.دھوپ میں کھڑے ہوکر دُعا نہ کرو (113)

.دھوپ میں کھڑے ہوکر دُعا نہ کرو (113)

دعا اور دوا یعنی تدبیر اور دعا میں تناسب رکھنا بہت ضروری ہے۔ دونوں کی اہمیت اپنی اپنی جگہ بتائی گئی ہے۔ لیکن اگر ان دونوں کو جوڑے بغیر صرف ایک پر اکتفا کرلیا جائے تو معاملہ مشکل میں پڑجاتا ہے۔ اگر کوئی شخص مسلسل دوا کررہا ہے لیکن دعا نہیں کررہا تو اسکو غلط کہا جائے گا۔ اور اگر کوئی شخص صرف دعا ہی کئے جارہا ہے اور دوا بالکل نہیں کررہا تو اسکو بھی غلطی پر کہا جائے گا۔
دعا کے آداب میںسے یہ ہے کہ تدبیر کرو اور پھر دعا کرو۔ اگر دعا بغیر ممکنہ تدبیر کے کروگے تو مایوسی کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ انسان اپنے بس میں جتنی ہوسکے کوشش کرلے۔ مثلاً ایک شخص دھوپ میں کھڑا ہوکر دعا مانگ رہا ہےکہ یا اللہ ! مجھ کو گرمی سے بچا لے۔
تو اسکو بیوقوفی سمجھا جائے گا۔ اِسکا مسئلہ تک تب حل نہیں ہوگا جب تک یہ کسی سایہ دار جگہ پر نہ چلاجائے۔ جب یہ دھوپ سے ہٹ جائے گا تو دعا بھی قبول ہوجائے گی اور گرمی بھی لگنا بند ہوجائےگی۔
آج کل ایک غلط فہمی یہ پیدا ہوگئی ہے کہ دھوپ میں کھڑے ہو کر ایسی دعا مانگیں گے کہ یااللہ آپ تو قادر مطلق ہیں مجھے گرمی سے بچالیجئے۔
دیکھئے !!! یہ ایک تمثیل ہے مگر کس قدر مضحکہ خیز ہے کہ انسان تدبیر تو نہ کرے اور دعا اس قدر یقین سے مانگنے لگ جائے کہ اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہیں۔ تو اس غلط فہمی کو آج ہی دور کیجئے۔ کتنے نوجوان ایسے ہیں جو گھر بیٹھے بغیر کسی کوشش کے دعا میں مصروف ہیں کہ اللہ کرے جلدی سے نوکری لگ جائے۔ کئی ایسے لوگ ہیں جو بغیر علاج کے دعا کررہے ہیں کہ اللہ کرے جلدی میری بیماری ختم ہوجائے۔ کئی ایسے لوگ ہیں جو اپنے ملک کو سدھارنے کی کوشش کئے بغیر دعا مانگ رہے ہیں کہ یا اللہ ہمارے ملک کے حالات ٹھیک کردے۔
توکیا صرف دعاؤں سے ٹھیک ہوجائے گا؟ کئی ایسے لوگ ہیں جو اپنی اولاد کی تربیت کی فکر نہیں کرتے اور مسلسل رو رو کر دعائیں مانگ رہے ہیں کہ یا اللہ میری اولاد کو آنکھوں کی ٹھنڈک بنادے۔
دوستو! اگر تدبیر اور حکمت کو نہیں اپناؤ گے تو صرف دعا ایک مضحکہ خیز امر بن جائے گا۔ اللہ تعالیٰ تو بالیقین قادر مطلق ہیں ۔ وہ ہر کام بغیر اسباب اور بغیر تدبیر کے بھی پورا فرما سکتے ہیں مگر اس کائنات کو اور ہر انسان کو اک خاص حد میں اسباب کا محتاج اور نظام کا پابند بنایا گیا ہے ۔ اگر اُس نظام کے تحت چلیں گے تو پھر دعائیں قبول بھی ہونگی اور زندگی کی مشکلات بھی ختم ہوجائیں گی۔
ممکنہ حد تک اسباب اختیار کرو
اور پھر دعا کا اہتمام کرو
اور پھر اللہ کی مدد کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لو ۔۔۔

نوٹ : یہ ’’آج کی بات‘‘ ایک بہت ہی مفید سلسلہ ہے جس میں حذیفہ محمد اسحاق کی طرف سے مشاھدات،خیالات اور تجربات پر مبنی ایک تحریر ہوتی ہے ۔ یہ تحریر ہماری ویب سائٹ
Visit https://readngrow.online/ for FREE Knowledge and Islamic spiritual development.
پر مستقل شائع ہوتی ہے ۔ ہر تحریر کے عنوان کے آگے ایک نمبر نمایاں ہوتا ہے ۔ جس اسکی قسط کو ظاہر کرتا ہے کہ یہ کون سی قسط ہے ۔ پچھلی قسطیں بھی ہماری ویب سائٹ پر دستیاب ہیں ۔ اگر کوئی پیغام یا نصیحت یا تحریر آپکو پسند آتی ہے تو شئیر ضرور کریں ۔ شکریہ ۔
مزید اپڈیٹس کے لئے ہمارے واٹس ایپ چینل کو ضرور فالو کریں
https://whatsapp.com/channel/0029Vb0Aaif4o7qSPFms4g1M

Most Viewed Posts

Latest Posts

ظاہری حال سے شیطان دھوکا نہ دے پائے (326)۔

ظاہری حال سے شیطان دھوکا نہ دے پائے (326) دوکلرک ایک ہی دفتر میں کام کیا کرتے تھے ایک بہت زیادہ لالچی اور پیسوں کا پجاری تھا۔ غلط کام کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتاتھا۔ جہاں کہیں خیانت اور بددیانتی کا موقع ہوتا تو بڑی صفائی سے اُسکا صاف ستھرا...

read more

استاذ اور شاگرد کے درمیان تعلق مضبوط کیسے ہوگا؟ (325)۔

استاذ اور شاگرد کے درمیان تعلق مضبوط کیسے ہوگا؟ (325)۔ مدرسہ استاذ اور شاگرد کے تعلق کانام ہے۔جہاں پر کوئی استاذ بیٹھ گیا اور اس کے گرد چند طلبہ جمع ہوگئے تو وہ اک مدرسہ بن گیا۔مدرسہ کا اصلی جوہر کسی شاندار عمارت یا پرکشش بلڈنگ میں نہیں، بلکہ طالبعلم اور استاد کے...

read more

خلیفہ مجاز بھی حدودوقیود کے پابند ہوتے ہیں (324)۔

خلیفہ مجاز بھی حدودوقیود کے پابند ہوتے ہیں (324)۔ خانقاہی نظام میں خلافت دینا ایک اصطلاح ہے۔ جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ صاحب نسبت بزرگ اپنے معتمد کو نسبت جاری کردیتے ہیں کہ میرے پاس جتنے بھی بزرگوں سے خلافت اور اجازت ہے وہ میں تمہیں دیتا ہوں ۔یہ ایک بہت ہی عام اور مشہور...

read more