حرص اور دنیا کی محبت کا علاج
ملفوظاتِ حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
ارشاد فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے حرص کا صحیح علاج بتلایا ہے چنانچہ ارشاد نبوی ہے *ویتوب الله علی من تاب*. اس میں توبہ کو حرص کا علاج بتلایا گیا ہے جس کے معنی توجہ الی اللہ اور یہ حرص کا علاج اس وجہ سے ہے کہ قاعدہ یہ ہے کہ نفس ایک وقت میں دو چیزوں کی طرف متوجہ نہیں ہوتا اور ظاہر ہے کہ حرص کی حقیقت دنیا کی طرف توجہ اور میلان ہوتا ہے۔ جب اس توجہ کو کسی دوسری شے کی طرف پھیر دیا جائے گا تو دنیا کی طرف توجہ باقی نہ رہے گی۔ جب حرص کا صحیح علاج معلوم ہوگیا تو اب سجھئے کہ توجہ الی اللہ کیا چیز ہے۔ بعض لوگوں نے تو یہ سمجھا ہے کہ توجہ الی اللہ کا یہ مطلب ہے کہ نماز پڑھے اور روزہ رکھے اور احکامِ شرعیہ بجالائے ۔ ان لوگوں نے ظاہری اعمال پر اکتفا کیا اور یہ لوگ دل سے خدا کی طرف متوجہ ہونے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ اور بعض لوگوں نے کہا کہ توجہ الی اللہ (یعنی اللہ کی طرف متوجہ ہونے کے ) معنی صرف یہ ہیں کہ صرف دل سے خدا کی طرف متوجہ ہوں۔ یہ لوگ ذکر و شغل اور مراقبہ ہی کو لے بیٹھے۔ ان لوگوں نے نماز اور روزہ ، تلاوتِ قرآن پاک، نظر بد کا بچانا وغیرہ سب چھوڑ دیا مگر ان کو بھی برکت اور نورانیت حاصل نہیں ہوتی۔ لوسنو ! توجہ الی اللہ کی حقیقت یہی ہے کہ خدا کی طرف دل سے متوجہ ہو مگر حقیقت کی ایک صورت بھی ہوا کرتی ہے اور توجہ الی اللہ کی صورت وہی ہے جو شریعت نے بتلائی ہے، بس دونوں کو جمع کرنا چاہئے کہ دل سے اللہ کی طرف متوجہ رہو اور ظاہر سے اعمالِ شرعیہ کے پابند رہو ۔ طاعات کو بجالاؤ اور معاصی سے بچنے کا اہتمام کرو۔ نگاہ کو روکو، نامحرموں کی باتیں بھی نہ سنو ۔ اعمالِ ظاہرہ ، اعمالِ باطنہ دونوں کو جمع کرنا چاہئے۔ پھر ان شاءاللہ کامیابی ضرور ہوگی ۔
نوٹ:- یہ ملفوظات ڈاکٹر فیصل صاحب (خلیفہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمتین بن حسین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ) نے انتخاب فرمائے ہیں۔ اور انکو حضرت مولانا محمد زبیر صاحب (فاضل جامعہ دارالعلوم الاسلام لاہور 2023) نے تحریر فرمایا ہے ۔
یہ ملفوظات آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔

