بجائے جہیز کے زمین، جائیداد یا تجارت کے لیے نقد رقم دینا
بسلسلہ ملفوظات حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نور اللہ مرقدہ
ارشاد فرمایا کہ میں نے ایک تعلق دار کی حکایت سنی ہے جو بہت بڑے مالدار ہیں کہ انہوں نے اپنی لڑکی کا نکاح کیا اور جہیز میں صرف ایک پالکی دی اور ایک قالین اور ایک قرآن مجید ۔ اس کے سوا کچھ نہ دیا ، نہ برتن ، نہ کپڑے بلکہ اس کے بجائے ایک لاکھ روپیہ کی جائیداد بیٹی کے نام کردی اور کہا کہ میری نیت اس شادی میں ایک لاکھ روپیہ خرچ کرنے کی تھی اور یہ رقم اس واسطے پہلے تجویز کر لی تھی۔ خیال تھا کہ خوب دھوم دھام سے شادی کروں گا ، مگر پھر میں نے سوچا کہ اس دھوم دھام سے میری بیٹی کو کیا نفع ہوگا ، بس لوگ کھا پی کر چل دیں گے ، میرا روپیہ برباد ہوگا اور میری بیٹی کو کچھ حاصل نہ ہوگا ، اس لیے میں نے ایسی صورت اختیار کی جس سے بیٹی کو نفع پہنچے اور جائیداد سے بہتر اس کے لیے کوئی نفع کی چیز نہیں ۔ اس سے وہ اور اس کی اولاد پشتہا پشت تک بے فکری سے عیش کرتے رہیں گے ، اور اب کوئی مجھے بخیل اور کنجوس بھی نہیں کہہ سکتا کیونکہ میں نے دھوم دھام نہیں کی تو رقم اپنے گھر میں بھی نہیں رکھی ۔ دیکھو یہ ہوتا ہے عقلاء کا طرز۔اگر خدا کسی کو دے تو بیٹی کو جہیز میں بہت دینا برا نہیں مگر طریقہ سے ہونا چاہیے جو لڑکی کے کچھ کام بھی آئے ۔ مگر عورتوں کو کچھ نہیں سوجھتا ، یہ تو ایسی بے ہودہ ترکیبوں سے برباد کرتی ہیں جس سے نہ ان کو کچھ وصول ہوتا ہے نہ لڑکی کو۔ (صفحہ ۲۲۲،اسلامی شادی)
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کے یہ ملفوظات نکاح یعنی اسلامی شادی سے متعلق ہیں ۔ ۔ خود بھی پڑھیں اور دوستوں سے بھی شئیر کریں ۔
مزید ملفوظات پڑھنے کے لئے ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
اپنے پاس محفوظ کرلیں ۔
اس طرح کے ملفوظات روزانہ اس واٹس ایپ چینل پر بھی بھیجے جاتے ہیں
https://whatsapp.com/channel/0029VaJtUph4yltKCrpkkV0r
چینل جوائن کریں

