اکابر کی احتیاط
حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:۔
حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمہ اللہ (بانی دارالعلوم دیوبند) نے اپنے بعض نوشتوں میں فرمایا ہے کہ ہندوقوم کے بڑوں مثل رام چندر اور سری کرشن وغیرہ کو نام لے کر کبھی برا نہ کہو اور کوئی توہین آمیز کلمہ ان کی شان میں زبان سے مت نکالو کہ ممکن ہے کہ اپنے وقت میں یہی وہ دردان حق ہوں جو بہ طورہادی اور نذیر بھیجے گئے ہوں اور شرائع حقہ لے کر ہندوستان کی اصلاح کے لئے آئے ہوں لیکن مرورایام سے بعد کے لوگوں نے ان کی شریعتیں مسخ کر دی ہوں جیسا کہ اہل تورات اور اہل انجیل نے اپنی ان کتابوں کا حشر کیا۔
ایک مستقل اصول قرآن حکیم نے ارشاد فرمایا کہ دوسری اقوام کے بزرگوں اور مقتدائوں کی توقیر کرو اور تعیین و تشخیص کے بعد تو نام بہ نام ان پر ایمان لائو اور اپنے اپنے وقت میں انہیں ہادی برحق جانو اور سند نہ ہونے کی وجہ سے تعیین نہ ہو سکے توبالاجمال عمومیت کے ساتھ انہیں مانواور کوئی بھی کسی قسم کی سند نہ ہو تو پھر یہی مشخص کر کے کسی کے نام کے ساتھ کوئی نامناسب کلمہ استعمال مت کرو بلکہ کہہ دوکہ نُصَدِّقُھُمْ وَلَا نُکَذِّبُھُمْ (نہ ہم ان کی تصدیق کرتے ہیں نہ تکذیب۔ بلکہ معاملہ خدا کے حوالے کرتے ہیں) ظاہر ہے کہ اقوام عالم کو اپنے سے قریب تر کرنے کے لئے اس سے بڑھ کر اور کیا منصفانہ اور خیرخواہانہ اصول ہو سکتا ہے کہ جس سے ایک قوم دوسری قوم کی ثنا خواں اور مخلص بنائی جا سکتی ہے۔ پس اس اصول سے مدحیاتی فرقہ واریت کو بھی اسلام نے بیخ و بن سے اکھاڑ کر پھینک دیااور مدحیاتی مساوات کا اصول مستحکم بنیادوں پر قائم کر دیا۔
(ماخوذ از خطبات حکیم الاسلام)
