صحبت ِ شیخ کا ایک خاص ادب
بسلسلہ ملفوظات حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نور اللہ مرقدہ
ارشاد فرمایا کہ بزرگوں نے لکھا ہے کہ مرید کو اپنے شیخ سے بھی بہت لپٹنا نہ چاہیے کہ ہر وقت ہر حال میں ساتھ ہی لگا رہے۔ وجہ یہ ہے کہ انسانی کمزوریوں سے کوئی بشر خالی نہیں ہوتا۔ مرید کی نظر جب ایسی کمزوریوں پر پڑتی رہے گی تو دل میں بے اعتقادی پیدا ہوگی اور وہ اس کے لیے سخت مضر ہے کہ وہ ایک دیوار بن کر درمیان میں حائل ہوجاتی ہے۔ شیخ سے استفادہ کا دروازہ بند ہوجاتا ہے۔ یاد آیا کہ حضرت شیخ عبدالوہاب شعرانی رحمۃ اللہ علیہ کی کسی کتاب میں نظر سے گزرا ہے کہ شیخ الاسلام محی الدین نووی رحمۃ اللہ علیہ شارحِ مسلم جب اپنے استاد کی خدمت میں حاضرہوتے تو راستہ میں یہ دعا کرتے جاتے تھے کہ یا اللہ ! شیخ کے کسی عیب و کمزوری پر میری نظر نہ پڑے تاکہ ان سے استفادہ میں خلل نہ آئے۔طالب و مرید کے لیے یہ نصیحت بہت اہم ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ استاد یا پیر سے کھلے طور پر گناہِ کبیرہ اور حرام چیزوں کا ارتکاب دیکھتا رہے اور اعتقاد میں فرق نہ آئے۔ ایسے حالات میں اس کی بزرگی کا اعتقاد حرام اور اس سے بیعت فسخ کرنا واجب ہے۔ ایسے حالات میں (بزرگی کے)عقیدہ کا زائل ہونا واجب ہے مگر اس کی بھی بے ادبی اور گستاخی سے بچنا چاہیے۔(آداب ِ شیخ و مرید، صفحہ ۲۹۲)
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کے یہ ملفوظات شیخ و مرید کے باہمی ربط اور آداب سے متعلق ہیں ۔ خود بھی پڑھیں اور دوستوں سے بھی شئیر کریں ۔
مزید ملفوظات پڑھنے کے لئے ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
اپنے پاس محفوظ کرلیں ۔
اس طرح کے ملفوظات روزانہ اس واٹس ایپ چینل پر بھی بھیجے جاتے ہیں
https://whatsapp.com/channel/0029VaJtUph4yltKCrpkkV0r
چینل جوائن کریں

