اختلاف اہل علم میں طبائع کا اثر

اختلاف اہل علم میں طبائع کا اثر

حکیم الامت تھانوی رحمہ اللہ نے فرمایا امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے جو پانی کے باب میں تنگی کی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے مقام پر پانی کثرت سے موجود تھا دجلہ فرات بہتے تھے پس انہوں نے خوب دل کھول کر شرطیں لگائیں امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ چونکہ مکہ معظمہ میں تھے اور وہاں پانی کی قلت ہے اس لیے انہوں نے تنگی اس قدر نہیں کی بلکہ آسانی نکال دی امام مالک رحمۃ اللہ علیہ چونکہ مدینہ منورہ میں تھے اور وہاں اور بھی زیادہ پانی کی تکلیف تھی اس لیے انہوں نے اور بھی زیادہ آسانی کردی اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اختلاف اجتہاد میں بھی طبیعت کا اثر دخیل ہے کہ اپنے اپنے مقام کے لحاظ سے طبائع پر اثر پکڑ کر مختلف افعال ظاہر ہوئے اسی پر مشائخ کے اختلاف کو قیاس کر لینا چاہیے افعال کے اختلاف میں جو طبیعت کو دخل ہوتا ہے وہ اس قدر پوشیدہ ہوتا ہے کہ خود کو بھی محسوس نہیں ہوتا ( حسن العزیز)

Most Viewed Posts

Latest Posts

تقلید کا دور کبھی ختم نہیں ہو سکتا

تقلید کا دور کبھی ختم نہیں ہو سکتا حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:۔۔’’اجتہاد فی الدین کا دور ختم ہو چکا توہو جائے مگر اس کی تقلید کا دور کبھی ختم نہیں ہو سکتا‘ تقلید ہر اجتہاد کی دوامی رہے گی خواہ وہ موجودہ ہو یا منقضی شدہ کیونکہ...

read more

طریق عمل

طریق عمل حقیقت یہ ہے کہ لوگ کام نہ کرنے کے لیے اس لچر اور لوچ عذر کو حیلہ بناتے ہیں ورنہ ہمیشہ اطباء میں اختلاف ہوتا ہے وکلاء کی رائے میں اختلاف ہوتا ہے مگر کوئی شخص علاج کرانا نہیں چھوڑتا مقدمہ لڑانے سے نہیں رکتا پھر کیا مصیبت ہے کہ دینی امور میں اختلاف علماء کو حیلہ...

read more

اہل علم کی بے ادبی کا وبال

اہل علم کی بے ادبی کا وبال مذکورہ بالا سطور سے جب یہ بات بخوبی واضح ہوگئی کہ اہل علم کا آپس میں اختلاف امر ناگزیر ہے پھر اہل علم کی شان میں بے ادبی اور گستاخی کرنا کتنی سخت محرومی کی بات ہے حالانکہ اتباع کا منصب یہ تھا کہ علمائے حق میں سے جس سے عقیدت ہو اور اس کا عالم...

read more