ذکر میں مزانہ آنا
بسلسلہ ملفوظات حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نور اللہ مرقدہ
ارشاد فرمایا کہ ایک صاحب مجھ سے کہنے لگے کہ ذکر میں مزانہیں آتا۔ میں نے کہا کہ مزا تو مذی میں ہے، یہاں کہاں مزا ڈھونڈتے پھرتے ہو ۔ پھر فرمایا کہ کوئی مزے کا طالب ہے ، کوئی کیفیات کا طالب ہے ۔ اگر خدا کے ساتھ تعلق ہو تو اس بے مزگی میں بھی ایک خوش مزگی ہوتی ہے ۔ جن کیفیتوں کے لوگ طالب ہیں وہ نفسانی کیفیات ہیں اور مطلوب روحانی کیفیات ہیں ، ان روحانی اور نفسانی کیفیات میں فرق بڑا ہی مشکل ہے ۔ نفسانیت کے درپے ہونے کی ضرورت نہیں ، یہ کیفیات اور جوش و خروش کچھ عمر نہیں رکھتے ۔ ان کے فرو (ختم )ہونے کے بعد پھر روحانی کیفیت بڑھتی ہے ، وہ البتہ دائمی ہوتی ہے ، اس میں ضعف نہیں ہوتا۔(آداب ِ شیخ و مرید، صفحہ ۲۹۹)
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کے یہ ملفوظات شیخ و مرید کے باہمی ربط اور آداب سے متعلق ہیں ۔ خود بھی پڑھیں اور دوستوں سے بھی شئیر کریں ۔
مزید ملفوظات پڑھنے کے لئے ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
اپنے پاس محفوظ کرلیں ۔
اس طرح کے ملفوظات روزانہ اس واٹس ایپ چینل پر بھی بھیجے جاتے ہیں
https://whatsapp.com/channel/0029VaJtUph4yltKCrpkkV0r
چینل جوائن کریں

