احکام شرعیہ میں اختلاف کا سبب
حکیم الامت تھانوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں رہا یہ سوال کہ جب وحی ہر چیز کا حکم بے ترد دبیان کرتی ہے تو شرعی احکام میں اختلاف کیوں ہوتا ہے ایک عالم کسی بات کو فرض کہتا ہے دوسرا ناجائز اس کا جواب یہ ہے کہ یہ اختلاف وتردد خود وحی میں نہیں بلکہ اس کے سمجھنے میں فہم مختلف ہوتا ہے اس سے یہ اختلاف پیدا ہوتا ہے ایسا اختلاف آج ہی نہیں ہے بلکہ سلف میں بھی ہوا ہے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں مانعین زکوٰۃ کے بارے میں اختلاف ہوا کہ ان سے لڑنا چاہیے یا نہیں صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی رائے یہ تھی کہ اس وقت لڑنا خلاف مصلحت ہے لیکن حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی رائے پر جمے ہوئے تھے۔
اسکی (حسی) مثال نور آفتاب ہے کہ نور ایک ہے لیکن قوی البصر کو سب چیزیں صاف نظر آتی ہیں اور خفیف البصر کو دھندلی اور رنگین تو یہ اختلاف نور کا اختلاف نہیں بلکہ الابصار کا اختلاف ہے اسی طرح وحی میں قصور نہیں فہم کا قصور ہے الحاصل ہر حالت کے حسن و قبح کی وحی سے دریافت کرنا چاہیے عقل پر اس کا مدار نہ رکھنا چاہیے (حوالا بالاص ۳۳)
ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ اجتہادی اختلاف کی ایسی مثال ہے کہ جیسے نوکر سے یہ کہا جائے کہ گلاس میں پانی لائو۔
اب دو نوکروں میں اختلاف ہوا ایک یہ سمجھا کہ اصل مقصود پانی منگانا ہے اور گلاس کی قید اتفاقی ہے گلاس نہ ملا کٹورے میں لے آیا دوسرا یہ سمجھا کہ وہ قید بھی مقصود ہے اس لیے وہ گلاس ہی ڈھونڈتا پھرتا ہے ۔(الافاضات الیومیہ )
