حسد کا دوسرا علاج (ملفوظات شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ العالی)۔
ارشاد فرمایا کہ حسد کی بیماری کا دوسرا موثر علاج ہے، وہ یہ کہ حسد کرنے والا یہ سوچے کہ میری خواہش تو یہ ہے کہ جس شخص سے میں حسد کر رہا ہوں اس سے وہ نعمت چھن جائے ، لیکن معاملہ ہمیشہ اس خواہش کے برعکس ہی ہوتا ہے۔چنانچہ جس سے حسد کیا ہے، اس شخص کا تو فائدہ ہی فائدہ ہے ، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، اور حسد کرنے والے کا نقصان ہی نقصان ہے۔دنیا میں اس کا فائدہ یہ ہے کہ جب تم نے دنیا میں اس کو اپنا دشمن بنالیا، تو اصول یہ ہے کہ دشمن کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ میرا دشمن ہمیشہ رنج و غم میں مبتلار ہے، لہٰذا جب تک تم حسد کروگے، رنج و غم میں مبتلار ہو گے، اور وہ اس بات سے خوش ہوتا رہے گا کہ تم رنج و غم میں مبتلا ہو۔ یہ تو اس کا دنیاوی فائدہ ہے اور آخرت کا فائدہ یہ ہے کہ تم اس سے جتنا جتنا حسد کرو گے،اتنا ہی اس کے نامہ اعمال کے اندر نیکیوں میں اضافہ ہوگا، اور وہ چونکہ مظلوم ہے، اس لئے آخرت میں اس کے درجات بلند ہوںگے، اور حسد کی لازمی خاصیت یہ ہے کہ یہ حسد انسان کو غیبت پر، عیب جوئی پر ، چغل خوری اور بے شمار گناہوں پر آمادہ کرتا ہے، اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ خود حسد کرنے والے کی نیکیاں اس کے نامہ اعمال میں منتقل ہو جاتی ہیں ،اس لئے کہ جب تم اس کی غیبت کرو گے، اور اس کے لئے بددعا کرو گے تو تمہاری نیکیاں اس کے نامہ اعمال میں چلی جائیں گی، جس کا مطلب یہ ہے کہ تم جتنا حسد کر رہے ہو، اپنی نیکیوں کے پیکٹ تیار کر کے اس کے پاس بھیج رہے ہو تو اس کا تو فائدہ ہو رہا ہے۔اب اگر ساری عمر حسدکرنے والا حسد کرے گا تو وہ اپنی ساری نیکیاں گنوا دے گا، اور اس کے نامہ اعمال میں ڈال دے گا۔
۔(حسدایک معاشرتی ناسور، اصلاحی خطبات، جلد پنجم، صفحہ ۷۵)۔
یہ ملفوظات حضرت ڈاکٹر فیصل صاحب نے انتخاب فرمائے ہیں ۔
شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کے ملفوظات اور تعلیمات پڑھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں:۔
https://readngrow.online/category/mufti-taqi-usmani-words/

