اعتکاف کے دو درجے

اعتکاف کے دو درجے

ارشاد فرمایا کہ اعتکاف کے دو درجے ہیں ۔ ایک درجہ تو کمال کا ہے ، وہ تو یہ ہے کہ رمضان کی بیس تاریخ کو مغرب سے پہلے اعتکاف میں بیٹھے اور عید کا چاند دیکھ کر باہر نکلے۔ اور دوسرا درجہ اس سے کم ہے اور وہ یہ کہ دس دن سے کم اعتکاف ہو لیکن یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ اگر کامل درجہ حاصل نہ ہو تو ناقص درجہ کے حاصل کرنے سے فضیلت حاصل نہیں ہوتی۔ اگر اس قدر نہ ہوگی تو کچھ تو ضرور ہی ہوجائے گی۔
صاحبو! اگر دس دن ممکن نہ ہوسکے تو نو دن سہی ، اس قدر بھی نہ ہو سکے تو سات دن سہی (تین دن ، دو دن سہی) غرض جس قدر بھی ہو سکے اور جتنے دن بھی ہوسکے چھوڑنا نہ چاہئے۔ الغرض اعتکاف کے مختلف درجات ہیں ۔ اگر پوری فضیلت حاصل کرناہو تو دس دن کا اعتکاف کرنا چاہئے یعنی جب تک عید کا چاند نہ نکل آئے ۔ اگر تیس دن کا چاند ہے تو دس دن ہوں گے اور اگر انتیس کا ہے تو نو ہی دن ہوں گے مگر شارع کی کیا رحمت ہے کہ دونوں صورتوں میں ثواب دس دن ہی کا ہوگا اور یوں تو ایک دن کا بلکہ ایک گھنٹہ کا بھی اعتکاف ہو سکتا ہے۔ ( احکامِ اعتکاف ، صفحہ ۲۱)

حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کے ہزاروں قیمتی ملفوظات نایاب موتی ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online/
پر موجود ہیں ۔ خود بھی پڑھئے اور دوسروں کو بھی ترغیب دیجئے ۔ یہ اآپکے لئے صدقہ جاریہ ہوگا ۔

Most Viewed Posts

Latest Posts