حکیم الاسلام کا حکیمانہ جواب
محترمی، زید مجدکم
سلام مسنون!۔
گرامی نامہ پہنچا بوجہ کثرت کار و ہجوم اسفار جواب میں تاخیر ہوئی معذرت پیش کرتا ہوں۔
آپ نے سورہ نصر کی جو کاشتکارانہ تفسیر فرمائی ہے اس کی سند اور ماخذ کیا ہے؟
اور اگر یہ بلا سند محض تخیل ہے تو اگر کوئی لوہار اس کی لوہارانہ تفسیر لکھے اور کہے دین اللہ سے مراد فولاد سازی ہے اور نصراللہ سے مراد لوہا بنانے کی بھٹی اور دھونکنی ہے اور یدخلون فی دین اللہ سے مراد فولادی فیکٹریوں میں مزدروں اور کاریگروں کا داخلہ ہے اور فتح سے مراد فیکٹری کے آہنی مال کی دنیا میں سپلائی ہے جس سے مالی فتوحات کا دروازہ کھل جاتا ہے اور استغفار کا حکم لوہاروں اور آہنی فیکٹریوں کے کاریگروں کو ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں یا اسی طرح ایک نجار اس سورت کی ایک نجارانہ تفسیر لکھے کہ دین اللہ سے مراد لکڑی کی صنعت ہے اور نصراللہ سے مراد آرہ مشین اور نہانی و بسولہ اور دخول افواج سے مراد فرنیچر کے کارخانوں میں کاریگروں کا داخلہ اور استغفار کا حکم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں بلکہ بڑھئیوں کو ہے تو کیا اپنے تخیل کے نقطہ نظر سے اس کو قبول فرمائیں گے؟ اگر نہیں تو کیوں؟ اور اگر قبول فرمائیں گے دراں حالیکہ آپ کی تفسیر کی نفی ہوگی تو آپ نے خود ہی اپنی تفسیر کی نفی کردی اور اسے رد کردیا اب اگر اسی طرح دوسرے سارے لوگ بھی اس صورتحال کے ہوتے ہوئے اسے رد کردیں تو اس میں کیا حرج ہے؟ اور جب یہ تفسیر اسی رد و نفی کے کنارہ پر ہے تو اگر یہ کہہ دیا جائے کہ ایسی ردی چیز تفسیر نہیں ہوسکتی تحریف ہوگی تو اس میں کیا قباحت ہے؟ مقصد یہ ہے کہ آپ کے نزدیک تفسیر کا معیار کیا ہے اور تفسیر کے معنی کیا ہیں جسے پیش نظر رکھ کر آپ کی اس تفسیر کے بارے میں کوئی رائے قائم کی جاسکے۔
والسلام محمد طیب مہتمم دارالعلوم دیوبند (از مکتوبات حکیم الاسلام)
