صدقہ فطر کیوں مقرر کیا گیا
ملفوظات حکیم الامت مجددالملت حضرت مولانامحمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
ارشاد فرمایا کہ عید الفطر میں صدقہ فطر اس واسطے مقرر کیا گیا ہے کہ صدقہ فطر روزہ داروں کے لئے طہارت اور ان کے روزوں کی تکمیل کا ذریعہ ہے (یعنی روزوں میں جو کوتاہیاں ہوگئی ہوں ان کی تلافی صدقہ فطر سے ہوجاتی ہے)جس طرح کہ نماز میں فرائض کی تکمیل کے لئے سنتیں مقرر کی گئی ہیں، ایسے ہی یہ صدقہ مقرر ہے۔ دوسرے اس وجہ سے بھی کہ مالداروں اور دولت مندوں کے گھروں میں تو اس روز عید ہوتی ہے مگر مسکینوں اور مفلسوں کے گھروں میں ناداری اور غربت کی وجہ سے اسی طرح سے روزہ کی شکل موجود ہوتی ہے لہذا خدا تعالیٰ نے اپنی مخلوق پر شفقت کی وجہ سے مالداروں پر ضروری قرار دیا کہ مسکینوں محتاجوں کو عید سے پہلے صدقہ دے دیں تاکہ وہ بھی عید کریں۔ یہاں تک کہ عید سے پہلے ہی ان کو صدقہ دینا لازم قرار دیا اور مسکین و محتاج زیادہ ہوں تو یہ صدقہ خاص جگہ (بیت المال) میں جمع کرنے کا اشارہ ہوا تاکہ مسکینوں کو یقین ہوجائے کہ ہمارے حقوق کی حفاظت کی جائےگی۔
نوٹ:- یہ ملفوظات ڈاکٹر فیصل صاحب (خلیفہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمتین بن حسین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ) نے انتخاب فرمائے ہیں۔ اور انکو حضرت مولانا محمد زبیر صاحب (فاضل جامعہ دارالعلوم الاسلام لاہور 2023) نے تحریر فرمایا ہے ۔
یہ ملفوظات آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔

