دین کی مشقت باعثِ پریشانی نہیں
ملفوظاتِ حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
ارشاد فرمایا کہ میں یہ نہیں کہتا کہ عمل کرنے سے ہر تعب سے نجات ہوتی ہے مگر پریشانی سے ضرور نجات ہوتی ہے اور اصل کلفت یہی ہے کہ اور اگر پریشانی نہیں تو خود تعب و مشقت میں بالذات کوئی کلفت نہیں۔ اسی پر حکایت یاد آئی کہ مولوی غلام محمد صاحب جو میرے دوست ہیں، وہ ایک رئیس کے لڑکوں کو پڑھایا کرتے تھے اور نماز بھی پانچوں وقت پڑھواتے تو ان لڑکوں کی ماں کوستی تھی کہ اس مولوی نے میرے بچوں کو زکام میں مبتلا کردیا، صبح کو وضو کراتا ہے۔ صاحب ایسی مشقت تو دین میں ہوتی ہے۔ مولانا فضل رحمن صاحب گنج مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ سے ایک شخص نے آکر پوچھا کہ ایک عورت کا شوہر گم ہوگیا ہے۔ مولوی صاحب نے فرمایا کہ مرد کی نوے برس کی عمر تک انتظار کرو۔ کہنے لگا کہ جناب ! اس میں تو بڑا حرج ہے اور دین میں حرج ہے نہیں۔ مولوی صاحب نے فرمایا کہ بھائی اگر یہ حرج ہے تو جہاد بھی حرج ہے سو حرج کے یہ معنی نہیں۔ حرج کہتے ہیں پریشانی اور الجھن کو سو اسلام میں یہ معنی نہیں۔ ہاں تعب و مشقت ہے تو کیا دنیا کے کاموں میں تعب و مشقت نہیں ہے۔
نوٹ:- یہ ملفوظات ڈاکٹر فیصل صاحب (خلیفہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمتین بن حسین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ) نے انتخاب فرمائے ہیں۔ اور انکو حضرت مولانا محمد زبیر صاحب (فاضل جامعہ دارالعلوم الاسلام لاہور 2023) نے تحریر فرمایا ہے ۔
یہ ملفوظات آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔

