لاعلمی کا اظہار کمالِ علم کے منافی نہیں
ملفوظاتِ حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
ارشاد فرمایا کہ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کی حکایت ہے کہ ایک مجلس میں ان سے چالیس مسائل کسی نے پوچھے (اچھی طرح یاد نہیں رہا کہ) چھتیس کا جواب دے دیا اور چار میں لاادری (میں نہیں جانتا) کہا یا چار کا جواب دیا اور چھتیس میں عدمِ واقفیت ظاہر کی۔ آج کل ادنیٰ طالب علم سے پوچھ کر دیکھئے جو ہرگز بھی یہ کہے کہ میں نہیں جانتا۔ مجھ کو باوجود اس کے کہ اتنے دن کام کرتے ہوگئے مگر اب تک ایسی ضرورت پڑتی ہے کہ یہ لکھتا ہوں کہ اس مسئلہ میں مجھ کو شرح صدر نہیں ہوا اور قواعد سے اگر جواب لکھتا ہوں تو اس میں یہ احتیاط کرتا ہوں اور یہ لکھ دیتا ہوں کہ قواعد سے یہ جواب لکھا ہے، جزئیہ نہیں ملا اور کبھی جواب لکھ دیتا ہوں اور بعد میں لغزش ثابت ہوتی ہے۔ پس میں کہتا ہوں کہ جو لوگ لکھے پڑھے ہیں جب ان کو لغزشیں ہوتی ہیں تو جو اَن پڑھ ہیں وہ تو بطریقِ اولی غلطیوں میں مبتلا ہوتے ہوں گے، اور وہ شخص بھی ان پڑھ ہی ہے جو آمد نامہ، دستور الصبیاں بلکہ گلستان، سکندر نامہ پڑھا ہوا ہو یا انٹرنس پاس اور ایف اے پاس ہو بلکہ عربی پڑھنے والے بھی سب عالم نہیں ہیں کیونکہ زبان اور چیز ہے اور علم اور چیز ہے۔
نوٹ:- یہ ملفوظات ڈاکٹر فیصل صاحب (خلیفہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمتین بن حسین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ) نے انتخاب فرمائے ہیں۔ اور انکو حضرت مولانا محمد زبیر صاحب (فاضل جامعہ دارالعلوم الاسلام لاہور 2023) نے تحریر فرمایا ہے ۔
یہ ملفوظات آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔

