نئے سال پر …… ایک نیا عزم کریں! (85)۔
نیا اسلامی سال 1446ھجری شروع ہوچکا ہے۔
ایک بہت ہی دلچسپ وقوعہ مجھے یاد آگیا کہ جس زمانہ میں مدرسہ میں پڑھا کرتا تھا اُن دنوں بینک اکاؤنٹ کھلوانے کی حاجت پیش آئی۔
آج کل بینک اکاؤنٹ کھلوانا قدرے آسان ہوگیا ہے مگر اُسوقت کاغذات اکٹھے کرنا اور آمدن کے ثبوت فراہم کرکے بینک کو دینا ایک کٹھن مرحلہ تھا۔ اُنہی دنوں میں نے سنا کہ اگر کوئی اسٹوڈنٹ ہو تو وہ یو بی ایل بینک میں بہ آسانی اکاؤنٹ کھلواسکتا ہے۔
میں بھی اپنا مدرسہ کا طالب علمی کارڈ لے کر ملتان کی ایک برانچ میں چلاگیا۔کارڈ کو دیکھ کر اُنہوں نے اس بات کی تصدیق کرلی کہ یہ اسٹوڈنٹ کارڈ قابل قبول تو ہے لیکن یہ چیز ابھی زیر تفتیش ہے کہ اس کارڈ کی میعاد باقی ہے یا نہیں؟جب اُنہوں نے میعاد کا خانہ دیکھا تو وہاں پر ہجری سال عربی انداز میں لکھا ہوا تھا۔ جو کہ ایک اچنبھا بن گیا۔
یہ تقریباً دس سال پہلے کی بات ہے مگر مجھے ابھی تک یاد ہے کہ پورے عملہ میں سے کسی کو بھی سمجھ میں نہ آیا کہ ہجری سال میں ساتواں مہینہ کون سا ہوتا ہے اور موجودہ مہینہ کون سا چل رہا ہے۔حتیٰ کہ سیڑھیوں کے اوپر منیجر صاحب کے کمرے میں مجھے پیش کیا گیا۔ منیجر صاحب نے اپنے اردگرد بیٹھے لوگوں سے پوچھا تو کسی نے مشورہ دیا کہ آپ آج کی اخبارمنگوا لیں تو اُس پرپتہ چل جائیگا کہ یہ کون سا مہینہ چل رہا ہے۔ تب جا کر معاملہ حل ہوا اور پتہ چل گیا کہ ابھی کچھ ماہ باقی ہیں ساتواں مہینہ شروع ہونے میں۔ مگر سال والا پھر معمہ بن گیا کہ مثلاً اگر ۱۴۳۸ ہجری تھی تو یہ اخبار پر انگریزی حروف میں لکھی ہوئی تھی مگر مدرسہ کے کارڈ پر عربی حروف میں لکھی ہوئی تھی جس سے پھر وہ لوگ نا آشنا تھا مگر اس مرتبہ بہت بیچارگی میں منیجر نے میری طرف دیکھ کر پوچھا کہ آپ خود ہی بتا دیں کہ ابھی اس کارڈ کی میعاد باقی ہے یا نہیں ؟
میں نے معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ کہہ دیا کہ میں ابھی طالبعلم ہوں اور یہ کارڈ ایک سال کے لئے کارآمد ہوتا ہے یعنی ابھی تک کارآمد ہے۔ تو اِس پر میرا اکاؤنٹ اوپن ہوگیامگر میں اس وقوعہ پر بہت عرصے تک سوچتا رہا کہ اسلامی تاریخ کو ہم مسلمانوں نے ہی فراموش کردیا ہے۔ بالخصوص مدرسہ کے طلبائے کرام کو بھی جب انگریزی تاریخ لکھتے ہوئے دیکھتا ہوں تو مجھے یہی بات محسوس ہوتی ہے کہ اپنے اقدار کو ہم خود ہی بھولتے جارہے ہیں۔
اس نئے سال کے موقع پر تمام مسلمان حضرات بالخصوص دینی مدارس کے طلباء کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ عزم کریں کہ حتی الامکان قمری تاریخ کو فروغ دیںگے۔ اور جہاں کہیں انگریزی تاریخ لکھنا ضروری ہو وہیں پر بمطابق کا لفظ لکھ کر قمری تاریخ بھی لکھ دیں کیونکہ اگر آپ لوگ نہیں حفاظت کریں گے تو اور کون کرے گا؟
میں شمسی تاریخ کو غیر اسلامی نہیں سمجھتا مگر مرا نقطہ نظریہ ہے کہ قمری تاریخ کی حفاظت بھی ہم کو ہی کرنی ہےکیونکہ اُسکو اسلام میں بنیادی اہمیت حاصل ہے۔
تو اگر آپ بھی اس عزم میں شریک ہیں تو آج ہی سے قمری تاریخ لکھنے کو معمول بنانے کا ارادہ کرلیں۔
ان شاء اللہ العزیز !!!۔
نوٹ : یہ ’’آج کی بات‘‘ ایک بہت ہی مفید سلسلہ ہے جس میں حذیفہ محمد اسحاق کی طرف سے مشاھدات،خیالات اور تجربات پر مبنی ایک تحریر ہوتی ہے ۔ یہ تحریر ہماری ویب سائٹ
Visit https://readngrow.online/ for FREE Knowledge and Islamic spiritual development.
پر مستقل شائع ہوتی ہے ۔ ہر تحریر کے عنوان کے آگے ایک نمبر نمایاں ہوتا ہے ۔ جس اسکی قسط کو ظاہر کرتا ہے کہ یہ کون سی قسط ہے ۔ پچھلی قسطیں بھی ہماری ویب سائٹ پر دستیاب ہیں ۔ اگر کوئی پیغام یا نصیحت یا تحریر آپکو پسند آتی ہے تو شئیر ضرور کریں ۔ شکریہ ۔
مزید اپڈیٹس کے لئے ہمارے واٹس ایپ چینل کو ضرور فالو کریں
https://whatsapp.com/channel/0029Vb0Aaif4o7qSPFms4g1M

