شعائر اللہ کا ادب

شعائر اللہ کا ادب

حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں ۔۔۔دین کیلئے ادب ایک بنیادی چیز ہے جس حد تک ادب اور تادب بڑھتا جائے گا۔۔۔۔ اسی حد تک انسان کا دین قوی ہوتا جائے گا اور جس قدر بے ادبی‘ گستاخی‘ جرأت و جسارت اور بے باکی بڑھتی جائے گی۔۔۔۔ انسان دین سے ہٹتا جائے گا۔۔۔۔ خواہ علم ہو یا عمل ان میں شریعت نے آداب کی رعایت رکھی ہے۔۔۔۔ مثلاً قرآن کریم میں ارشاد فرمایا گیا کہ
اے ایمان والو! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس مبارک میں بیٹھ کر بلند آواز سے گفتگو مت کرو۔۔۔۔ اپنی آوازوں کو پست کرو اور ایسی آواز نہ ہو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سے بڑھ جائے ۔۔۔۔ ورنہ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تمہارے اعمال حبط ہوجائیں گے۔۔۔۔ نہ اس پر اجر مرتب ہوگا نہ ثواب۔۔۔۔
حدیث میں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ خلقی طور پر بلند آواز اور جہری الصوت تھے۔۔۔۔ آواز ہی اس طرح بلند تھی کہ آہستہ بولتے تو ایسا معلوم ہوتا کہ زور سے بول رہے ہیں۔۔۔۔ لیکن اس آیت کے اترنے کے بعد اتنا آہستہ بولنے لگے کہ بعض دفعہ کان لگا کر سننا پڑتا اور فرماتے مجھے یہ خوف ہے کہ کہیں میری آواز بلند ہوجائے اور میرے اعمال حبط نہ ہوجائیں۔۔۔۔ اس سے مسئلہ نکل آیا کہ ادب سب سے بڑی چیز ہے۔۔۔۔ حقیقتاً تو ادب حق تعالیٰ شانہ کا ہے۔۔۔۔ عظمت والی ذات اللہ ہی کی ہے۔۔۔۔ اس واسطے کہ اس کی بارگاہ میں ادب اور تواضع چاہئے پھر جس جس کو اللہ سے نسبت ہوتی جائے گی اس کا ادب قائم ہوتا جائے گا۔۔۔۔ مثلاً قرآن کریم کا ادب قائم کیا گیا کہ لَا یَمَسُّہٗٓ اِلَّا الْمُطَھَّرُوْنَ اگر حالت جنابت تک نجاست پہنچ گئی تو تلاوت بھی ناجائز ہوگئی۔۔۔۔ گویا زبان بھی پاک نہ رہی۔۔۔۔ یہ قرآن کا ادب سکھلایا گیا کہ اس کلام کی نسبت اللہ کی طرف ہے۔۔۔۔ جس کا نام کلام اللہ ہے۔۔۔۔ اللہ کا ادب ضروری ہے تو اللہ کے کلام کا ادب بھی ضروری ٹھہرا۔۔۔۔ حالانکہ قرآن کریم جو ہمارے ہی ہاتھوں میں ہے یہ کلام اللہ نہیں ہے۔۔۔۔ یہ تو کاغذوں کا مجموعہ ہے۔۔۔۔ جو حروف و نقوش لکھے ہیں یہ کلام کی علامات ہیں۔۔۔۔ کلام وہ ہے جس کا تکلم کیا جائے۔۔۔۔ پھر وہ حروف اور نقوش جن کاغذات میں درج ہیں انہیں بھی بے وضو ہاتھ لگانے سے منع کیا گیا وہ کاغذات جس جلد میں سلائی کردیئے جائیں وہ بھی واجب التعظیم بن جاتی ہے۔۔۔۔
حقیقت میں یہ کلام کا ادب بتلایا گیا لیکن جو چیزیں اس کی طرف منسوب ہوتی گئیں۔۔۔۔ ان کا ادب بھی واجب ہوتا چلا گیا۔۔۔۔ کلام کی وجہ سے نقوش اور نقوش کی وجہ سے کاغذ اور جلد درجہ بدرجہ سب کی تعظیم ضروری ٹھہرتی گئی۔۔۔۔ اگر ادنیٰ درجہ بھی گستاخی ان میں سے کسی چیز کی کی جائے تو اعمال کے ضبط و حبط ہونے کا اندیشہ ہے۔۔۔۔ اس لئے کہ بے ادبی کے ساتھ دین قائم رہ نہیں سکتا۔۔۔۔
اسی طرح جب اللہ کا ادب واجب ہے تو بیت اللہ کا ادب بھی واجب ہوگیا۔۔۔۔ اللہ کا گھر یہ نسبت جب آگئی تو ادب لازم ٹھہرا۔۔۔۔ حالانکہ حق تعالیٰ چیز اور جسم و مکان سے بری ہیں۔۔۔۔ لیکن نسبت جب آتی ہے کہ وہ تجلیات ربانی کا مرکز ہے تو اس گھر کا ادب ضروری ہوگیا۔۔۔۔ جب بیت اللہ کا ادب واجب ہوا تو جس مسجد حرام میں بیت اللہ واقع ہے وہ مسجد بھی واجب التعظیم ہوگئی اور اس درجہ بابرکت بن گئی کہ اگر ایک نماز یہاں پڑھی جائے تو ایک لاکھ نماز کا ثواب ملتا ہے یہ اس نسبت کی برکت ہے۔۔۔۔
مسجد حرام جس محل میں واقع ہے وہ مکہ مکرمہ ہے تو مکہ مکرمہ بھی واجب التعظیم ہوگیا اور اس کا ادب ضروری ہوگیا اور مکہ مکرمہ واقع حجاز میں ہے اور حجاز اور سارے عرب کا ادب واجب ہوگیا۔۔۔۔ حدیث میں فرمایا گیا حب العرب من الایمان وبغض العرب من النفاق۔۔۔۔ عرب سے محبت کرنا ایمان اور بغض رکھنا‘ نفاق کی علامت ہے۔۔۔۔ غرض درجہ بدرجہ سارے آداب واجب ہوتے چلے گئے اگر بے ادبی اور گستاخی کسی ایک میں بھی آگئی تو دین کا باقی رہنا مشکل ہوجائے گا۔۔۔۔

Most Viewed Posts

Latest Posts

اختلاف کی دو قسمیں

اختلاف کی دو قسمیں حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:۔علماء کرام میں اگر اختلاف ہو جائے تو اختلاف کی حد تک وہ مضر نہیں جب کہ اختلاف حجت پر مبنی ہو ظاہر ہے کہ ایسی حجتی اختلافات میں جو فرو عیاتی ہوں ایک قدرمشترک ضرور ہوتا ہے جس پر فریقین...

read more

اختلاف کا اُصولی حل

اختلاف کا اُصولی حل محترم پروفیسر ڈاکٹر عبدالرئوف صاحب اپنے رسالہ ’’اِسلامی بینکاری‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں:مخلص و محقق اور معتبر اکابر علمائے کرام کے درمیان کسی مسئلہ کی تحقیق کے سلسلے میں جب اختلاف ہوجائے تو بزرگ اکابر حضرات رحمہم اﷲ تعالیٰ کے ارشادات میں مکمل...

read more

ایک ڈاکو پیر بن گیا

ایک ڈاکو پیر بن گیا قطب الارشادحضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ ایک مرتبہ اپنے مریدین سے فرمانے لگے تم کہاں میرے پیچھے لگ گئے۔۔۔۔ میرا حال تو اس پیر جیسا ہے جو حقیقت میں ایک ڈاکو تھا۔۔۔۔ اس ڈاکو نے جب یہ دیکھا کہ لوگ بڑی عقیدت اور محبت کے ساتھ پیروں کے پاس...

read more