مسئلہ تقلید آسان انداز میں

مسئلہ تقلید آسان انداز میں

فرمایا: دُعا کے آداب میں ہاتھ اُٹھانا ہے اور اس کی ترغیب ہے۔ سیدنا و مرشدنا حضرت فضل علی قریشی رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ حضرت مولانا نذیر احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ (احمد پوری) پہلے غیرمقلد تھے۔ حضرت کا نام سن کر مسکین پور گئے۔ اس وقت حضرت تعمیر کے کام میں مشغول اینٹیں اور گارا اُٹھا رہے تھے۔
انہوں نے قریشی صاحب کا گھر پوچھا، آپ رحمہ اللہ نے بتا دیا۔ تھوڑی دیر کے بعد آپ رحمہ اللہ ان کے سامنے کُرتہ جھاڑ کر بیٹھ گئے۔ انہوں نے کہا کہ قریشی صاحب سے ملنا ہے فرمایا بندہ کو فضل علی کہتے ہیں۔ انہوں نے کچھ تقلید کے بارے میں اعتراضات کیے تو حضرت نے فرمایا مولوی صاحب میں اَن پڑھ ہوں، مجھے مسئلہ بتائیں کہ مسجد میں پہلے کون سا پاؤں رکھتے ہیں۔
انہوں نے شاید بایاں رکھا تھا، پھر فرمایا کہ اگر کسی سے سواری (گھوڑی) عاریتاً لی جائے اور اس پر دو سوار ہو جائیں کیا یہ جائز ہے؟ وہ لوگ گھوڑی مانگ کر لائے تھے اور دو صاحبان بیٹھ کر آئے تھے، چپ ہوگئے۔ یہ حضرت کا علم بھی تھا اور کشف بھی۔ تقلید کے بارے میں سوال کیا، فرمایا میں پڑھا ہوا نہیں ہوں، میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ ایک کنواں جس کا پانی گہرا اور میٹھا ہے، میں پیاسا ہوں، کیسے پیوں؟ انہوں نے کہا کہ رسی اور ڈول سے، حضرت رحمہ اللہ نے فرمایا یہی رسی اور ڈول تقلید ہے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم تک ہم نہیں پہنچ سکتے تو جن لوگوں نے پہنچایا ہے وہ ہمارا وسیلہ بنے۔ وہ حضرات بیعت ہوگئے اور صاحب اجازت ہوئے اور حضرت نے مطلقاً اذان کے بعد ہاتھ اُٹھانے پر مستقل رسالہ لکھا۔
سیدنا و مرشدنا حضرت سید محمد علاؤ الدین شاہ صاحب جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کو وہ رسالہ مل گیا تو حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے فقیر کو اس کے ترجمہ کا فرمایا، فقیر نے حضرت مولانا عبدالشکور صاحب سے کہا اور انہوں نے ترجمہ کیا۔
اس میں یہ ہے کہ دُعا کے وقت ہاتھ اُٹھانا مستقل دُعا کی سنت ہے، نہ اُٹھانا رُخصت ہے اور عزیمت یہ ہے کہ اُٹھائے جائیں۔
سیدنا و مرشدنا حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے حالات میں لکھا ہے کہ میں اذان کے بعد ہاتھ نہیں اُٹھاتا تھا۔ ایک دن میں نے یہ عمل کیا تو خیر کثیر ظاہر ہوئی، سیدنا و مرشدنا حضرت عبدالغفور عباسی رحمۃ اللہ علیہ بھی ہاتھ اُٹھا کر دُعامانگتے۔
جنازہ کے بعد عدم جواز دُعا کا ہے کہ نہیں، سنت ہے کہ نہیں؟ سیدنا و مرشدنا حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے صاحبزادگان اور علماء کی اس بارے میں بحث ہوئی کہ جنازہ کے بعد دُعا مانگنی چاہیے یا نہیں؟ حضرت خواجہ محمد سعید رحمۃ اللہ علیہ بہت فقیہ اور جزئیات کے ماہر تھے۔ خواجہ محمد معصوم رحمۃ اللہ علیہ بھی عالم تھے فیصلہ یہ ہوا کہ نہ مانگنا بہتر ہے۔ فقیر کے اُستاد صاحب نے فرمایا کہ نہ مانگنا سنت ہے اور کوئی کہہ دے تو صفیں توڑ کر مانگ لینے میں قباحت نہیں ہے۔(مجالس ناصریہ، ص:۱۷۷)

Most Viewed Posts

Latest Posts

صحابہ رضی اللہ عنہم معیارِ حق

صحابہ رضی اللہ عنہم معیارِ حق حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:۔۔’’حضرات صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم شریعت کا معیار تو نہیں ہیں کہ وہ شریعت بنائیں‘ البتہ وہ شریعت کے متبع ہیں اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس بات کا...

read more

دینِ اسلام کو ہدفِ تنقید بنانے کے چندبنیادی اسباب وعلامات

دینِ اسلام کو ہدفِ تنقید بنانے کے چندبنیادی اسباب وعلامات دینِ اسلام کے متعلق منفی اور تنقیدی ذہنیت کی درج ذیل بارہ علامات ہیں:۔ ۔1۔۔علومِ قرآن وسنت سے ناواقفیت قرآن وسنت کو صحیح طور پر جاننے‘ سمجھنے اور اس سے دین وشریعت کے مسائل استنباط کرنے کے لیے عربی زبان کے...

read more

اہلسنّت والجماعت

اہلسنّت والجماعت پیغمبر کا کوئی فعل عبث اور حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔ حدیث میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مؤلفۃ القلوب (غزوۂ حنین کے بعد جو مال آیا ہے) کو تقسیم کیا ہے اس میں بظاہر مساوات کو مدنظر نہیں رکھا کسی کو تردد ہوا، بعض مخلص بھی تھے...

read more