نفس سے ہمیشہ ہوشیار رہنے کی ضرورت
ملفوظاتِ حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
فرمایا کہ نفس سے ہمیشہ ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ یہ جب موقع پائے گا اور اسباب دیکھے گا ضرور اپنا کام کئے بدون نہ رہے گا۔ جو لوگ اپنی اصلاح کامل کرچکے ہیں بے فکری تو ان کے لئے بھی خطرہ سے خالی نہیں مگر پھر ایک درجہ میں ان کے لئے سہولت ہے کہ وہ عین وقت پر بھی علم اور تجربہ کی وجہ سے اس کو قابو میں کرسکتے ہیں ورنہ ہمارے نفس کی حالت منہ زور گھوڑے کی سی ہے۔ جب قابو سے نکل جاتا ہے آگا پیچھا کچھ نہیں دیکھتا۔ جو کچھ ضرر بھی اس سے صادر ہو جاوے کم ہے اس لئے ہر وقت ہوشیار رہنے اور انتظام رکھنے کی ضرورت ہے۔ جنہوں نے اس کی حقیقت پہچان لی ہے وہ ہر وقت اس کی تگ و دو میں رہتے ہیں۔ اس سے بے فکری کسی وقت بھی اور کسی کو بھی نہیں ہونا چاہئے ۔ اگر کبھی بے فکری ہوگی دھوکا کھائے گا۔ سانپ سے کیا بے فکری ، وہ تو موقع پاتے ہی اپنا کام کرے گا۔ بس یہی حالت اس نفس کی ہے۔ یہ تو اس وقت تک قابو میں ہے جب تک کہ اس کی فکر میں ہے اور جس طرح یہ تاک میں ہے اس کی بھی کوئی تاک میں ہو ورنہ یہ تو اژدھا ہے، شیطان اس قدر خطر ناک نہیں جتنا یہ ہے۔
نوٹ:- یہ ملفوظات ڈاکٹر فیصل صاحب (خلیفہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمتین بن حسین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ) نے انتخاب فرمائے ہیں۔ اور انکو حضرت مولانا محمد زبیر صاحب (فاضل جامعہ دارالعلوم الاسلام لاہور 2023) نے تحریر فرمایا ہے ۔
یہ ملفوظات آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔

