بدگمانی کے نقصانات
ملفوظاتِ حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
ارشاد فرمایا کہ بدگمانی سے یہ آفتیں پیدا ہوتی ہیں: دوسرے کو حقیر سمجھنا، اس سے بغض و عداوت کرنا، اس کے افعال حسنہ کو کسی نفسانی غرض پر محمول کرنا، اس کی غیبت کرنا، اس کے نقصان اور ذلت پر خوش ہونا، اور طرح طرح کی خرابیاں اس پر مرتب ہوتی ہیں۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ قوی قرائن کے ہوتے ہوئے بھی حتی الامکان بدگمانی نہ کریں بلکہ کچھ تاویل کرکے اس کو اپنے دل سے رفع کریں۔ اس سے بڑھ کر کیا ہوگا کہ حضرت عیسی علیہ السلام نے ایک شخص کو اپنی آنکھوں سے چوری کرتے دیکھ کر ٹوکا۔ اس نے خدا کی قسم کھا کر کہا کہ میں چوری نہیں کرتا ہوں۔ آپ فرماتے ہیں میرے خدا کا نام سچا ہے، میری آنکھ جھوٹی ہے۔ البتہ اگر دفع کرنے پر بھی (وہ بدگمانی کا خیال) دل سے دفع نہ ہو تو اس پر مؤاخذہ نہیں مگر اس کا ذکر کرنا، اس کے مقتضی کے موافق برتاؤ کرنا یہ ضرور گناہ ہے۔ خصوصاً چغلخوری کی وجہ سے کسی سے بدگمانی ہو جانا۔
نوٹ:- یہ ملفوظات ڈاکٹر فیصل صاحب (خلیفہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمتین بن حسین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ) نے انتخاب فرمائے ہیں۔ اور انکو حضرت مولانا محمد زبیر صاحب (فاضل جامعہ دارالعلوم الاسلام لاہور 2023) نے تحریر فرمایا ہے ۔
یہ ملفوظات آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔

