بارگاہ خداوندی میں انمول آنسو

بارگاہ خداوندی میں انمول آنسو

حجۃ الاسلام مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ہر بادشاہ کے خزانے میں جو موتی کسی دوسرے ملک سے منگوایا جاتا ہے۔ اس کی قدر خود بادشاہ بھی بہت کرتا ہے‘ اسی طرح ندامت کے جو آنسو گناہ گار کی آنکھوں سے زمین پر گرتے ہیں‘وہ بھی اللہ تعالیٰ کے شاہی خزانے میں قبول ہوجاتے ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے شاہی خزانے میں صرف عزت و جلال ہے۔ وہاں ندامت کے آنسو نہیں ہیں۔ لہٰذا وہ اپنے بندوں کے ندامت کے آنسوئوں کو دنیا سے برآمد کرکے بے انتہا قدر کرتے ہیں اور شرف قبولیت عطا فرماتے ہیں اور شہیدوں کے خون کے برابر وزن فرماتے ہیں۔(مختصر پُر اثر)
حکیم الامت مجدد الملت تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کی عادت تھی کہ جب کوئی دعا مانگتے اور آنکھ سے کوئی آنسو آتا تو حضرت ان آنسوئوں کو اپنے چہرے پر مل لیا کرتے۔ ایک مرتبہ ایک طالب علم نے دیکھ لیا ۔ اس نے عرض کیا کہ حضرت! آپ کا یہ عمل کس بناء پر ہے ؟فرمایا میں اُمید کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان آنسوئوں کی برکت سے میرے چہرے کو جہنم کی آگ سے محفوظ فرمائیں گے ۔ وہ بھی آخر طالب علم تھا۔ کہنے لگا کسی کا چہرہ بچ بھی گیا اور جسم کے باقی اعضاء نہ بچے تو پھر کیا فائدہ؟ اس پر حکیم الامت حضرت تھانوی رحمہ اللہ نے یہ حکایت بیان فرمائی کہ
بادشاہ اورنگزیب عالمگیر رحمۃ اللہ علیہ کے وقت میں ایک وزیر فوت ہوا ۔ وزیر کا ایک بیٹا چھوٹی عمر کا تھا مگر بڑا سمجھ دار تھا بادشاہ نے اس بچے کو دل لگی کی خاطر بلایا جب وہ بچہ حاضر ہوا تو اورنگزیب عالمگیر رحمۃ اللہ علیہ اس وقت محل کے ایک تالاب میں نہا رہے تھے ۔بچے کو دیکھ کرآپ کنارے پر آئے ۔وہ بچہ قریب ہوا سلام کیا جب اس نے مصافحہ کیا تو آپ نے اس کی انگلیاں مضبوطی سے پکڑلیں اور بچے سے کہا ۔میں تمہیں کھینچ کر پانی میں نہ ڈال دوں؟وہ بچہ مسکرا پڑا ‘بادشاہ اورنگزیب بڑے حیران ہوئے کہ بچے کو تو گھبرانا چاہیے تھا ۔ چنانچہ انہوں نے وجہ پوچھی تو وہ بچہ کہنے لگا بادشاہ سلامت! میرے ہاتھ کی چند انگلیاں آپ کے ہاتھوں میں ہیں ۔بھلا مجھے ڈوبنے کا کیا ڈر ہے؟ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ آپ مجھے اپنی آنکھوں کے سامنے کھینچ کر اس پانی میں ڈبو دیں ۔
یہ حکایت سنا کر حضرت اقدس تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا اگر اس بچے کو بادشاہ کی انگلیاں پکڑنے پر اتنا اعتماد ہے تو کیا اللہ کی رحمت پر ہمیں اتنا بھی اعتماد نہ ہو کہ اگر وہ چہرہ جہنم کی آگ سے بچائے گا تو پورے جسم کو بھی جہنم کی آگ سے آزاد فرمادے گا ہر دینے والا اپنی حیثیت کے مطابق دیتا ہے ۔ بادشاہوں کے عطایا ان کی شان کے مطابق ہوتے ہیں ۔ ہم بھی اللہ رب العزت سے بہترین حسن ظن رکھیں گے تو وہ اپنی شان کے مطابق معاملہ فرمائیں گے ۔باپ اپنے چھوٹے بچے کو تھوڑا سا دور کھڑا کرکے کہتا ہے ۔ بیٹا! میری طرف آئو ۔وہ بچہ بہت کوشش کرتا ہے مگر وہ اپنی کوشش میں ناکام ہوجاتا ہے لیکن وہ بچہ اپنے باپ پر اعتماد کرتے ہوئے کوشش جاری رکھتا ہے پھر باپ کی محبت جوش میں آتی ہے تو باپ خود جاکر بچے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے ۔(یادگار واقعات)

اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

Most Viewed Posts

Latest Posts

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا ہم ایک دفعہ رشیا گئے ، ماسکو میں ایک نوجوان ملا، اس سے بات ہوئی تو اس نے کہا کہ کلمہ پڑھایئے، ہم نے کلمہ پڑھا دیا اور وہ مسلمان بن گیا۔ اس نے کہا کہ میں بائیس گھنٹے کی مسافت سے آیا ہوں، ہمارا ایک کلب ہے ’’ پریذیڈنٹ کلب‘‘ جس میں پینتالیس مرد...

read more

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more