اجتہاد و تقلید
فروعی و اجتہادی مسائل میں اجتہاد یا تقلید کی ضرورت ہوتی ہے اس لئے اجتہاد و تقلید کے بارے میں بھی چند حروف لکھ دینا مناسب ہے۔
صرف علم شریعت ہی نہیں بلکہ کسی بھی علم و فن میں اہل علم کی دو قسمیں ہوا کرتی ہیں کچھ حضرات استنباط و اجتہاد کے اہل ہوتے ہیں اور دوسرے حضرات ان کی روش کی تقلید اور ان کی آرا پر اعتماد کیا کرتے ہیں کیونکہ جو شخص کسی علم و فن میں خود مرتبہ اجتہاد پر فائز نہ ہو وہ اگر اس فن سے استفادہ کرنا چاہتا ہے لامحالہ اسے اہل اجتہاد کے اصول و نظریات پر اعتماد کرنا ہو گا۔
ٹھیک یہی دو صورتیں عمل بالشریعت کی ہیں جو شخص شریعت میں مجتہدانہ فہم و بصیرت رکھتا ہو ایک ایک باب میں شارع کے مقصد و منشا پر اس کی نظر ہو شریعت کے کلیات سے جزئیات کے استنباط کی صلاحیت رکھتا ہو اور استنباط کے اصول و قواعد اس کے لئے محض ’’دانستن‘‘ کا درجہ نہ رکھتے ہوں بلکہ یہ اس کا فطری ملکہ بن گئے ہوں اور وہ شارع کے مقاصد اور صالحین کے تعامل کی روشنی میں متعارض نصوص کی جمع و تطبیق میں مہارت رکھتا ہو اسے خود اجتہاد کرنا لازم ہے اور کسی مجتہد کی تقلید اس پر حرام ہے۔ لیکن جس شخص کو فہم و بصیرت کا یہ درجہ اور استنباط و اجتہاد کا یہ ملکہ حاصل نہیں یا اجتہاد کے آلات و شرائط اور ضروریات اسے میسر نہیں وہ اگر شریعت سے استفادہ کرنا چاہتا ہے تو اسے اہل اجتہاد کے فہم و بصیرت پر اعتماد لازم ہے اجتہادی صلاحیتوں اور اس کے آلات و شرائط کے بغیر اگر یہ اجتہاد کرے گا تو یہ خود رائی ہوگی۔ جس کا نتیجہ زیغ و ضلال کے سوا کچھ نہیں۔ارشاد نبوی ہے۔’۔
’ جس شخص نے اپنی رائے سے قرآن میں کلام کیا وہ اپنا ٹھکانا دوزخ بنائے‘‘
اور ایک روایت میں ہے کہ
۔’’جس نے بغیر علم کے قرآن میں کلام کیا وہ اپنا ٹھکانہ دوزخ بنائے‘‘۔
ملت اسلامیہ میں جتنے لوگ کج روی کج نظری کا شکار ہوئے اگر غور و تامل سے دیکھا جائے تو ان کی گمراہی کا یہی ایک سبب تھا کہ انہو ںنے اجتہادی صلاحیتوں سے محرومی کے باوصف ائمہ اجتہاد اور سلف صالحین پر اعتماد کرنے کے بجائے خود رائی و خود روی اختیار کی۔ اور قرآن و سنت میں برخود غلط اجتہاد کرنے بیٹھ گئے۔ اس سے واضح ہے کہ جس طرح جاہل کے لئے کسی عالم سے رجوع کرنا کوئی عار اور ذلت کی بات نہیں بلکہ یہی اس کے مرض جہل کا علاج ہے چنانچہ حدیث نبوی میں ہے ’’فَاِنَّمَاشِفَائُ الْعَیِّ السُّوَالُ‘‘ (درماندہ کا علاج پوچھنا ہے) ٹھیک اسی طرح جو عالم کہ خود مرتبہ اجتہاد پر فائز نہ ہو اس کا اجتہاد پر اعتماد کرنا بھی کوئی عار اور ذلت نہیں بلکہ ایسی حالت میں خود رائی اور ترک تقلید ننگ و عار کا موجب ہے۔
جہاں تک مرتبہ اجتہاد کے شرائط اور اس کے آلات و ضروریات کا تعلق ہے ان کی تفصیل کی یہاں گنجائش نہیں۔ تاہم یہ پیش نظر رہنا چاہئے کہ تیسری صدی کے بعد امت میں کوئی مجتہد مطلق پیدا نہیں ہوا امام دارقطنی امام حاکم اور امام حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہم اللہ (جنہیں دنیانے حافظ الدنیا کا لقب دیا ہے)۔
وہ بھی اجتہاد مطلق کے منصب سے محروم ہیں۔ حافظ ابن تیمیہ اور حافظ ابن القیم رحمہ اللہ معقولات و منقولات کے امام اور علم کے سمندر ہیں ۔
اس کے باوجود امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے مقلد ہیں اور جن مسائل میں ان بزرگوں نے اپنے اجتہاد سے کوئی رائے قائم فرمائی ہے اسے بھی امت میں شرف قبول حاصل نہیں ہو سکا بلکہ انہیں ’’شاذ اقوال‘‘ کی فہرست میں جگہ ملی ہے ہندوستان کی زرخیز سرزمین میں امام الہند شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ اور ان کے جلیل القدر صاحبزادوں سے بڑھ کر علوم اسلامیہ کا امام اور اسرار الٰہیہ کا رمز شناس کون ہوا ہو گا لیکن اجتہاد مطلق کا درجہ ان کو بھی حاصل نہ ہو سکا۔
خود حضرت شاہ صاحبؒ ’’فیوض الحرمین‘‘ میں لکھتے ہیں کہ تین باتیں میرے عندیہ اور میلان طبع کے قطعاً خلاف تھیں مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے میلان طبع کے علی الرغم مجھے ان کی تاکید و وصیت فرمائی۔
ان تین امور میں سے دوسری بات ان مذاہب اربعہ کی تقلید کی وصیت تھی کہ میں ان سے خروج نہ کروں اور جہاں تک ممکن ہو تطبیق کی کوشش کروں۔ میری سرشت تقلید سے قطعاً انکار اور عار کرتی تھی لیکن یہ ایک ایسی چیز تھی جس کا مجھے اپنے مزاج کے علی الرغم پابند کیا گیا۔اور یہ بھی شاہ صاحبؒ نے فیوض الحرمین ہی میں تحریر فرمایا ہے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پہچان کرائی کہ مذہب حنفی میں ایک بہت ہی عمدہ طریقہ ہے جو اس سنت سے قریب تر ہے جو امام بخاری رحمہ اللہ اور ان کے رفقاء کے زمانہ میں جمع اور منقح کی گئی ہے۔
الغرض امام الہند شاہ ولی اللہ ایسی نابغہ شخصیت کو بھی اجتہاد مطلق کا مقام میسر نہیں آتا بلکہ ان پر ان کے مزاج کے قطعی خلاف مذاہب اربعہ کی تقلید کی پابندی عائد کی جاتی ہے اور جن چند مسائل میں حضرت شاہ صاحبؒ نے تفرد اختیار فرمایا انہیں امت میں تو کیا قبول عام نصیب ہوتا خود ان کے جلیل القدر صاحبزادوں اور ان کے خاندان میں بھی ان آرا کو رواج اور فروغ میسر نہیں آیا۔
اور یہ تو خیر گذشتہ صدیوں کے اکابر تھے خود ہمارے زمانہ میں حضرت امام العصر مولانا محمد انور شاہ کشمیری نور اللہ مرقدہ کی زیارت سے مشرف ہونے والے حضرات تواب بھی موجود ہیں۔ حضرت شاہ صاحبؒ کو حق تعالیٰ نے جو علمی تبحر عطا فرمایا تھا اس کی نظیر ان کے ہم عصر علماء میں تو کیا قرون سابقہ میں بھی خال خال ہی نظر آتی ہے ہمارے شیخ حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ حضرت شاہ صاحبؒ سے کسی فن کا کوئی مسئلہ دریافت کیا جاتا تو ایسا محسوس ہوتا تھا گویا ساری عمر بس اسی ایک مسئلہ کی تحقیق میں گزری ہے پورا کتب خانہ گویا ان کے ذہن میں ہے۔
اس بے نظیر وسعت مطالعہ استحضار اور دقت نظر کے باوجود وہ خود ہی فرماتے ہیں۔
۔’’میرے نزدیک فقہ سے مشکل کوئی فن نہیں چنانچہ میں تمام فنون میں اپنی مستقل رائے اور تجربہ رکھتا ہوں جو چاہتا ہوں فیصلہ کرتا ہوں اہل فن کے اقوال میں سے جس کو چاہتا منتخب کر لیتا ہوں اور خود بھی رائے قائم کر لیتا ہوں لیکن فقہ میں مقلد محض ہوں۔ اس میں نقل و روایت کے سوا میری کوئی رائے نہیں‘‘۔ (فیض الباری)
اور ’’نفحۃ العنبر‘‘ میں حضرتؒ کا ارشاد اس طرح نقل کیا ہے۔
۔’’میں فقہ کے سوا دیگر عقلی و نقلی فنون میں کسی امام کا مقلد نہیں ہوں۔ ہاں !فقہ میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا مقلدہوں پس ہر علم و فن میں میری ایک مستقل رائے ہے سوائے فقہ کے اور بسا اوقات جب میں ائمہ مجتہدین کے اقوال کی تخریج میں غور کرتا ہوں تو میری فکری پرواز مدارک اجتہاد کے ادراک سے قاصر رہتی ہے۔
اور میں ائمہ اجتہاد کے مدارک کی وسعت و گہرائی پر ششدر رہ جاتا ہوں‘‘۔ پس جب یہ تمام اکابر اپنے تبحر علمی کے باوصف مجتہدین کی تقلید سے بے نیاز نہیں۔
تو دوسرا کون ہو سکتا ہے اور سچی بات یہ ہے کہ اس زمانہ میں اکابر کے اعتماد و تقلید پر ہی عمل بالسنۃ کامدار ہے اور تقلید کے سوا کوئی چارہ کار۔ نہیں اب خواہ کوئی امام اعظم ابو حنیفہ امام مالک امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ کی تقلید کر لے۔
یا بعد کے ایسے لوگوں کی جو علم و دانش فہم و بصیرت زہدو تقویٰ طہارتِ قلب اور صفائے باطن میں ان اکابر کی گرد کو بھی نہیں پہنچے واﷲ الموفق
