اشغال و مجاہدا صوفیہ بدعت نہیں
بسلسلہ ملفوظات حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نور اللہ مرقدہ
ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت آج کل بعض خشک علماء بھی طریق ِ اصلاح کے بعض اجزاء کو بدعت کہتے ہیں جیسے بعض ریاضات یا بعض اشغال۔حضرتؒ نے ارشاد فرمایا کہ بدعت کی حقیقت تو یہ ہے کہ اس کو دین سمجھ کر اختیار کرے، اگر معالجہ سمجھ کر اختیار کرے تو بدعت کیسے ہوسکتا ہے ۔ پس ایک احداث للدین (دین حاصل کرنے کے لیے کوئی جدید بات پیدا کرنا)ہے اور ایک احداث فی الدین (دین کے اندر کوئی نئی بات پیدا کرنا) ہے ۔ احداث للدین معنی ً سنت ہے اور احداث فی الدین بدعت ہے ۔ اس پر بحمداللہ کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا ۔ یہ (طریق) زیادہ تر جہلاء صوفیہ کی بدولت بدنام ہوا ہے ۔ محض گدی نشین ہونا ان کے یہاں مقصودِ طریق ہے حالانکہ گدھی نشین ہیں ، گھوڑی نشین ان کو کہاں نصیب۔(آداب ِ شیخ و مرید، صفحہ ۳۵۳)
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کے یہ ملفوظات شیخ و مرید کے باہمی ربط اور آداب سے متعلق ہیں ۔ خود بھی پڑھیں اور دوستوں سے بھی شئیر کریں ۔
مزید ملفوظات پڑھنے کے لئے ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
اپنے پاس محفوظ کرلیں ۔
اس طرح کے ملفوظات روزانہ اس واٹس ایپ چینل پر بھی بھیجے جاتے ہیں
https://whatsapp.com/channel/0029VaJtUph4yltKCrpkkV0r
چینل جوائن کریں

