تمکین دین
آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو کامل دین اسلام لے کر آئے پوری دنیا کے لیے تھا عرب میں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ ہی میں دین پھیل گیا باقی عجم میں آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم جو آپ ہی کی سنت کے نمونے تھے ان کے ذریعہ دین پھیلا اور اس کی پیشینگوئی خود قرآن پاک میں فرمادی گئی تھی وعدہ کرلیا اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں سے جو تم میں ایمان لائے ہیں اور کئے ہیں انہوں نے نیک کام البتہ پیچھے حاکم کردے گا ان کو ملک میں جیسا کہ حاکم کردیا تھا ان سے اگلوں کو اور جمادے گا ان کے لیے دین ان کا جو پسند کردیا ان کے واسطے اور دے گا ان کو ان کے ڈر کے بدلے امن میری بندگی کریں گے شریک نہ کریں گے میرا کسی کو اور جو کوئی ناشکری کرے گا اس کے پیچھے، سو یہی لوگ ہیں نافرمان (النور۔ ۵۵)
چنانچہ جس دین کی تکمیل آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ہوئی تھی وہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی محنتوں اور کوششوں سے دنیا میں مضبوطی کے ساتھ جم گیا یہی وہ مقدس جماعت ہے جن کا ذکر خیر ہمارے نام میں والجماعت کے لفظ میں آگیا ہے۔ اہل سنت کے علاوہ کسی اہل بدعت کے نام میں نہ والجماعت ہے اور نہ اس سے مراد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہیں۔
