ ایک شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یارسول اللہ! مجھ میں چار بری خصلتیں ہیں۔ ایک یہ کہ میں بدکار ہوں۔ دوسری یہ کہ میں چوری کرتا ہوں۔ تیسری یہ کہ میں شراب پیتا ہوں۔ چوتھی یہ کہ میں جھوٹ بولتا ہوں۔ یارسول اللہ! ان چار بری خصلتوں میں سے ایک کو فرمایئے آپ کی خاطر چھوڑ دوں۔ ارشاد ہوا: جھوٹ نہ بولا کرو۔
چنانچہ اس نے عہد کیا کہ جھوٹ نہیں بولوں گا۔ اب رات ہوئی تو شراب پینے کو اس کا جی چاہا اور پھر بدکاری کے لیے آمادہ ہوا تو اس کو خیال گزرا کہ صبح کو جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دریافت فرمائیں گے کہ رات تم نے شراب پی اور بدکاری کی تو کیا جواب دوں گا! اگر ہاں کہوں گا تو شراب و زنا کی سزا دی جائے گی، اگر نہیں کہا تو عہد کے خلاف ہوگا، یہ سوچ کر وہ ان دونوں حرکتوں سے باز رہا، جب رات زیادہ گزر گئی اور اندھیرا چھاگیا تو چوری کے لیے گھر سے نکلنا چاہا تو پھر اس خیال نے اس کا دامن تھام لیا کہ کل پوچھ گچھ ہوئی تو کیا جواب دوں گا، ہاں کردوں گا تو ہاتھ کاٹا جائے گا اور نہیں کرتا تو بدعہدی ہوگی۔ اس خیال کے آتے ہی وہ چوری کے جرم سے بھی باز آیا۔ صبح ہوئی وہ شخص خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! جھوٹ نہ بولنے سے میری چاروں خصلتیں مجھ سے چھوٹ گئیں۔
سچ باعث نجات ہے
حق بات یہ ہے کہ سچائی اور سچ بولنا انسان کو برائیوں سے بچاتا ہے جو انسان سچا اور صادق ہوگا وہ برائی سے پاک ہونے کی کوشش کرے گا، سچا انسان ایمان دار ہوگا، سچا انسان دلیر ہوگا اور دل کا صادق ہوگا۔ سچا انسان وعدہ خلاف نہیں ہوسکتا، وہ راست بازی اور راست گوئی کی دولت سے مالا مال ہوگا۔
اس سلسلے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک قول فیصل ہے ’’الصدق ینجی والکذب یھلک‘‘ … ’’سچ باعث نجات ہے اور جھوٹ سبب ہلاکت ہے۔‘‘
اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں کے لیے اپنی مغفرت اور اجر عظیم کے وعدے کیے ہیں ان میں اسلام و ایمان اور اللہ کی فرمانبرداری کے بعد پہلا درجہ سچوں اور راست بازوں کا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ: ’’بے شک اسلام قبول کرنے والے مرد اور عورتیں اور ایمان لانے والے مرد اور عورتیں اور فرمانبردار مرد اور عورتیں اور سچے مرد اور عورتیں۔‘‘۔
سچے لوگوں کی صحبت اختیار کریں
اسلام نے سچائی کی اہمیت کو بار بار جتایا ہے اور سچائی اختیار کرنے کا حکم پر حکم دیا ہے بلکہ اس سے آگے قدم بڑھا کر تاکید کی ہے کہ ہمیشہ سچوں کا ساتھ دو، سچوں کی جماعت سے تعلق رکھو، رابطہ رکھوں۔
۔’’یاایھا الذین امنوا اتقوا اللّٰہ وکونوا مع الصادقین‘‘ (التوبہ)
’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہو جاؤ۔‘‘
سچائی کے معنی عام طور پر صرف ’’سچ بولنے‘‘ کے لیے جاتے ہیں مگر اسلام کی نگاہ میں صدق اور سچائی کے وسیع معنی ہیں، سچائی صرف قول کی نہیں ہے بلکہ عمل کی سچائی کو بھی اہمیت حاصل ہے۔ یوں حضرت امام غزالی رحمہ اللہ نے بڑی دقیق نظر اور باریک بینی سے کام لیتے ہوئے سچائیاں بیان کی ہیں۔ بات میں سچائی، نیت میں سچائی، عزم میں سچائی، عزم کو پورا کرنے میں سچائی، عمل میں سچائی اور دین داری میں سچائی۔ لیکن اگر اختصار سے کام لیا جائے تو تین سچائیاں بڑی اہمیت کی حامل ہیں اور یہ ہر سچائی کو محیط ہے، زبان کی سچائی، دل کی سچائی اور عمل کی سچائی۔
زبان کی سچائی یہ ہے کہ زبان سے جو لفظ ادا ہو وہ سچا ہو، ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ اس کا احترام کرے، اس میں ایفائے عہد اور قول و قرار کا پاس و لحاظ شامل ہے۔ یہ ایمان اور اسلام کی بڑی نشانی ہے، دل کی سچائی کا تعلق انسان کے قلب سے ہے۔ اگر قلب مؤمن ہے اور اس میں اللہ کا نور ہے تو زبان سے حرف غلط نکل ہی نہیں سکتا۔ دل جب سچا ہوتا ہے تو اس میں خلوص بھی ہوتا ہے اس لیے یہ صدق و خلوص دونوں پر حاوی ہے۔
عمل کی سچائی یہ ہے کہ انسان کا ہر فعل اس کے ضمیر کا آئینہ دار ہو۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہنا چاہیے کہ انسان کے ظاہری اعمال اس کے باطنی اوصاف کے مطابق ہوں۔
ایسے تمام لوگ کہ جن کی زبان سچی ہے جن کا دل سچا ہے اور جن کا عمل صادق ہے، ان کا ایمان قطعی غیر متزلزل ہوتا ہے، ان کو جاہ مستقیم سے کوئی طاقت ہٹا نہیں سکتی اور درحقیقت ایسے ہی لوگ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں، ایسے ہی لوگوں کے لیے ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ: ’’مسلمان تو وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے، پھر کسی طرح کا شک و شبہ نہیں کیا اور اللہ کے راستے میں اپنی جان اور اپنے مال سے جہاد کیا، یہی سچے لوگ ہیں۔‘‘۔
صدق عمل کی اعلیٰ ترین صورت یہ ہے کہ انسان کے ظاہر و باطن یعنی اس کی زبان کا ہر حرف دل کا ہر ارادہ عمل کی ہر جنبش و حرکت حق اور صداقت کی مظہر ہو۔ قرآن حکیم نے ایسے ہی لوگوں کو صادق کہا ہے کہ ان کی صدیقیت اور ان کی سچائی اس ایمان کامل کے ذریعے سے نصیب ہوتی ہے جس سے عمل ہرگز جدا نہیں ہوسکتا۔
سچائی اللہ تعالیٰ کی صفت ہے
اس موضوع پر غوروفکر کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ صدق یعنی سچائی اللہ تبارک و تعالیٰ کی سب سے بڑی صفت ہے۔ اللہ سے بڑھ کر اور کون سچا ہوسکتا ہے، اللہ تعالیٰ قرآن میں خود فرماتا ہے: ’’ومن أصدق من اللّٰہ حدیثا‘‘ …’’اور کون ہے کہ جو اللہ تعالیٰ سے زیادہ سچا ہے۔‘‘۔
انسان بندہ خدا ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے شرف عطا فرمایا ہے ، انسان کا یہ شرف صرف اسی حال میں قائم و باقی رہ سکتا ہے کہ انسان سچائی کو اختیار کرے اور کذب اور جھوٹ کو گناہ سمجھے۔ دُعا ہے اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہمیشہ سچ بولنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
سنت والی زندگی اپنانے کے لئے ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر مطلوبہ کیٹگری میں دیکھئے ۔ اور مختلف اسلامی مواد سے باخبر رہنے کے لئے ویب سائٹ کا آفیشل واٹس ایپ چینل بھی فالو کریں ۔ جس کا لنک یہ ہے :۔
https://whatsapp.com/channel/0029Vb0Aaif4o7qSPFms4g1M
