عاشورہ کو کس طرح گزاریں؟
اللہ تعالیٰ نے اس دن کو اپنی رحمت و برکت کے نزول کے لیے منتخب کرلیا تو اس دن کا تقدس یہ ہے کہ اس دن کو اس کام میں استعمال کیاجائے جو کام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے ہوں۔ سنت کے طور پر اس دن کے لیے صرف ایک حکم دیا گیا ہے کہ اس دن روزہ رکھا جائے۔ یہ حکم سنت ہے لیکن اس کے ساتھ یہ بھی ارشاد فرمایا گیا کہ اگر میں آئندہ سال زندہ رہا تو صرف عاشورہ کا روزہ نہیں رکھوں گا۔ بلکہ اس کے ساتھ ایک روزہ اور ملائوں گا۔ یعنی 9محرم یا 11 محرم کا روزہ بھی رکھوں گا۔ تاکہ یہودی جو کہ اس دن شکرانے کے طور پر روزہ رکھا کرتے تھے۔ ان کے ساتھ مشابہت ختم ہوجائے۔
اس سے معلوم ہوا کہ غیر مسلموں کے ساتھ ادنیٰ مشابہت بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پسند نہیں فرمائی۔ حالانکہ وہ مشابہت کسی برے اور ناجائز کام میں نہیں تھی بلکہ روزہ جیسی عبادت میں تھی۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بھی پسند نہیں فرمایا۔ کیوں؟ اس لیے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو جو دین عطا فرمایا ہے ۔۔۔ سارے ادیان سے ممتاز ہے۔۔۔ لہٰذا ایک مسلمان کا ظاہر و باطن بھی غیر مسلم سے ممتاز ہونا چاہیے۔۔۔ اس کا طرز عمل۔۔۔ اس کی چال ڈھال۔۔۔ اسکی وضع قطع۔۔۔ اسکا سراپا۔۔۔ اسکے اعمال و اخلاق عبادات وغیرہ ہر چیز غیر مسلموں سے ممتاز ہونی چاہیے۔
خدا کے لیے اس نقالی کو چھوڑ دیں ۔۔۔ اسوہ حسنہ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی نقالی کریں ۔۔۔ ان ظالموں کی نقالی کرکے تمہیں کیا حاصل ہوگا؟ دنیا میں بھی ذلت اور آخرت میں بھی رسوائی ہوگی۔
شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کے ملفوظات اور تعلیمات پڑھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں:۔
https://readngrow.online/category/mufti-taqi-usmani-words/

