صلحاء کی صحبت عظیم نعمت

صلحاء کی صحبت عظیم نعمت

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عالم، مجاہد، صوفی، محدث و شب بیدار تھے لیکن ان کی فضیلت غیرصحابی پر صرف اور صرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کی وجہ سے ہے۔ اسی طرح صحابہ رضی اللہ عنہم سے فیض پانے والے تابعین تھے اور انہوں نے اپنے آپ کو مجتہد، مفکر، عالم وغیرہ نہیں کہلوایا بلکہ تابعی کہلوانے پر فخر کیا ہے۔
بھائیو! سمجھنے کی بات یہ ہے کہ آپ میراث لینے کے لیے جس طرح آخری کڑی کے محتاج ہیں اسی طرح پہلی کڑی کے محتاج ہیں۔ جتنے بھی باطل فرقے ہیں ان کا اس لڑی کے ساتھ جوڑ نہیں ملتا، اس لیے ان کا علم غیرمستند ہے۔ صرف وہی علم مستند ہے جو صحابہ رضی اللہ عنہم کے سینوں سے بواسطہ علماء کے آرہا ہے۔ شیطان کا زور بھی یہی ہے کہ اُمت کا اعتماد اس مستند لڑی سے کاٹ دیا جائے۔
ایک مرتبہ فقیر کافی بیمار تھا۔ سیدنا و مرشدنا حضرت عبدالغفور عباسی مدنی رحمۃ اللہ علیہ تشریف لائے ہوئے تھے اور سیدنا و مرشدنا حضرت سید محمد علاؤ الدین شاہ صاحب جیلانی رحمۃ اللہ علیہ بھی وہاں موجود تھے فقیر وہاں حاضر ہوا۔ سیدنا و مرشدنا حضرت شاہ صاحب رحمہ اللہ سے بیماری کی دُعا کیلئے عرض کیا تو حضرت رحمہ اللہ فقیر کو حضرت مدنی رحمہ اللہ کے پاس لے گئے۔ عرض کی کہ یہ میرا بیٹا ہے، فلاں تکلیف میں مبتلا ہے، دُعا کی درخواست ہے۔ حضرت رحمہ اللہ نے فقیر کو کچھ معمول بتلایا۔ الحمدللہ! شفا ہوئی۔ کافی عرصہ کے بعد حضرت شاہ صاحب رحمہ اللہ کے سامنے اس بات کا تذکرہ ہوا تو حضرت شاہ صاحب رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر حضرت مدنی رحمہ اللہ نے آپ کو وہ معمول بتایا تھا تو ہمیں بھی اس کے پڑھنے کی اجازت دیجئے۔ یہ شیخ کی عالی ظرفی تھی اور شیخ کی ہر بات میں تعلیم ہوتی ہے۔ حضرت شاہ صاحب رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ لوگ شیخ کی ہر ادا کو تنقیدی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ یہ دور خود رائی اور تراجم کی کثرت کا ہے۔
یاد رکھو! کثرت مطالعہ سے معلومات تو آ جاتی ہیں لیکن علم کا ملکہ نہیں آتا جیسے وکالت کی کتابیں پڑھنے سے معلومات آ جائیں گی لیکن وکالت کا ملکہ حاصل نہیں ہوگا جب تک کہ کسی اُستاد سے حاصل نہ کیا ہو۔ اس کا نقصان یہ ہے انسان اپنی معلومات کے ترازو میں دوسرے کو جانچتا ہے یعنی نگاہ میں عیب جوئی کا ملکہ پیدا ہو جاتا ہے۔
فقیر جب اپنے اُستادِ محترم حضرت مولانا عبدالرؤف صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے پڑھتا تھا تو اُستاد صاحب رحمہ اللہ نے ایک مرتبہ پوچھا کچھ فائدہ بھی ہورہا ہے تو فقیر نے عرض کی کہ فائدہ بھی ہے اور نقصان بھی۔ فائدہ یہ ہے کہ اپنی جہالت متحقق ہوئی ہے اور نقصان یہ کہ اپنی نظر میں آپ کے علاوہ دوسرا کوئی جچتا نہیں ہے۔ حضرت عطاء اللہ شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ دوسروں کے بارے میں اچھا گمان رکھو تمہاری اپنی نگاہ حسین ہو جائے گی۔(مجالس ناصریہ، ص:۱۶۴)

Most Viewed Posts

Latest Posts

صحابہ رضی اللہ عنہم معیارِ حق

صحابہ رضی اللہ عنہم معیارِ حق حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:۔۔’’حضرات صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم شریعت کا معیار تو نہیں ہیں کہ وہ شریعت بنائیں‘ البتہ وہ شریعت کے متبع ہیں اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس بات کا...

read more

دینِ اسلام کو ہدفِ تنقید بنانے کے چندبنیادی اسباب وعلامات

دینِ اسلام کو ہدفِ تنقید بنانے کے چندبنیادی اسباب وعلامات دینِ اسلام کے متعلق منفی اور تنقیدی ذہنیت کی درج ذیل بارہ علامات ہیں:۔ ۔1۔۔علومِ قرآن وسنت سے ناواقفیت قرآن وسنت کو صحیح طور پر جاننے‘ سمجھنے اور اس سے دین وشریعت کے مسائل استنباط کرنے کے لیے عربی زبان کے...

read more

اہلسنّت والجماعت

اہلسنّت والجماعت پیغمبر کا کوئی فعل عبث اور حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔ حدیث میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مؤلفۃ القلوب (غزوۂ حنین کے بعد جو مال آیا ہے) کو تقسیم کیا ہے اس میں بظاہر مساوات کو مدنظر نہیں رکھا کسی کو تردد ہوا، بعض مخلص بھی تھے...

read more