اَسلاف پر اعتماد ناگزیر ہے

اَسلاف پر اعتماد ناگزیر ہے

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جارہا ہوں کتاب اللہ و سنتی، جب تک ان دونوں کو مضبوطی سے پکڑے رہو گے کبھی گمراہ نہیں ہو گے۔ یہ باتیں آپ کو بتائیں گے بہت لیکن سمجھائیں گے بہت کم کہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تمسک کا انداز کیا ہونا چاہیے یہ سمجھنا ہے۔ اس وقت دُنیا جو نقصان اُٹھا رہی ہے، وہ یہ ہے کہ لوگ اس معیار کو نہیں سمجھے کہتے ہیں کہ کتاب اللہ کو پکڑو اور بعض کہتے ہیں کہ حدیث بھی ہو لیکن اللہ کا تقاضا ایک اور بھی ہے کہ
۔’’فَاِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَا اٰمَنْتُمْ بِہٖ‘‘ (البقرہ:137)
ہدایت اگر کتاب اللہ اور سنت سے لینی ہے تو ایسے جیسے صحابہ رضی اللہ عنہم نے لیا ہے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم کو جس نے چھوڑا وہ گمراہ ہوا کیونکہ معیار صحابہ ہی ہیں وہ بلاواسطہ مخاطب ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے، وحی کے۔ ان کے زانوں پر آپ کا سر ہوتا وحی آتی تھی۔ کیا انہوں نے قرآن کے مزاج کو نہیں سمجھا! حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں حضرت جبریل علیہ السلام آئے سب صحابہ رضی اللہ عنہم نے دیکھا۔ فرمایا یہ جبریل علیہ السلام تھے تمہیں تمہارا دین سکھانے کے لیے آئے تھے۔
اگر ہماری نظر صحیح نہ ہو تو ہم عینک کا سہارا لیتے ہیں۔ یوں سمجھیں کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کی عینک لگائیں اور قرآن و سنت کو پرکھیں ان شاء اللہ غلامی کی زنجیر اسی سے ٹوٹے گی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اور کوئی چیز نہیں بتلائی اُمت کو نہ اللہ نے مکلف کیا ہے لیکن دُنیا کو علم سکھانے والے بن گئے۔ آج بھی اُمت میں مفسرین، علماء، فقہاء ہیں۔ ایک صحابی کو ساری روایات نہیں پہنچیں لیکن پچھلے والوں کے لیے سارا ذخیرہ اکٹھا کرکے چھوڑ گئے۔ ہمیشہ یہ قاعدہ رہا ہے کہ ہر آنے والا طبقہ اپنے ماسبق سے اس کے پاس معلومات کا ذخیرہ زیادہ ہوتا ہے۔ فن والے اپنے فن کو ہر سال تازہ اور جدید کرتے ہیں کہ نئی چیز کیا آئی ہے۔
یہ بھی یاد رکھیں معلومات کا ہونا اور علم کا ہونا دو مختلف چیزیں ہیں۔ صحابہ رضی اللہ عنہم کے پاس علم تھا معلومات کم تھیں، ہمارے پاس معلومات ہیں علم نہیں ہے یہ حقیقت ہے۔ علم ایسا نور ہے جو گناہ کے ساتھ جمع نہیں ہوتا۔ فقیر نے علم کی تعریف اپنے اساتذہ سے سنی، فرمایا علم نور کا اقتباس ہے۔ جو علم وحی قلبمحمدصلی اللہ علیہ وسلم پر القاء ہوا ہے اس روشنی کا ایک ٹکڑا کسی واسطہ سے کسی کے دل میں پہنچ جائے تو قلب کو روشن کردیتا ہے۔ اس روشنی کو جو حاصل کرے گا وہ صحیح نتیجہ پر پہنچے گا چاہے بواسطہ کتاب، الہام یا اُستاد آئے۔ مروجہ طریقہ یہی ہے کہ میں نے اپنے اُستاد سے انہوں نے اپنے اُستاد سے اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ پہنچے تب جاکر علم پہنچتا ہے۔
آپ سارا قرآن پڑھیں کہیں نہیں ملے گا کہ قرآن زیادہ پڑھو۔
۔’’اُتْلُ مَآ اُوْحِیَ اِلَیْکَ مِنَ الْکِتَابِ‘‘ (العنکبوت:35)
دوسری جگہ فرمایا: ’’فَاقْرَئُ وْا مَا تَیَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ‘‘ (المزمل:20)
پوری زندگی میں چالیس آیات اگر آپ نے سمجھ لیں تو آپ کا حشر علماء میں ہوگا۔ کتنی قیمتی چیز ہمارے پاس ہے اور اس کا احساس ہمیں نہیں۔
غلامی کا یہ خاصہ ہوتا ہے کہ آدمی کی سوچ ماری جاتی ہے، صلاحیت سلب ہو جاتی ہے۔ جب مالک غلام بناتا ہے تو پہلے قلب و ذہن کو ماؤف کرتا ہے، کوئی بھی سوچ نہیں سکتا امریکہ سے ہٹ کر۔ کفر کا مقدر جہالت اور ایمان کا مقدر نور اور علم ہے۔
اپنے گھر میں دوستوں میں ترغیب دیں کہ قرآن کو پڑھو لیکن آزاد ترجمہ نہیں جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جس انداز سے صحابہ رضی اللہ عنہم کو پڑھایا ہے، ہم ان کی سیرت کو مدنظر رکھیں، ان کے معانی و مطالب کو سمجھ کر عمل کریں، ان شاء اللہ ہمیں وہ کچھ ملے گا کہ ہمیں کوئی بہکا نہیں سکے گا۔ اگر صحابہ رضی اللہ عنہم کو چھوڑ دیا تو پھر کچھ نہیں۔ صحابہ رضی اللہ عنہم فصاحت و بلاغت کے امام تھے لیکن ہر ہر آیت کا مطلب حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھتے تھے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے قرآن گنگنایا نہیں وہ ہم میں سے نہیں۔ مطلب یہ کہ انسان کی عادت ہے کہ وہ تنہائی میں گنگناتا ہے تو وہ نظم یا شعر بھی ہوسکتا ہے لیکن پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ تمہارا گنگنانا قرآن ہو، اس کو چھونے، پڑھنے، ہاتھ لگانے، پھیلانے، ادب کرنے کی برکات ہیں سب سے حصہ لیں۔
بعض دفعہ نقلیں آتی ہیں جو برانڈ بازار میں مشہور ہو جائے اس کی نقل بھی آتی ہے کہ نقالوں سے بچئے! چونکہ یہ عنوان (کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) بہت خوبصورت ہے اس عنوان کے تحت ہم سے دھوکے ہورہے ہیں۔
فطرتاً یہ عنوان انسان کو کھینچتا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے فرمان اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے علاوہ کسی چیز کو نہیں مانتے، تم نے شرک فی النبوۃ کیا ہے، ائمہ کی تقلید کرتے ہو، ہمیں قرآن و رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہوا ہے یہ مغالطہ دیا جاتا ہے اور اکثر پڑھے لکھے دوست اس پروپیگنڈا سے متاثر ہو جاتے ہیں کہ تم نے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کو پیغمبر کا درجہ دے دیا ہے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں ان کے قول کو نقل کرتے ہو۔ ہم حدیث کو جانیں یا ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے قول کو۔ ’’کلمۃ حقٍ ارید بھا الباطل‘‘ بات ٹھیک ہے لیکن اس سے مقصود وہ غلط ہے۔
فقیر آپ سے پوچھتا ہے کہ ہم اہلسنّت والجماعت ہیں، ہمارا عقیدہ ہے کہ ایک صحابی کے مقابلے میں دُنیا کا کوئی ولی نہیں آسکتا۔ سارے ولی، تابعین اکٹھے ہوجائیں حضرت وحشی رضی اللہ عنہ سے نہیں بڑھ سکتے ہیں (جنہوں نے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کا کلیجہ چبایا تھا) جس کا یہ عقیدہ ہو وہ امام کو نبی کے مقابلے میں کرے گا! ایسا سوچنا بھی محال ہے۔ یہ ان کی خباثت ہے کہ وہ ایسا سمجھتے ہیں۔ دراصل ان کا ایک عقیدہ ہے جس کا اظہار وہ ان باتوں سے کرتے ہیں کہ ان کے نزدیک پیغمبر علیہ السلام کا مقام ایک بڑے بھائی کی حیثیت کا ہے۔
اس لیے وہ پیغمبر کو اتنا نیچے لے آتے ہیں اور گندی سطح پر سوچتے ہیں کہ شاید یہ پیغمبر علیہ السلام کو امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے برابر کررہے ہیں۔ یہ ہرگز نہیں ہے، تقلید کا مطلب صرف اتنا ہے جیسے آپ لفظ اعتماد کو سمجھ لیں کہ ہم جس کی تقلید کرتے ہیں اس پر اعتماد کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اپنی نہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنائے گا، ان مسائل میں جن میں صحابہ رضی اللہ عنہم کا اختلاف ہوا ہے، وہ عالم ہیں، انہوں نے اپنے علم اور فقہ کی روشنی میں جو دو اقوال صحابہ رضی اللہ عنہم کے ہیں ان میں سے ایک کو ترجیح دی ہے کہ وہ ’’اوفق بالسنّۃ‘‘ ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی منشاء کے زیادہ قریب ہوگا اور یہ کہتے ہیں کہ اس کی بات نہیں، میری بات ہے، امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی بات ہے حالانکہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی بھی نہیں مانتے۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا مسلک وہی ہے جو ہمارا ہے۔ (اہلسنّت والجماعت)
ہم اعتماد اپنے علم پر نہ کریں، ہمارا علم ناقص ہے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم معصوم نہیں لیکن محفوظ ہیں لیکن ایک چیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور بھی بتلائی ہے وہ اس اُمت کا اجماع ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سند دی ہے کہ میری اُمت باطل پر کبھی جمع نہیں ہوگی کہ سارے ایک جھوٹے مسئلے پر اکٹھے ہو جائیں، کبھی نہیں ہوگا تو اُمت کا اجماع جن کے حق میں ہو کہ یہ اہل خیر ہیں، اہل فقہ ہیں تو ان کے بتلائے ہوئے مسئلے پر اعتماد کرلینا کہ انہوں نے جو بات بتلائی ہے (حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے صحابہ رضی اللہ عنہم نے جو کچھ سمجھا ہے) ان کے طریقہ کے مطابق زیادہ قابل قبول ہے، اس میں کون سی قباحت ہے بلکہ اس میں نفس کو خودرائی سے محفوظ رکھنا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھ عطا فرمائیں۔(مجالس ناصریہ، ص:۳۷۴)

Most Viewed Posts

Latest Posts

صحابہ رضی اللہ عنہم معیارِ حق

صحابہ رضی اللہ عنہم معیارِ حق حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:۔۔’’حضرات صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم شریعت کا معیار تو نہیں ہیں کہ وہ شریعت بنائیں‘ البتہ وہ شریعت کے متبع ہیں اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس بات کا...

read more

دینِ اسلام کو ہدفِ تنقید بنانے کے چندبنیادی اسباب وعلامات

دینِ اسلام کو ہدفِ تنقید بنانے کے چندبنیادی اسباب وعلامات دینِ اسلام کے متعلق منفی اور تنقیدی ذہنیت کی درج ذیل بارہ علامات ہیں:۔ ۔1۔۔علومِ قرآن وسنت سے ناواقفیت قرآن وسنت کو صحیح طور پر جاننے‘ سمجھنے اور اس سے دین وشریعت کے مسائل استنباط کرنے کے لیے عربی زبان کے...

read more

اہلسنّت والجماعت

اہلسنّت والجماعت پیغمبر کا کوئی فعل عبث اور حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔ حدیث میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مؤلفۃ القلوب (غزوۂ حنین کے بعد جو مال آیا ہے) کو تقسیم کیا ہے اس میں بظاہر مساوات کو مدنظر نہیں رکھا کسی کو تردد ہوا، بعض مخلص بھی تھے...

read more