حالات کی تفتیش اور عیب جوئی کا حق کس کو حاصل ہے؟
ملفوظاتِ حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
ارشاد فرمایا کہ جس کے سپرد حق تعالیٰ نے اصلاحِ خلق کا کام کردیا ہو اس شخص کو تفتیشِ حالات کی ضرورت ہے۔ بغیر علمِ حالات کے اصلاح ممکن نہیں ہے مثلاً حاکمِ وقت جب تک حالات کی تفتیش نہ کرے گا مجرموں کو سزا نہ دے سکے گا۔ مگر اس کو بھی ایسے امور میں اجازت ہے کہ جن میں تفتیش نہ کرنے سے فساد کا احتمال ہو اور جو امور ایسے نہیں ہیں ان میں حاکم کو بھی تجسس کی اجازت نہیں۔ اسی طرح اگر کوئی شخص اتالیق یا نگران ہو تو اس کو بھی تفتیشِ حالات کی ضرورت ہے کیونکہ اس کے بغیر اصلاح ممکن نہیں مثلاً شوہر کو بیوی کے حالات کی تفتیش کی ضرورت ہے یا کوئی شخص مصلحِ قوم ہو تو اس کو بھی مجموعی طور سے قوم کے حالات کا علم حاصل کرنے کی ضرورت ہے ورنہ وعظ وپند(نصیحت) کچھ نہ کرسکےگا مگر مصلح کو بھی اس وقت تک اجازت ہے کہ تفتیش سے مقصود اصلاح ہو۔ اگر تحقیر کے لیے ایسا کرے گا تو اس کو بھی ہرگز اجازت نہ ہوگی کیونکہ *انما الاعمال بالنیات* یعنی اعمال کا دارومدار نیت پر ہے۔
چھپ کر باتیں سننا یا اپنے کو سوتا ہوا بناکر باتیں سن لینا سب تجسس میں داخل ہے۔ اگر کسی سے مضرت پہنچنے کا احتمال ہو اور اپنی یا کسی مسلمان کی حفاظت کی غرض سے اس مضرت رساں کی تدبیروں اور ارادوں کا تجسس کرے تو جائز ہے۔
نوٹ:- یہ ملفوظات ڈاکٹر فیصل صاحب (خلیفہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمتین بن حسین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ) نے انتخاب فرمائے ہیں۔ اور انکو حضرت مولانا محمد زبیر صاحب (فاضل جامعہ دارالعلوم الاسلام لاہور 2023) نے تحریر فرمایا ہے ۔
یہ ملفوظات آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔

