ماہِ رمضان اور توبہ
از افادات: شیخ الاسلام مولانا مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ
حدیث شریف میں ہے کہ وہ شخص ناکام اور نامراد ہو جو رمضان میں اپنے گناہوں کی مغفرت نہ کرائے۔ اس لئے آدمی ایک مرتبہ سچے دل سے توبہ کرلے اور اس کی ساری شرائط پوری کرلے تو ساری گندگی دور ہو جائے گی اور آدمی ایسا ہو جائے گا کہ جیسا کہ اُس نے گناہ کبھی کیا ہی نہیں تھا۔ گناہ کو اس کے نامۂ اعمال سے ختم کردیا جاتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے۔ جب توبہ کو اتنا آسان کردیا پھر بھی مغفرت نہ کراسکے تو بہت ہٹ دھرم ہی ہوگا۔
توبہ چار باتوں کا نام ہے:۔
۔1. گناہ کو زہر قاتل سمجھنا اور اس پر نادم اور شرمندہ ہونا۔
۔2. فوراً اُس گناہ کو چھوڑنا۔
۔3. آئندہ گناہ نہ کرنے کا عزم کرنا۔
۔4. جس گناہ کی تلافی ممکن ہو، اُس کی تلافی کرنا۔
جہاں تک تلافی کا تعلق ہے تو تلافی میں کچھ وقت بھی لگ سکتا ہے۔۔۔ مثلاً نمازیں قضاء ہیں تو اُن کو ادا کرنے میں وقت لگے گا۔۔۔ کسی کے حقوق پامال ہوئے ہیں تو اُن کو ادا کرنے میں بھی کچھ وقت لگے گا۔ لیکن یہ پہلے تین کام تو کوئی وقت نہیں چاہتے، اُسی وقت جس وقت آدمی نے ارادہ کیا اُسی لمحہ میں یہ تینوں کام ہوسکتے ہیں، برا سمجھنا اور نادم ہونا، چھوڑ دینا اور آئندہ کے لیے عزم کرنا، اس میں کتنی دیر لگتی ہے، یہ فوراً ہو جاتا ہے اور جب ساتھ میں یہ ارادہ بھی ہو کہ اپنی باقی ماندہ زندگی میں تلافی کروں گا تو اس ارادے کے بعد گناہ تو اُسی وقت مٹ گئے الحمد للہ۔
میرے مالک کی رحمت ایسی ہے کہ اُس نے اُسی وقت گناہ مٹا دیئے کہ میرے بندہ نے ا رادہ کرلیا، چلو مٹا دو۔ اب وہ رفتہ رفتہ کرکے تلافی کرتا رہے گا۔ اگر بالفرض اتنی مہلت نہ ملی کہ پوری تلافی کرسکتا لیکن ارادہ بھی تھا اور اُس راستے پر چل بھی پڑا تھا، پھر بیچ میں موت آگئی تو اللہ جل شانہ کی رحمت سے اُمید ہے کہ اللہ تعالیٰ اُس شخص کو بھی محروم نہیں فرمائیں گے۔
شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کے ملفوظات اور تعلیمات پڑھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں:۔
https://readngrow.online/category/mufti-taqi-usmani-words/

